منگل 14 جولائی 2026 - 22:12
ام المؤمنین ام ابراہیم حضرت ماریہ قبطیہ (س)

حوزہ/ام المومنین، ام ابراہیم حضرت ماریہ بنتِ شمعون المعروف بہ ماریہ قبطیہ سلام اللہ علیہا رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکرمہ زوجات میں سے ایک اور آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدۂ ماجدہ تھیں۔ آپ کا تعلق مصر کے قبطی خاندان سے تھا اور آپ اپنی پاکیزگی، دیانت، حسنِ اخلاق اور بلند کردار کی وجہ سے ممتاز مقام و مرتبہ رکھتی تھیں۔

ترجمہ و ترتیب: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی|

ام المومنین، ام ابراہیم حضرت ماریہ بنتِ شمعون المعروف بہ ماریہ قبطیہ سلام اللہ علیہا رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکرمہ زوجات میں سے ایک اور آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدۂ ماجدہ تھیں۔ آپ کا تعلق مصر کے قبطی خاندان سے تھا اور آپ اپنی پاکیزگی، دیانت، حسنِ اخلاق اور بلند کردار کی وجہ سے ممتاز مقام و مرتبہ رکھتی تھیں۔

7 ہجری میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مصر و اسکندریہ کے حاکم مقوقس کے نام دعوتِ اسلام کا خط روانہ فرمایا۔ اگرچہ مقوقس مسلمان نہ ہوا، لیکن اس نے احتراماً متعدد تحائف بھیجے، جن میں حضرت ماریہ قبطیہ سلام اللہ علیہا، ان کی بہن سیرین اور دیگر تحائف شامل تھے۔

واپسی کے سفر میں صحابی پیغمبر جناب حاطب بن ابی بلتعہ نے دونوں بہنوں کو اسلام کی دعوت دی، جسے انہوں نے خوش دلی سے قبول کر لیا۔ مدینہ پہنچنے کے بعد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کو اپنی زوجیت میں قبول فرمایا، جبکہ ان کی بہن سیرین کا نکاح جناب حسان بن ثابت سے کر دیا۔

عقد کے بعد ابتدا میں حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا جناب حارثہ بن نعمان کے مکان میں مقیم رہیں، لیکن بعد میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے بالائی علاقے عالیہ میں واقع اپنے باغ مشربۂ اُمِّ ابراہیم میں ان کی مستقل رہائش کا انتظام فرمایا۔

یہیں حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا سکونت پذیر رہیں اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر ان سے ملنے، خبرگیری اور ملاقات کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔

شیعہ تاریخی روایات کے مطابق رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا سے خصوصی محبت بعض ازواج، خصوصاً جناب عائشہ اور جناب حفصہ، کے لئے باعثِ حسد بنی۔

بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کو اذیتیں پہنچائی گئیں اور ان کے بارے میں نامناسب گفتگو کی جاتی تھی، لیکن رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ان کی دلجوئی فرماتے اور ان کا احترام برقرار رکھتے تھے۔

سورۂ تحریم کے نزول کا پس منظر

مفسرین کے مطابق ایک موقع پر جناب حفصہ اپنے والد کے گھر گئی تھیں۔ ان کی غیر موجودگی میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کے پاس تشریف لے گئے۔ جناب حفصہ واپس آئیں تو ناراض ہوئیں۔

روایات کے مطابق رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی دلجوئی کے لئے حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کو اپنے اوپر حرام کرنے کا عہد فرمایا اور اس بات کو راز رکھنے کی تلقین کی، مگر حضرت حفصہ نے یہ راز حضرت عائشہ سے بیان کر دیا۔

اس موقع پر سورۂ تحریم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں: "اے نبی! آپ اس چیز کو، جسے اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے، اپنی ازواج کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہیں؟" (سورۂ تحریم، آیت 1)

تفاسیر کے مطابق ان آیات میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دی گئی اور بعض ازواج کے رویّے پر تنبیہ فرمائی گئی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت

ذی الحجہ آٹھ ہجری میں حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کے بطن سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔

روایات کے مطابق حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو "ابو ابراہیم" کہہ کر مبارک باد دی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بے حد مسرت کا باعث تھی، لیکن چند ماہ بعد ان کا وصال ہو گیا، جس سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شدید صدمہ پہنچا۔

