بدھ 15 جولائی 2026 - 12:41
استادِ حوزۂ علمیہ خواہران: حجاب، خواتین کی خودمختاری اور عزت و وقار کا ذریعہ ہے

حوزہ/حوزۂ علمیہ خواہران کی استاد محترمہ فاطمہ اسفندیاری نے کہا ہے کہ حقیقی خودمختار عورت وہ ہے جو اپنی شناخت، اپنے مقصد اور اپنی منزل سے آگاہ ہو۔ ان کے مطابق حجاب اس کی شخصیت کے لیے ایک حفاظتی ڈھال ہے، تاکہ وہ اپنی توانائی کو ظاہری نمائش کے بجائے معاشرے میں مثبت اثرات پیدا کرنے پر صرف کر سکے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استادِ حوزہ علمیہ خواہران محترمہ فاطمہ اسفندیاری نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ حقیقی خودمختار عورت وہ ہے جو اپنی شناخت، اپنے مقصد اور اپنی منزل سے آگاہ ہو۔ ان کے مطابق حجاب اس کی شخصیت کے لیے ایک حفاظتی ڈھال ہے، تاکہ وہ اپنی توانائی کو ظاہری نمائش کے بجائے معاشرے میں مثبت اثرات پیدا کرنے پر صرف کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ جدید دنیا میں دینی اور ثقافتی اصالت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دین کی اصل تعلیمات اور زمانے کی ثقافتی روایات میں فرق کیا جائے۔

ان کے مطابق بہت سی چیزیں جنہیں آج "دینی اصالت" سمجھا جاتا ہے، درحقیقت گزشتہ ادوار کی ثقافتی تعبیرات ہیں، جبکہ اصل معیار قرآنِ کریم ہے۔ دین کی اصالت عدل، توحید، عفت اور انسانی کرامت جیسے دائمی اصولوں کو محفوظ رکھتے ہوئے زمانے کے مطابق ذرائع اختیار کرنے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصالت کا مطلب صرف پرانی روایات کو برقرار رکھنا نہیں، بلکہ انہیں آج کے دور کے تقاضوں کے مطابق نئی معنویت دینا ہے۔ حیا ایک دائمی دینی قدر ہے، لیکن اس کے اظہار کے انداز ہر دور میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ نئی نسل پر ماضی کے طرزِ زندگی کو مسلط کرنے کے بجائے حیا کے حقیقی مفہوم کو عصرِ حاضر کے مطابق پیش کیا جانا چاہیے، کیونکہ طرزِ زندگی محبت اور رغبت سے بنتا ہے، جبر سے نہیں۔

فاطمہ اسفندیاری نے زور دیا کہ دین کو صرف پابندیوں کے مجموعے کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے سکون، حسن اور معنویت کا سرچشمہ بنا کر متعارف کرانا چاہیے۔ لوگوں کو صرف غلط طرزِ زندگی سے منع کرنے کے بجائے صحیح طرزِ زندگی کو خوبصورت انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ وہ اپنی مرضی سے اسے اختیار کریں۔

انہوں نے کہا کہ آج عفت کو اکثر صرف قانونی پابندیوں یا ظاہری لباس تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ قرآن کی نظر میں عفت تقویٰ اور صبر کی طرح ایک باطنی اور روحانی صفت ہے، جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ سے محبت ہے۔ اس لیے خاندان میں بچوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ عفت ان کی شخصیت کی عزت اور بلندی کا راستہ ہے، نہ کہ ایک بوجھ یا قید۔

انہوں نے مزید کہا کہ عفت صرف لباس تک محدود نہیں بلکہ زبان، نگاہ، دوسروں کی عزت، غصے پر قابو اور خواہشاتِ نفس کے اعتدال تک پھیلی ہوئی ایک جامع اخلاقی صفت ہے۔ جب بچے اپنے والدین کو ان تمام میدانوں میں باعمل دیکھتے ہیں تو عفت ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے، نہ کہ صرف ایک قانون۔

ان کے مطابق، گھر ایسا محفوظ ماحول ہونا چاہیے جہاں بچے اپنے سوالات، وسوسوں اور مشکلات کو خوف یا ڈانٹ کے بغیر والدین سے بیان کر سکیں۔ محبت، اعتماد اور عزت کا ماحول ہی عفت کو مستقل کردار کا حصہ بناتا ہے۔

فاطمہ اسفندیاری نے کہا کہ آج خواتین کو بااختیار بنانے کے تصور کو غلط طور پر ظاہری معیاروں اور مردانہ زاویۂ نگاہ سے جوڑ دیا گیا ہے، جبکہ حجاب کو بھی بعض اوقات صرف ایک لازمی لباس یا رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ حجاب کو صرف جسم ڈھانپنے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی قرآنی فکر کے طور پر سمجھنا چاہیے جس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کی شخصیت، کردار اور علمی و اخلاقی صلاحیتیں اس کی ظاہری کشش پر مقدم رہیں۔

انہوں نے اختتام پر کہا کہ جب معاشرہ حجاب کو عورت کی آزاد، باوقار اور باصلاحیت شخصیت کی علامت کے طور پر دیکھے گا، تب ہی یہ حقیقی معنوں میں خواتین کی خودمختاری اور عزت کا ذریعہ بن سکے گا۔

حجاب؛ شخصیت کا باشعور محافظ

حوزۂ علمیہ خواہران کی استاد فاطمہ اسفندیاری نے کہا کہ حقیقی بااختیار عورت وہ ہے جو اپنی قدر و منزلت کو اپنی عقل، اخلاق، مہارت، علم اور روحانی شخصیت میں تلاش کرے، نہ کہ دوسروں کی نظروں اور ظاہری تعریف میں۔ ان کے مطابق جب حجاب کو نگاہوں کی ذمہ دارانہ تنظیم کے ایک ذریعے کے طور پر سمجھا جائے تو عورت گویا یہ اعلان کرتی ہے: "میں خود فیصلہ کرتی ہوں کہ کون، کب اور کس زاویۂ نگاہ سے مجھے دیکھے۔" ان کے نزدیک یہی حقیقی خودمختاری اور آزاد شخصیت کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات توجہ حاصل کرنے کو طاقت سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ وقار اور شخصیت کی عظمت مسلسل توجہ حاصل کرنے کی محتاج نہیں ہوتی۔ وقار اس اندرونی قوت کا نام ہے جو انسان کو بغیر نمائش کے بھی باعزت اور بااثر بناتی ہے۔

فاطمہ اسفندیاری کے مطابق حجاب ایک "باشعور فلٹر" کی مانند ہے، جو ظاہری پہلوؤں کو پس منظر میں رکھ کر انسان کی اصل شخصیت، فکر، علم اور کردار کو نمایاں ہونے کا موقع دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خودمختار شخصیت وہ عورت ہے جو اپنی شناخت، مقصد اور زندگی کی سمت سے آگاہ ہو۔ ان کے مطابق حجاب اس سفر میں اس کے لیے ایک حفاظتی حصار ہے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں اور توانائی کو معاشرے میں مثبت اثرات پیدا کرنے، علم، اخلاق اور خدمت کے میدان میں صرف کر سکے۔

انہوں نے اختتام پر کہا کہ ان کے نزدیک حجاب عورت کو محدود کرنے والی دیوار نہیں، بلکہ ایک باوقار اور خودمختار شخصیت کی تعمیر و تربیت کے لیے ایک محفوظ اور مقدس دائرہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha