حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے اپنی ایک تصنیف میں «ظہور کے اسرار اور اس بارے میں ائمۂ معصومینؑ کے علم» کے موضوع پر گفتگو کی ہے، جو اہلِ علم کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔
امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور کا وقت اللہ تعالیٰ کے اسرار میں سے ہے۔ اس بارے میں اندازے لگانا نہ صرف بے بنیاد عمل ہے بلکہ ائمۂ معصومینؑ نے اس سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادقؑ سے روایت نقل ہوئی ہے:
عبدالرحمن بن کثیر کہتے ہیں: میں امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر تھا کہ مہزم داخل ہوا اور عرض کیا: “میں آپ پر قربان جاؤں! اس امر (ظہور) کے بارے میں بتائیے جس کے ہم منتظر ہیں، یہ کب واقع ہوگا؟”
امامؑ نے فرمایا: “اے مہزم! وقت مقرر کرنے والے جھوٹے ہیں، جلد بازی کرنے والے ہلاک ہو گئے، اور تسلیم کرنے والے نجات پا گئے۔”
اسی طرح ابو بصیر سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں: میں نے امام جعفر صادقؑ سے قائمؑ کے بارے میں سوال کیا تو آپؑ نے فرمایا: “وقت مقرر کرنے والے جھوٹے ہیں، ہم اہلِ بیت وقت مقرر نہیں کرتے۔”
ظہور کے وقت کو معین نہ کرنا اور اس کے مخفی رہنے پر تاکید، ہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ انسانِ کامل کو ظہور کے وقت کا علم نہیں ہوتا۔ بلکہ انسانِ کامل، جو اللہ کے اذن سے تمام ممکنہ عوالم پر احاطہ رکھتا ہے، علمِ ازلی کے نتائج اور علمِ بداء کے میدان سے آگاہ ہوتا ہے، اور ظہور کا وقت بھی اسی علم میں شامل ہے۔
البتہ انسانی معاشرے کی مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ ظہور کا وقت مخفی رکھا جائے۔ اسی لیے امام جعفر صادقؑ نے ابو بصیر سے یہ نہیں فرمایا کہ ہم ظہور کے وقت سے آگاہ نہیں ہیں، بلکہ فرمایا: “ہم وقت مقرر نہیں کرتے۔”
یقیناً امام زمانہؑ کے ظہور کا دن “ایامُ اللہ” کے روشن ترین مصادیق میں سے ہوگا، اور اس دن کا عقلمندانہ اور سچا انتظار کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
ماخذ: کتاب امام مہدیؑ، موجود و موعود
18:53 - 2026/02/04









آپ کا تبصرہ