حدیثِ افک اور حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کی براءت

روایت کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا پر جریح قبطی کے حوالے سے ایک ناروا الزام لگایا گیا۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حقیقت کی تحقیق کے لئے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو روانہ فرمایا۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ جریح اس الزام کا سبب بن ہی نہیں سکتا تھا، لہٰذا حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کی پاک دامنی مکمل طور پر ثابت ہو گئی۔

شیعہ مفسرین، خصوصاً علی بن ابراہیم قمی، کے مطابق سورۂ نور کی آیاتِ افک حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کی براءت کے سلسلے میں نازل ہوئیں، اگرچہ اہلِ سنت کی اکثریت اس سببِ نزول سے اختلاف کرتی ہے۔

آیاتِ افک کے بارے میں شیعہ اور اہلِ سنت کا مؤقف

شیعہ نقطۂ نظر

شیعہ علماء کے نزدیک حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا پر لگایا گیا الزام ہی وہ واقعہ ہے جس کے بارے میں سورۂ نور کی آیاتِ افک نازل ہوئیں۔

اہلِ سنت کا نقطۂ نظر

اہلِ سنت کی مشہور رائے کے مطابق یہ آیات حضرت عائشہ سے متعلق واقعۂ افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔

شیعہ علماء کے دلائل

شیعہ علماء نے اپنے موقف کے حق میں متعدد دلائل ذکر کئے ہیں، جن میں اہم یہ ہیں:

- زمانی مطابقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے۔

- حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا پر تہمت کا واقعہ متعدد تاریخی مصادر میں نقل ہوا ہے۔

- بعض اہلِ سنت کے تاریخی مآخذ بھی اس واقعہ کی اصل کو تسلیم کرتے ہیں۔

- بعض روایات کی اسناد اور متن کے حوالے سے اہلِ سنت کے مشہور موقف پر علمی اشکالات وارد کئے گئے ہیں۔

حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت و عظمت

روایات اور متعدد تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکرمہ زوجات میں شامل تھیں۔

اس کی تائید میں درج ذیل امور پیش کئے جاتے ہیں:

- آپ کے لئے پردے کے احکام نافذ کئے گئے۔

- رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کو قبطیوں کا داماد فرمایا۔

- رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ بھی دیگر ازواجِ رسول کی طرح تمام مردوں پر حرام قرار پائیں۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کا بے حد احترام فرماتے تھے۔

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام ہمیشہ ان کے حامی رہے، ان کی ضروریات کا خیال رکھتے اور ان پر لگائے گئے الزامات کی تحقیق کر کے ان کی براءت کو واضح فرمایا۔

فضائل و اخلاق

حضرت ماریہ قبطیہ سلام اللہ علیہا نہایت پاک دامن، عبادت گزار، باحیا، نیک سیرت اور صالحہ خاتون تھیں۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے خصوصی محبت فرماتے تھے اور اہلِ مصر کے بارے میں فرمایا: "جب تم مصر فتح کرو تو وہاں کے لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، کیونکہ میرا ان سے دامادی کا رشتہ ہے۔"

یہ ارشاد حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

وفات رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد

تاریخی روایات کے مطابق رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا نسبتاً گوشہ نشین زندگی گزارتی رہیں۔

بعض تاریخی مصادر کے مطابق پہلے دور خلافت میں ان کے لئے وظیفہ مقرر کیا گیا، جو دوسرے دور میں بھی جاری رہا۔

وفات حسرت آیات

حضرت ماریہ قبطیہ سلام اللہ علیہا کی وفات محرم الحرام 16 ہجری میں ہوئی۔

جب حاکم وقت کو ان کی وفات کی خبر موصول ہوئی تو آپ کی وفات اور تشییع کا رسمی اعلان کیا، غسل و کفن اور نماز کے بعد جنت البقیع میں سپرد خاک ہوئیں۔

ام المومنین ام ابراہیم حضرت ماریہ قبطیہ سلام اللہ علیہا اسلامی تاریخ کی ان عظیم خواتین میں شامل ہیں جنہیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ ہونے کا شرف، اور اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت و احترام حاصل ہوا۔ تاریخی کتب میں آپ کی پاک دامنی، بلند اخلاق، عبادت گزاری اور وفاداری کو نمایاں طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ صبر، عفت، ایثار اور اخلاص کی روشن مثال ہے اور اہلِ ایمان کے لئے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha