منگل 21 جولائی 2026 - 03:45
معرفتِ امام!

حوزہ/"معرفتِ امام" کا مطلب ہے امام کو صحیح طور پر پہچاننا، ان کے الٰہی مقام کو سمجھنا، ان کی تعلیمات کو جاننا اور ان کی اطاعت و پیروی کرنا۔ معرفت صرف معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ دل سے قبول کرنے اور اپنی زندگی میں اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کا نام بھی ہے۔

تحریر: دعاء زینب بندہ علی

حوزہ نیوز ایجنسی|

"معرفتِ امام" کا مطلب ہے امام کو صحیح طور پر پہچاننا، ان کے الٰہی مقام کو سمجھنا، ان کی تعلیمات کو جاننا اور ان کی اطاعت و پیروی کرنا۔ معرفت صرف معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ دل سے قبول کرنے اور اپنی زندگی میں اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کا نام بھی ہے۔

معرفتِ امام دینِ اسلام کی بنیادی اور اہم ترین تعلیمات میں سے ایک ہے۔ امام کی معرفت سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ اس ہستی کو پہچاننا، اس کے مقام و منزلت کو سمجھنا اور اس کی اطاعت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ امام انسانوں کے لیے ہدایت کا چراغ، دینِ الٰہی کا محافظ اور حق و باطل کے درمیان امتیاز قائم کرنے والا ہوتا ہے۔ معرفتِ امام انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت، رسولِ اکرمؐ کی حقیقی تعلیمات اور صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ جب انسان اپنے امام کو پہچان لیتا ہے تو اس کے عقائد، عبادات، اخلاق اور کردار میں مثبت تبدیلی پیدا ہوتی ہے، اور وہ اپنی زندگی کو احکامِ الٰہی کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے معرفتِ امام کو نجات، ہدایت اور قربِ الٰہی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

حدیثِ مبارک میں ہے: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً. ترجمہ:"جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت نہ رکھتا ہو، وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔"

جاہلیت کی موت کا مطلب صرف جہنم میں جانا نہیں، بلکہ ایسی موت ہے جس میں انسان ہدایت اور نجات کے راستے سے محروم رہ جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم جس امام کے ماننے والے ہیں، جن کے ظہور کے منتظر ہیں، کیا واقعی ان کی معرفت رکھتے ہیں؟ آخر معرفت ہوتی کیا ہے؟

اگر کوئی یہ کہے کہ امام علیؑ کی ولادت کعبہ میں ہوئی، ان کا روضۂ مقدس نجف اشرف میں ہے، یا 21 رمضان المبارک کو ان کی شہادت ہوئی، تو کیا یہ معرفت ہے؟ نہیں، یہ صرف معلومات ہیں۔

اسی طرح اگر کسی شخص کو ائمہؑ کے اسمائے گرامی، ان کے والدین کے نام، تاریخِ ولادت یا دیگر حالاتِ زندگی معلوم ہوں، تب بھی اسے معرفت نہیں کہا جا سکتا۔ یہ سب معلومات ہیں، جبکہ معرفت اس سے کہیں بلند مقام کا نام ہے۔

اگر کوئی یہ کہے کہ اسے ائمہؑ کے بہت سے اقوال یاد ہیں، تو یہ بھی معرفت نہیں، بلکہ معلومات ہیں۔

پھر معرفت کیا ہے؟

مختصر الفاظ میں، معرفتِ امام یہ ہے کہ انسان امام کی پسند اور ناپسند کو پہچان لے۔ اسے معلوم ہو کہ کون سا عمل امام کو پسند ہے اور کون سا عمل انہیں ناپسند ہے۔

یہ پہچان کیسے حاصل ہوگی؟ کیا ہمارے اندر یہ صلاحیت موجود ہے؟ یقیناً موجود ہے۔

فرض کریں کہ ایک نوجوان برسوں سے "یا علیؑ" اور "یا حسینؑ" کہتا آیا ہے، عزاداری کرتا ہے اور اہلِ بیتؑ سے محبت رکھتا ہے، تو ایسا ممکن نہیں کہ اسے یہ احساس ہی نہ ہو کہ مولا حسینؑ اپنی امت سے کیا چاہتے ہیں۔

