تحریر: فروہ خالق داد، مدرسہ فاطمہ زہراؑ، کوئٹہ
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امامِ زمانہؑ کی مظلومیت صرف غیبت تک محدود نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ امت کا ایک بڑا حصہ آپؑ کی معرفت، حقوق اور تعلیمات سے غفلت برت رہا ہے۔ ظلم، ناانصافی، تفرقہ، گناہوں کی کثرت اور دینی اقدار سے دوری وہ عوامل ہیں جو امامِ عصرؑ کے قلبِ مبارک کو رنجیدہ کرتے ہیں۔
مظلومیتِ امامِ زمانہؑ کا تعارف
حضرت امام محمد بن حسن المہدیؑ، اللہ تعالیٰ کی آخری حجت، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے بارہویں جانشین اور سلسلۂ امامت کی آخری کڑی ہیں۔ اگرچہ آپؑ اللہ کے حکم سے پردۂ غیبت میں ہیں، تاہم آپؑ اپنی امت کی ہدایت، حفاظت اور فلاح کے لیے ہمیشہ دعاگو اور نگران ہیں۔
امامِ زمانہؑ کی مظلومیت صرف غیبت تک محدود نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ امت کا ایک بڑا حصہ آپؑ کی معرفت، حقوق اور تعلیمات سے غفلت برت رہا ہے۔ ظلم، ناانصافی، تفرقہ، گناہوں کی کثرت اور دینی اقدار سے دوری وہ عوامل ہیں جو امامِ عصرؑ کے قلبِ مبارک کو رنجیدہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ امامِ زمانہؑ کی صحیح معرفت حاصل کرے، ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، اپنے اخلاق و کردار کی اصلاح کرے، عدل و انصاف کے قیام میں کردار ادا کرے اور اخلاص کے ساتھ ظہورِ امامؑ کی دعا کرتے ہوئے خود کو ان کے حقیقی انصار میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔
مظلومیتِ امامِ زمانہؑ کے اسباب
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: "جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔"
امامِ زمانہؑ کی مظلومیت کے چند اہم اسباب یہ ہیں:
- امامِ زمانہؑ کی صحیح معرفت سے محرومی
- دین کی حقیقی تعلیمات سے دوری
- گناہوں اور نافرمانی کی کثرت
- ظلم، ناانصافی اور فساد کا فروغ
- امتِ مسلمہ میں اختلاف اور تفرقہ
- امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غفلت
- امامؑ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی
- ظہور کی حقیقی تیاری سے غفلت
- دنیا کی محبت میں دین کو پسِ پشت ڈال دینا
- اسلامی اخلاق اور کردار کی کمزوری
- امامِ زمانہؑ کی مظلومیت کے مظاہر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: "میری امت کے لیے سب سے افضل عمل فرج (ظہورِ امام مہدیؑ) کا انتظار ہے۔"
آج امامِ زمانہؑ کی مظلومیت کے نمایاں مظاہر یہ ہیں:
- امامؑ پردۂ غیبت میں ہیں
- بہت سے لوگ آپؑ کی معرفت سے محروم ہیں
- امامؑ کی تعلیمات اور احکام پر کم عمل کیا جاتا ہے
- دنیا ظلم، ناانصافی اور استبداد سے بھر چکی ہے
- مظلوموں اور کمزوروں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں
- دین کے نام پر اختلافات اور تفرقہ پیدا کیا جا رہا ہے
- اسلامی اخوت اور اتحاد کمزور ہو چکا ہے
- بے حیائی، برائی اور اخلاقی انحطاط میں اضافہ ہو رہا ہے
- حق کی بجائے باطل کو ترجیح دی جا رہی ہے
- ظہورِ امامؑ کی حقیقی آرزو اور عملی تیاری کم دکھائی دیتی ہے
امت کی ذمہ داریاں
حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "جو شخص قائم آلِ محمدؑ کے اصحاب میں شامل ہونا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ انتظار کرے، تقویٰ اختیار کرے اور اچھے اخلاق اپنائے۔"
ہر مسلمان کی ذمہ داریاں یہ ہیں:
- امامِ زمانہؑ کی صحیح معرفت حاصل کرنا
- قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ پر عمل کرنا
- نماز، روزہ اور دیگر فرائض کی پابندی کرنا
- گناہوں سے توبہ اور مسلسل خود احتسابی کرنا
- عدل و انصاف کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنا
- ظلم اور باطل کے خلاف آواز بلند کرنا
- حسنِ اخلاق کو اپنی شخصیت کا حصہ بنانا
- امتِ مسلمہ میں اتحاد، محبت اور اخوت کو فروغ دینا
- ظہورِ امامؑ کے لیے کثرت سے دعا کرنا
- اپنے کردار کو امامؑ کے حقیقی مددگاروں کے شایانِ شان بنانا
ظہور کی تیاری کیسے کی جائے؟
ظہورِ امامؑ کی حقیقی تیاری کے لیے ضروری ہے کہ:
- اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم کیا جائے
- تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کی جائے
- قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس پر عمل کیا جائے
- اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو زندگی کا حصہ بنایا جائے
- علمِ دین حاصل کیا جائے
- سچائی، امانت داری اور انصاف کو فروغ دیا جائے
- والدین، اساتذہ اور معاشرے کے حقوق ادا کیے جائیں
- امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو زندہ کیا جائے
- معاشرے میں امن، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے
- ہر وقت امامِ زمانہؑ کی نصرت کے لیے خود کو تیار رکھا جائے۔
نتیجہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔"
امامِ زمانہؑ کی مظلومیت پوری امت کے لیے ایک بیدار کرنے والا پیغام ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس کرے، معاشرے میں عدل، امن اور اخوت کو فروغ دے، امامِ زمانہؑ کی معرفت اور اطاعت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور اخلاص کے ساتھ ان کے ظہور کی دعا کرتے ہوئے اس عظیم مقصد کے لیے عملی تیاری کرے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں امامِ زمانہؑ کے سچے پیروکاروں، وفادار مددگاروں اور ان کے حقیقی منتظرین میں شامل فرمائے۔ آمین۔
زمانے کے امامؑ کی ہر دل کو ہے ضرورت
خدا کرے کہ جلد آئے ظہور کی وہ ساعت
عدل کا سورج پھر طلوع ہو گا جہاں میں
جب آئیں گے امامِ زمانہؑ، مٹ جائے گا ہر ستم









آپ کا تبصرہ