تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
رسولِ اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت تاریخِ انسانیت کے عظیم ترین سانحات میں سے ایک ہے۔ وہ عظیم ہستی دنیا سے رخصت ہوئی جس کے ذریعے انسانیت نے توحید، عدل، اخلاق، رحمت اور ہدایت کا راستہ پایا۔ آپ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ انسانوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان، معرفت اور انسانیت کی روشنی عطا کرنے میں صرف فرمائی۔
آپ کا یومِ شہادت، 28 صفر، اسی عظیم مصیبت کی یاد دلاتا ہے؛ وہ دن جب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیاوی زندگی کا سفر مکمل کرکے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں تشریف لے گئے۔
بیماری کے باوجود مسجد میں تشریف آوری
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں بیماری شدت اختیار کرچکی تھی، لیکن اس شدید علالت کے باوجود آپ امت کی ہدایت، نماز کی پابندی، حقوق العباد اور دیگر اہم امور کے بارے میں مسلسل تاکید فرماتے رہے۔
بیماری کی شدت کے باوجود بعض اوقات آپ مسجدِ نبوی تشریف لے جاتے، لوگوں کے ساتھ نماز ادا فرماتے اور انہیں اہم امور کی یاد دہانی کراتے تھے۔
ایک دن بیماری کی حالت میں، جبکہ آپ نے سرِ مبارک پر کپڑا باندھ رکھا تھا اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور فضل بن عباس آپ کے دونوں بازوؤں کو تھامے ہوئے تھے، آپ مسجد میں تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔
آپ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے لوگو! اب وہ وقت قریب آگیا ہے کہ میں تمہارے درمیان سے رخصت ہوجاؤں۔ اگر میں نے کسی سے کوئی وعدہ کیا ہے تو میں اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہوں، اور جس شخص کا مجھ پر کوئی حق یا قرض ہو، وہ بیان کرے تاکہ میں اسے ادا کردوں۔‘‘
اسی موقع پر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! کچھ عرصہ پہلے آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر میں شادی کروں گا تو آپ مجھے کچھ رقم عطا فرمائیں گے۔‘‘
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوراً فضل بن عباس کو حکم دیا کہ اس شخص کو وعدے کے مطابق رقم ادا کردیں۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں بھی لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کو انتہائی اہمیت دے رہے تھے۔
قصاص کا واقعہ؛ شہادت سے پہلے حقوق کی ادائیگی
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت سے چند روز قبل ایک مرتبہ آپ دوبارہ مسجدِ نبوی تشریف لائے اور لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’جس شخص کا مجھ پر کوئی حق ہے، وہ کھڑا ہوکر اپنا حق بیان کرے؛ کیونکہ دنیا میں قصاص لینا آخرت کے قصاص سے زیادہ آسان ہے۔‘‘
اس موقع پر سوادہ بن قیس نامی شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! طائف کی جنگ سے واپسی کے موقع پر آپ ایک اونٹ پر سوار تھے۔ آپ نے اپنا تازیانہ اٹھایا تاکہ اونٹ کو ہانکیں، لیکن اتفاقاً وہ تازیانہ میرے پیٹ پر لگ گیا۔ اب میں اس کا قصاص لینا چاہتا ہوں۔‘‘
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہی تازیانہ لاکر پیش کیا جائے۔ پھر آپ نے لباسِ مبارک اوپر اٹھادیا تاکہ سوادہ قصاص لے سکے۔
اس وقت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب غم سے نڈھال اور آنکھوں میں آنسو لئے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ سب کے دلوں میں یہ سوال تھا کہ کیا سوادہ واقعی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قصاص لے گا؟
اچانک سوادہ آگے بڑھا اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینۂ مبارک کا بوسہ لے لیا۔
اس موقع پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوادہ کے لئے دعا فرمائی: ’’اے اللہ! سوادہ کو معاف فرما، جس طرح اس نے تیرے رسول کو معاف کردیا ہے۔‘‘(مناقب آل ابی طالب، ج 1، ص 164)
یہ واقعہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ، حقوق کی ادائیگی اور امت کے سامنے جواب دہی کے احساس کی ایک دل نشین مثال ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کی شدت