کیونکہ یہ محبت دنیاوی اشیاء کی محبت نہیں، نہ لکڑی، پتھر یا بے جان چیزوں کی محبت ہے، بلکہ امام حسینؑ کی محبت ہے، اور امام حسینؑ کی محبت دو طرفہ ہوتی ہے۔ اگر آپ امام حسینؑ سے محبت کرتے ہیں تو یقیناً امام حسینؑ بھی اپنے محبوں سے محبت کرتے ہیں۔

رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: اِنَّ الْحُسَيْنَ مِصْبَاحُ الْهُدَى وَسَفِينَةُ النَّجَاةِ. حسینؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں۔

جب امامؑ آپ سے محبت کرتے ہیں تو یقیناً حضرت فاطمہ زہراؑ بھی اپنے محبوں پر نگاہِ کرم رکھتی ہیں۔ ایسے میں اگر آپ خلوصِ دل سے یہ جاننا چاہیں کہ امامؑ آپ سے کیا چاہتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل میں اس کی سمجھ پیدا کر دیتا ہے۔

اس معرفت کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر فیصلے سے پہلے اپنے دل سے ایک سوال کرے:

"کیا اس کام سے میرے امامؑ خوش ہوں گے یا ناراض؟"

مثلاً کسی سے دوستی کرنی ہو، کوئی پیغام بھیجنا ہو، موبائل یا ٹی وی پر کچھ دیکھنا ہو، یا کسی مجلس میں جانا ہو، ہر موقع پر اپنے دل سے پوچھیں کہ کیا میرا امامؑ اس عمل سے راضی ہوگا؟

یہ سوال مشکل نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں حق کو پہچاننے کی صلاحیت رکھی ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ. اللہ تعالیٰ دلوں کے حال سے خوب واقف ہے اور وہی دلوں میں سکون نازل فرماتا ہے۔

یہی اصول روزمرہ زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ گھر سے نکلتے وقت، لباس پہنتے وقت، آئینہ دیکھتے وقت، سونے اور جاگنے کے اوقات طے کرتے وقت، ہر موقع پر اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا اس عمل سے میرے امامؑ خوش ہوں گے؟

جب انسان ان کاموں سے بچنے لگتا ہے جن سے امامؑ ناراض ہوتے ہیں، تو پھر وہ اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ صرف وہی اعمال انجام دیتا ہے جن سے امامؑ خوش ہوتے ہیں۔

اگر انسان اس اصول پر عمل کرے تو وہ کبھی حقیقی نقصان میں نہیں رہتا۔ لیکن اگر دنیا کو خوش کرنے کے لیے اپنے امامؑ کو ناراض کر دے تو نہ دنیا باقی رہتی ہے اور نہ آخرت سنورتی ہے۔ بسا اوقات جن لوگوں کی خاطر انسان دین سے سمجھوتہ کرتا ہے، وہی بعد میں اسے ذلیل کر دیتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ امام، اللہ تعالیٰ کے فیض و برکات کا واسطہ ہیں۔ جو شخص امامؑ کو ناراض کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے آپ کو اللہ کی رحمت سے دور کر لیتا ہے۔

رسولِ خداؐ نے فرمایا:لا طاعةَ لِمَخلوقٍ في معصيةِ الخالقِ."خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔"

لہٰذا اگر کسی عمل سے امامؑ ناراض ہوتے ہوں تو پوری دنیا بھی اس کے بدلے مل جائے، تب بھی وہ سودا خسارے کا ہے۔

تاریخِ کربلا اس حقیقت کی بہترین مثال ہے۔ جن لوگوں نے دنیا بچانے کے لیے امام حسینؑ کا ساتھ چھوڑ دیا، نہ وہ دنیا میں سرخرو ہوئے اور نہ آخرت میں کامیاب۔ بعد میں انہیں شدید ذلت اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔

لہٰذا معرفتِ امام کا ایک نہایت آسان اصول ہے: ہر عمل سے پہلے اپنے دل سے پوچھیں کہ "کیا میرے امامؑ اس سے راضی ہوں گے؟"

اگر یہ سوال ہماری زندگی کا حصہ بن جائے تو ان شاء اللہ ہماری زندگی بھی امامؑ کی رضا اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے مطابق ڈھل جائے گی۔

اللّٰهُمَّ عجل لولیک الفرج

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha