تحریر: مولانا سید منظور عالم جعفری سرسوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
تمہید
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب اور انسانیت کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے۔ یہ وہ مقدس کتاب ہے جس کواللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیلِ امین علیہ السلام کے ذریعے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمایا ،اور جس کے ذریعے انسان کو اس کے حقیقی مقصدِ زندگی سے آگاہ کیا۔ قرآن انسان کو صرف چند مذہبی احکام نہیں دیتا بلکہ اس کے عقیدہ، عبادت، اخلاق، کردار، معاشرت اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے لیے ایک جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
قرآنِ کریم محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ہدایت، اخلاق، عدل، تزکیۂ نفس اور فلاح کا جامع دستور ہے۔ قرآن جس کردار، معاشرے اور انسان کی تعمیر چاہتا ہے، اس کی تشکیل اسی وقت ممکن ہے جب قرآن ہماری زندگی کا عملی دستور بنے۔ دوسری طرف پیغمبرِ اکرم ﷺ اس الٰہی ہدایت کے سب سے کامل مفسر، معلم اور عملی نمونہ ہیں۔ قرآن اور رسولِ اکرم ﷺ کا تعلق ایسا گہرا اور بنیادی ہے کہ ایک کو دوسرے سے الگ کرکے صحیح معنوں میں سمجھنا ممکن نہیں۔
قرآنِ کریم کی عظمت
قرآنِ کریم کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ کلامِ الٰہی ہے۔ یہ کسی انسان کی تصنیف نہیں بلکہ خالقِ کائنات کا وہ پیغام ہے جو اس نے انسان کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا۔ قرآن خود اپنی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَـهْدِىْ لِلَّتِىْ هِىَ اَقْوَمُ یعنی بے شک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا اور درست ہے۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کا بنیادی مقصد انسان کو صحیح راستہ دکھانا ہے۔ وہ انسان کے فکری، اخلاقی اور عملی سفر کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے ایسی زندگی کی طرف لے جاتا ہے جو دنیا میں بھی خیر و سعادت کا ذریعہ ہو اور آخرت میں بھی نجات کا سبب بنے۔
قرآن؛ کتابِ ہدایت
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ ۚ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ "یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔" قرآنِ کریم نے انسان کو اس کی حقیقت، مقصدِ زندگی اور انجام سے آگاہ کیا ہے۔ اس نے توحید، عدل، تقویٰ، صبر، شکر، امانت، صداقت، عفو و درگزر، احسان اور انسانی کرامت جیسی اعلیٰ اقدار کی تعلیم دی ہے۔
قرآن کا مخاطب صرف عبادت گاہ میں موجود انسان نہیں بلکہ زندگی کے ہر میدان میں موجود انسان ہے۔ وہ فرد کو بھی رہنمائی دیتا ہے اور خاندان، معاشرے اور پوری انسانی برادری کے لیے بھی اصول فراہم کرتا ہے۔
اسی لیے قرآن کو صرف ثواب حاصل کرنے کے لیے پڑھنے والی کتاب سمجھنا اس کے حقیقی مقام کو محدود کرنا ہے۔ تلاوت یقیناً عبادت ہے، لیکن تلاوت کے ساتھ قرآن کو سمجھنا اور اس کے احکام و تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا قرآن سے حقیقی وابستگی کی علامت ہے۔
قرآن کا اعجاز
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب ہونے کی ایک عظیم دلیل اس کا اعجاز ہے۔ قرآن نے انسانوں اور جنات کو چیلنج دیا: قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِـهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُـمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْـرً کہہ دو اگر سب آدمی اور سب جن مل کر بھی ایسا قرآن لانا چاہیں تو ایسا نہیں لا سکتے اگرچہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مددگار کیوں نہ ہو۔ قرآن کا یہ چیلنج اس کے اعجاز، اسلوب، معانی اور پیغام کی غیر معمولی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح سورۂ بقرہ میں فرمایا گیا: وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪ اور اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پرنازل کی ہے تو تم اس جیسی ایک سورت لاؤ،قرآن کا اعجاز صرف اس کے الفاظ اور اسلوب تک محدود نہیں بلکہ اس کی جامع ہدایت، روحانی تاثیر، فکری گہرائی اور انسانی کردار سازی میں بھی نمایاں ہے۔ قرآنِ کریم کا ایک منفرد امتیاز اس کا غیر معمولی طور پر یاد کیا جانا بھی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں لاکھوں مسلمان اس کے مکمل متن کو اپنے سینوں میں محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ سلسلہ نزولِ قرآن سے لے کر آج تک مسلسل جاری ہے اور قرآن کے محفوظ رہنے کے نمایاں مظاہر میں شمار ہوتا ہے۔
قرآن کی حفاظت
قرآنِ کریم کی ایک عظیم خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ یعنی بے شک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ چودہ صدیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود قرآنِ کریم اپنی اصل صورت میں امتِ مسلمہ کے درمیان موجود ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان اسے حفظ کرتے ہیں، تلاوت کرتے ہیں، پڑھاتے ہیں اور اپنی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ قرآن کی حفاظت کا یہ مسلسل سلسلہ اس کتابِ الٰہی کے امتیازات میں سے ایک ہے۔
قرآن اور رسولِ اکرم
قرآنِ کریم اور رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا تعلق نہایت گہرا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کیا اور اس کی تعلیم و تشریح کے لیے اپنے آخری رسول ﷺ کو مبعوث فرمایا۔آپ ﷺ کی بعثت سے قبل چالیس برس کی زندگی مکہ کے معاشرے میں گزری۔ اس پورے دور میں آپ ﷺ اپنی صداقت، امانت، پاکیزگی اور حسنِ کردار کی وجہ سے ممتاز رہے۔ اہلِ مکہ آپ ﷺ کو صادق اور امین کے القاب سے یاد کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ نے اعلانِ رسالت فرمایا تو آپ کے مخالفین نے آپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا، لیکن خود آپ ﷺ کی صداقت اور امانت پر طعنہ لگانا بھی ان کے لیے آسان نہ تھا۔ قرآنِ کریم اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتا ہے:قَدۡ نَـعۡلَمُ اِنَّهٗ لَيَحۡزُنُكَ الَّذِىۡ يَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰـكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ یعنی ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتیں آپ کو رنج پہنچاتی ہیں؛ حقیقت یہ ہے کہ وہ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ نے قرآن کے احکام کو صرف بیان نہیں کیا بلکہ اپنی پوری زندگی میں ان کا عملی نمونہ پیش کیا۔ اسی لیے آپ ﷺ کی سیرت قرآن کی عملی تفسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآنِ کریم آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں فرماتا ہے: وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ یعنی بے شک آپ عظیم اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔ یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی شخصیت صرف منصبِ رسالت کی حامل نہیں بلکہ انسانی اخلاق و کردار کا اعلیٰ ترین نمونہ بھی ہے۔ قرآن جس توحید، عدل، رحم، عفو، صدق، امانت اور انسان دوستی کی تعلیم دیتا ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں ان تعلیمات کو عملی صورت عطا فرمائی۔ اسی لیے قرآن اور سیرتِ رسول ﷺ کو ایک دوسرے سے جدا کرکے دیکھنا درست نہیں۔ قرآن نظریۂ ہدایت ہے اور رسولِ اکرم ﷺ اس ہدایت کی عملی تفسیر۔لہذا قرآن سے حقیقی وابستگی کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان رسولِ اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی میں اختیار کرے۔
قرآن پڑھنا کافی نہیں، قرآن پر عمل ضروری ہے
آج مسلمانوں کے گھروں میں قرآنِ کریم کی تلاوت ہوتی ہے، مساجد میں قرآن پڑھا جاتا ہے، مدارس میں اس کی تعلیم دی جاتی ہے اور لاکھوں مسلمان اسے حفظ کرتے ہیں۔ یہ سب قابلِ قدر اعمال ہیں، لیکن ایک بنیادی سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے: کیا قرآن ہماری عملی زندگی میں بھی موجود ہے؟ اگر قرآن ہمیں سچ بولنے کا حکم دیتا ہے تو کیا ہماری گفتگو میں صداقت ہے؟ اگر قرآن عدل کا حکم دیتا ہے تو کیا ہم اپنے معاملات میں انصاف کرتے ہیں؟ اگر قرآن والدین کے احترام کا حکم دیتا ہے تو کیا ہم ان کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ اگر قرآن یتیم، مسکین اور ضرورت مند کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے تو کیا ہم معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں؟ اگر قرآن غیبت، تکبر، ظلم، خیانت اور ناانصافی سے روکتا ہے تو کیا ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کے ساتھ ہمارے تعلق کا حقیقی امتحان شروع ہوتا ہے۔
قرآن ہماری زندگی کا دستور بنے
قرآنِ کریم کو الماری میں محفوظ رکھنے، خوبصورت غلاف میں رکھنے اور صرف مخصوص مواقع پر تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ قرآن ہماری زندگی کے فیصلوں پر کس قدر اثر انداز ہو رہا ہے۔
قرآن ہمیں ایک ایسا انسان بنانا چاہتا ہے جس کے اندر خوف خدا ، ذمہ داری، رحم، عدل، سچائی اور خدمتِ خلق پیدا ہو۔ قرآن کا مقصد صرف زبان کو تلاوت سےمعطر کرنا نہیں بلکہ دل کو پاک، عقل کو روشن اور کردار کو بلند کرنا بھی ہے۔
اگر قرآن ہماری زندگی میں داخل ہوجائے تو ہماری عبادت بہتر ہوگی، ہمارے معاملات درست ہوں گے، ہمارے گھروں میں اخلاق پیدا ہوں گے، ہمارے معاشرے میں عدل و انصاف بڑھے گا اور ہماری اجتماعی زندگی میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگا۔
تدبرِ قرآن کی ضرورت
قرآنِ کریم خود انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ،یہ کتاب بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں اور صاحبانِ عقل نصیحت حاصل کریں۔اس آیت کی روشنی میں قرآن سے ہمارا تعلق صرف تلاوت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ہمیں اس کے مفاہیم کو سمجھنے، اس کے احکام پر غور کرنے اور اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر مسلمان کو اپنی استطاعت کے مطابق قرآن کے ترجمے، تفسیر اور معارف کا مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ قرآن اس کے لیے صرف پڑھی جانے والی کتاب نہ رہے بلکہ سمجھ کر زندگی گزارنے کا ذریعہ بنے۔
نئی نسل اور قرآن
آج کے دور میں ہماری سب سے اہم ذمہ داریوں میں سے ایک نئی نسل کو قرآن سے جوڑنا ہے۔ بچوں کو صرف ناظرہ اور حفظِ قرآن تک محدود رکھنا کافی نہیں؛ بلکہ انہیں قرآن کا مفہوم، اس کی اخلاقی تعلیمات اور اس کے عملی پیغام سے بھی آشنا کرنا ضروری ہے۔
اگر ہماری نئی نسل قرآن کو سمجھ کر پڑھے گی تو وہ اپنے عقائد کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق، کردار اور معاشرتی ذمہ داریوں کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکے گی۔ گھروں میں قرآن فہمی کا ماحول، مدارس میں تدبرِ قرآن، تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت اور معاشرے میں قرآنی اقدار کا فروغ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
ہماری عملی ذمہ داریاں
قرآنِ کریم کے ساتھ حقیقی وفاداری کے لیے ہمیں چند بنیادی امور کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے:
جیساکہ احادیث میں دستور ہے روزانہ قرآن کی تلاوت کو معمول بنایا جائے۔
ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ قرآن سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
قرآن کی آیات کو صرف پڑھا نہ جائے بلکہ ان پر غور و فکر کیا جائے۔
قرآن کے اخلاقی احکام کو اپنے کردار میں نافذ کیا جائے۔
معاملاتِ زندگی میں عدل، صداقت، امانت اور تقویٰ کو اختیار کیا جائے۔
قرآن کے ذریعے اپنی کمزوریوں کا محاسبہ کیا جائے۔
اپنی اولاد کو قرآن کی تلاوت کے ساتھ قرآن فہمی بھی سکھائی جائے۔
قرآن کے پیغامِ ہدایت، رحمت، عدل اور انسان سازی کو حکمت اور اچھے اخلاق کے ساتھ عام کیا جائے۔
اختتامیہ
قرآنِ کریم اور رسولِ اکرم ﷺ کا تعلق اسلام کے بنیادی تصورِ ہدایت کا مرکزی ستون ہے۔ قرآن اللہ تعالیٰ کا آخری کلام اور کتابِ ہدایت ہے، جبکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس ہدایت کے آخری پیغمبر، معلم اور عملی نمونہ ہیں۔
قرآن ہمیں توحید، تقویٰ، عدل، اخلاق اور انسانی فلاح کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ کے ذریعے ان تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرکے دکھایا۔ اسی لیے قرآن سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تلاوت کے ساتھ اس کے پیغام کو سمجھا جائے، اور رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے اخلاق، سیرت اور تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر قرآن فہمی، سیرتِ نبوی ﷺ، اخلاقِ حسنہ، علمی تحقیق اور پُرامن قانونی جدوجہد کو اپنی ترجیحات بنائیں۔ یہی قرآنِ کریم کی حقیقی خدمت اور رسولِ اکرم ﷺ سے سچی محبت کا مؤثر اظہار ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے، رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو اپنانے اور دینِ اسلام کی تعلیمات کو حکمت و اخلاق کے ساتھ عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔









آپ کا تبصرہ