جیسے جیسے بیماری شدت اختیار کرتی گئی، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت انتہائی نازک ہوتی چلی گئی۔
آپ کے اہلِ بیت علیہم السلام آپ کے بسترِ علالت کے قریب موجود رہتے تھے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے والدِ گرامی کے بسترِ مبارک کے پاس بیٹھی رہتی تھیں اور آپ کے نورانی چہرے کو دیکھ کر غمگین ہوتی تھیں۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے دل پر اپنے والدِ بزرگوار کی بیماری کا گہرا اثر تھا۔ آپ حضرت ابوطالب علیہ السلام کا وہ معروف شعر پڑھ رہی تھیں جو انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں کہا تھا:
"وَأَبْيَضُ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ
ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ"
(’’وہ روشن چہرہ کہ جس کے وسیلے سے بادلوں سے بارش طلب کی جاتی ہے؛ وہ یتیموں کا سہارا اور بیواؤں کا محافظ ہے۔‘‘)
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دخترِ گرامی کو قرآنِ کریم کی اس آیت کی طرف متوجہ فرمایا: "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللّٰهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللّٰهُ الشَّاكِرِينَ۔"
(’’محمد اللہ کے رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم اپنے پچھلے طریقے کی طرف پلٹ جاؤ گے؟ اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل واپس پلٹ جائے، وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور اللہ شکر گزاروں کو عنقریب جزا عطا فرمائے گا۔‘‘)
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے آخری سرگوشی
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری ایام میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا مسلسل آپ کے بسترِ مبارک کے قریب رہتی تھیں۔
ایک روز رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دخترِ گرامی کو قریب آنے کا اشارہ فرمایا۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا قریب ہوئیں تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے آہستہ آواز میں کچھ فرمایا۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا یہ سن کر رونے لگیں۔
پھر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ انہیں قریب بلایا اور کچھ فرمایا۔ اس مرتبہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے چہرۂ مبارک پر مسکراہٹ آگئی۔
وہاں موجود لوگوں نے اس تبدیلی کو محسوس کیا اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے اس کی وجہ دریافت کی، لیکن آپ نے فرمایا: ’’میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز ان کی زندگی میں فاش نہیں کروں گی۔‘‘
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ پہلی مرتبہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنی وفات کی خبر دی، جس پر وہ رونے لگیں۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’تم میرے اہلِ بیت میں سب سے پہلی فرد ہوگی جو مجھ سے آ ملو گی۔‘‘
یہ سن کر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا مسرور ہوئیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ زیادہ عرصہ اپنے والدِ گرامی سے دور نہیں رہیں گی۔(الطبقات الکبریٰ، ج 2، ص 247؛ الکامل فی التاریخ، ج 2، ص 219)
آخری ایام میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیماری کے آخری ایام میں نماز کی پابندی اور زیرِ دست افراد کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرماتے رہے۔
آپ نماز کے بارے میں بار بار تاکید فرماتے تھے: "الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ" (’’نماز! نماز!‘‘)
ایک روایت کے مطابق کعب الاحبار نے خلیفۂ دوم سے پوچھا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالتِ احتضار میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’ان سے پوچھو۔‘‘
حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: ’’رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر میرے کندھے پر تھا اور آپ فرما رہے تھے: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ؛ نماز! نماز!‘‘»(الطبقات الکبریٰ، ج 2، ص 254)
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس کے سینے سے لپٹ کر وفات پائی؟
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری لمحات میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام آپ کے قریب تھے۔
بعض روایات میں نقل ہوا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے بھائی کو بلاؤ۔‘‘
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت مزید نازک ہوئی تو مولا علی علیہ السلام نے آپ کو سہارا دیا اور اپنے سینے سے لگا لیا۔
بعض روایات میں جناب ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی آغوش میں وفات پائی اور حضرت علی علیہ السلام نے فضل بن عباس کے ہمراہ آپ کو غسل دیا۔
حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے منقول ہے: "وَلَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللّٰهِ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَعَلَى صَدْرِي... وَلَقَدْ وَلَّيْتُ غُسْلَهُ وَالْمَلَائِكَةُ أَعْوَانِي" (رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں وفات پائی کہ آپ کا سر میرے سینے پر تھا۔ میں نے خود آپ کو غسل دیا، جبکہ فرشتے میری مدد کررہے تھے۔)
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری کلمات
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری لمحات کے بارے میں روایات میں «الرَّفِيقَ الْأَعْلَى» کا ذکر ملتا ہے۔
ایک روایت میں جناب عائشہ سے نقل ہوا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرضِ وفات میں فرمایا: "اللّٰهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى" (’’اے اللہ! رفیقِ اعلیٰ کے ساتھ۔‘‘)
بعض روایات میں یہ الفاظ بھی نقل ہوئے ہیں: "لَا، مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى" (’’نہیں، بلکہ رفیقِ اعلیٰ کے ساتھ۔‘‘)
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "فَأُولٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولٰئِكَ رَفِيقًا۔" (’’یہ لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین؛ اور یہ کتنے بہترین ساتھی ہیں۔‘‘)
یوں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری اختیار فرمائی اور دنیاوی زندگی کا آخری سفر مکمل ہوا۔
28 صفر مسلمانوں، بالخصوص محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے لیے غم و اندوہ کا دن ہے۔ رسولِ اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن آپ کی تعلیمات، آپ کی سیرت، آپ کا لایا ہوا قرآن اور آپ کی عطا کردہ ہدایت آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
آپ کی رحلت امت کے لیے ایک عظیم صدمہ تھی۔ مدینہ منورہ پر غم کی ایسی فضا طاری ہوئی جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تدفین
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل و کفن کے بعد آپ کو اسی حجرۂ مبارک میں دفن کیا گیا جہاں آپ نے وفات پائی تھی۔
حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین اور تدفین کی ذمہ داری ادا فرمائی۔
یوں مدینہ منورہ کی وہ سرزمین، جس نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت، عبادت، ہجرت اور جدوجہد کے عظیم ایام دیکھے تھے، آپ کے مدفن کی سعادت سے بھی سرفراز ہوئی۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا نوحہ و گریہ
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا غم ناقابلِ بیان تھا۔
آپ نے فرمایا: "إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، انْقَطَعَ عَنَّا خَبَرُ السَّمَاءِ۔" (’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ہم سے آسمانی خبر اور وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔‘‘)
اور اپنے والدِ گرامی کو یاد کرتے ہوئے فرماتی تھیں: "يَا أَبَتَاهْ، إِلَى جَبْرَئِيلَ نَنْعَاهُ، انْقَطَعَتْ عَنَّا أَخْبَارُ السَّمَاءِ۔"
’’اے میرے بابا! اب آپ کی جدائی کا غم جبرئیل سے بیان کرنا ہوگا۔ آپ کی وفات کے ساتھ ہمارے لیے آسمانی خبریں منقطع ہوگئیں۔‘‘
آپ کے اشعار میں بھی اپنے والدِ گرامی کی جدائی کا درد نمایاں ہے:
"إِذَا مَاتَ يَوْمًا مَيِّتٌ قَلَّ ذِكْرُهُ
وَذِكْرُ أَبِي مُذْ مَاتَ وَاللّٰهِ أَزْيَدُ
تَأَمَّلْ إِذَا الْأَحْزَانُ فِيكَ تَكَاثَرَتْ
أَعَاشَ رَسُولُ اللّٰهِ أَمْ ضَمَّهُ الْقَبْرُ"
’’جب کوئی شخص دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کا ذکر کم ہوجاتا ہے، لیکن خدا کی قسم! میرے والد کے وصال کے بعد ان کا ذکر روز بروز بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ذرا غور کرو! جب تمہارے دل میں غم و اندوہ بڑھ جائے تو کیا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ ہیں یا قبر نے انہیں اپنے اندر جگہ دے دی ہے؟‘‘
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام پر مصائب
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کا غم ابھی تازہ تھا، مدینہ کی گلیاں ابھی نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی پر اشک بار تھیں، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے دل پر اپنے بابا کی جدائی کا پہاڑ ٹوٹ چکا تھا، مگر غم کی یہ داستان یہیں ختم نہ ہوئی۔
جس گھر میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لایا کرتے تھے، جس دروازے پر کھڑے ہوکر اپنی بیٹی کو سلام کیا کرتے تھے، اسی گھر پر بعد ازاں ایسے مصائب کے سائے چھا گئے جنہیں بیان کرتے ہوئے بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے بابا کی جدائی کا غم بھی سہا اور اپنے حق و حرمت پر آنے والی آزمائشوں کو بھی برداشت کیا۔ وہ بیٹی جس کے بارے میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت بھری نگاہیں گواہی دیتی تھیں، وہی بیٹی کچھ ہی عرصے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئیں اور اپنے بابا سے جاملیں۔
پھر وقت نے حسنِ مجتبیٰ علیہ السلام کو بھی ایسے زخم دیے جن کا مداوا دنیا کی کسی دوا میں نہ تھا۔ اور جب تاریخ کربلا تک پہنچی تو اہلِ بیت علیہم السلام کے صبر و قربانی کی انتہا ہوگئی۔
نواسۂ رسول، فرزندِ فاطمہ، حضرت حسین ابنِ علی علیہ السلام اپنے عزیزوں اور اصحاب کی لاشوں کے درمیان تنہا کھڑے تھے۔ ایک طرف ظلم کا لشکر تھا اور دوسری طرف رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گھرانہ۔
علی اکبر علیہ السلام کی جوانی، قاسم علیہ السلام کی مسکراہٹ، عباس علیہ السلام کے بازو، علی اصغر علیہ السلام کی معصومیت اور آخر میں حسین علیہ السلام کا خون—سب کچھ راہِ حق میں قربان ہوگیا۔
کربلا نے دنیا کو بتادیا کہ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کا راستہ صرف الفاظ کا راستہ نہیں، بلکہ قربانی، وفا، صبر اور حق پر استقامت کا راستہ ہے۔
اور آج جب ہم اہلِ بیت علیہم السلام کی مظلومیت کو یاد کرتے ہیں تو دل بے اختیار پوچھتا ہے:
وہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کہاں ہیں جو اپنے بابا کو یاد کرکے رویا کرتی تھیں؟
وہ حسن علیہ السلام کہاں ہیں جنہوں نے امت کی خاطر زہر کا جام نوش فرمایا؟
وہ حسین علیہ السلام کہاں ہیں جنہوں نے دینِ خدا کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا؟
اور وہ زینب سلام اللہ علیہا کہاں ہیں جنہوں نے کربلا کے بعد اپنے دل پر پہاڑ اٹھایا، مگر حق کا پرچم جھکنے نہ دیا؟
یہی اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت ہے کہ مصیبتیں ان کے راستے میں آتی رہیں، مگر ان کے قدم حق سے نہ ہٹے۔ ان کے جسم زخمی ہوئے، دل خون ہوئے، گھر اجڑے، عزیز قربان ہوئے، مگر ان کی زبان سے حق کی صدا خاموش نہ ہوئی۔
آج صدیوں بعد بھی جب ان کا ذکر ہوتا ہے تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، سینے غم سے بھر جاتے ہیں اور دل سے بے اختیار یہی صدا نکلتی ہے:
اے آلِ محمد علیہم السلام! ہم آپ کے دکھوں کو پوری طرح سمجھ تو نہیں سکتے، مگر آپ کے غم میں رونا اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ آپ کی مظلومیت ہماری آنکھوں کا آنسو، آپ کی قربانی ہمارے دل کی روشنی اور آپ کی محبت ہماری زندگی کا سرمایہ ہے۔
سلام ہو آپ پر، اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت!
سلام ہو آپ کے صبر پر!
سلام ہو آپ کی مظلومیت پر!
اور سلام ہو اس حق پر جسے آپ نے اپنی قربانیوں سے ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَالْعَنْ أَعْدَاءَهُمْ أَجْمَعِينَ.









آپ کا تبصرہ