جمعرات 13 اگست 2026 - 09:24
امام حسنؑ اور معاویہ؛ صلح کے پردے میں سیاست، عہد شکنی کے سائے میں شہادت

حوزہ/تاریخ صرف گزرے ہوئے واقعات کا نام نہیں؛ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان اپنے دعوؤں سے نہیں، اپنے کردار اور اعمال سے پہچانا جاتا ہے۔ امام حسنؑ اور معاویہ کا معاملہ بھی تاریخ کا ایسا ہی آئینہ ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ صرف گزرے ہوئے واقعات کا نام نہیں؛ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان اپنے دعوؤں سے نہیں، اپنے کردار اور اعمال سے پہچانا جاتا ہے۔ امام حسنؑ اور معاویہ کا معاملہ بھی تاریخ کا ایسا ہی آئینہ ہے۔ ایک طرف رسولؐ کا وہ نواسہ ہے جسے “سید شباب اہل الجنة” کا اعزاز ملا، جس کی پرورش آغوشِ نبوت اور خانۂ وحی میں ہوئی، اور جس کے بارے میں خود رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا؛ دوسری طرف اقتدار کی وہ سیاست ہے جس کے لیے تلواریں اٹھیں، لشکر آمنے سامنے آئے اور جس کے خون آلود ماحول میں امام حسنؑ نے امت کو مزید قتل و غارت سے بچانے کے لیے صلح کا راستہ اختیار کیا۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی؛ اصل سوال تو یہ ہے کہ جس صلح نے جنگ روک دی، کیا اس نے دشمنی بھی ختم کردی؟ جس معاہدے نے تلواریں نیام میں ڈال دیں، کیا اس نے دلوں سے اقتدار کی کشمکش بھی مٹا دی؟ اور جس امامؑ نے امت کے خون کو بچانے کے لیے اپنا اقتدار قربان کردیا، آخر وہی سبطِ رسولؐ زہر کے گھونٹ پینے پر کیوں مجبور ہوئے؟ یہی وہ سوال ہے جہاں سے تاریخ کا اصل باب کھلتا ہے؛ کیونکہ امام حسنؑ اور معاویہ کی داستان کو سمجھنے کے لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ حسنؑ نے صلح کی تھی، بلکہ یہ جاننا ضروری ہے کہ صلح کے بعد کیا ہوا تھا۔

رسولؐ نے امام حسنؑ کے بارے میں جو الفاظ فرمائے، وہ اس پورے واقعے کی بنیاد ہیں۔ صحیح بخاری میں ابو بکرہ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے امام حسنؑ کو دیکھا اور فرمایا: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»؛ یعنی: “میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرا دے گا۔” یہ روایت صحیح البخاری، کتاب الصلح، باب قول النبیؐ للحسن بن علیؑ: ابنی هذا سید، حدیث 2704 میں موجود ہے۔ اسی روایت میں امام حسنؑ کے معاویہ کے مقابل بڑی فوج کے ساتھ آنے، عمرو بن العاص کی جنگ کے ہولناک نتائج کے بارے میں گفتگو، پھر معاویہ کی جانب سے صلح کے لیے نمائندے بھیجے جانے اور آخرکار امام حسنؑ کے صلح قبول کرنے کا ذکر ہے۔

یہاں ایک جملہ پوری تاریخ اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے: امام حسنؑ کے پاس جنگ کے لیے لشکر تھا، مگر انہوں نے جنگ کے بجائے صلح کو اختیار کیا۔ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں: «اسْتَقْبَلَ وَاللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ مُعَاوِيَةَ بِكَتَائِبَ أَمْثَالِ الْجِبَالِ»؛ “خدا کی قسم! حسن بن علی معاویہ کے مقابل پہاڑوں جیسی فوج لے کر آئے۔” پھر معاویہ نے اپنے نمائندوں کے ذریعے صلح کی پیش کش کی اور امام حسنؑ نے شرائط کی ضمانت طلب کی؛ جب نمائندوں نے کہا «نَحْنُ لَكَ بِهِ»، “ہم اس کے ضامن ہیں”، تو صلح کا معاہدہ ہوا۔ صحیح البخاری، حدیث 2704۔ یہ شکست خوردہ آدمی کی صلح نہیں تھی؛ یہ اس شخص کا فیصلہ تھا جو جنگ جاری رکھ سکتا تھا مگر رسولؐ کی پیش گوئی کو اپنے عمل سے پورا کرتے ہوئے امت کے خون کو روکنے کو ترجیح دیتا ہے۔ انصاف پسند مؤرخ کے لیے امام حسنؑ کی صلح سیاسی شکست نہیں بلکہ اخلاقی فتح ہے؛ کیونکہ اقتدار حاصل کرنا آسان ہے، اقتدار چھوڑ کر خونریزی روک دینا مشکل۔

لیکن صلح کی اصل معنویت اسی وقت سمجھ میں آتی ہے جب ہم یہ بھی دیکھیں کہ معاویہ اور امام حسنؑ کے درمیان کشمکش کس تاریخی پس منظر میں پیدا ہوئی تھی۔ امام حسنؑ صرف ایک سیاسی حریف نہیں تھے؛ وہ امام علی ع کے فرزند تھے، اور علی ع کے بارے میں خود صحیح مسلم میں وہ روایت موجود ہے جس میں معاویہ نے سعد بن ابی وقاص سے کہا: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟» یعنی “تمہیں ابو تراب کو برا کہنے سے کس چیز نے روکا؟” سعد نے جواب دیا کہ میں علی علیہ السلام کو اس لیے برا نہیں کہہ سکتا کہ رسولؐ نے ان کے بارے میں ایسی تین فضیلتیں بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک بھی میرے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔ پھر سعد نے حدیثِ منزلت، خیبر اور مباہلہ کے واقعات بیان کیے اور کہا کہ مباہلہ کے موقع پر رسولؐ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کو بلایا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي»، “اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔” یہ روایت صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 2404d میں موجود ہے۔ یوں امام حسنؑ اور معاویہ کا تعلق محض دو سیاسی مدعیوں کا تعلق نہیں رہتا؛ اس کے پیچھے علی علیہ السلام کے ساتھ برسوں جاری سیاسی کشمکش اور اہلِ بیت کے مقام کا پورا مسئلہ موجود تھا۔

یہاں ایک اور تاریخی نکتہ نہایت اہم ہے: امام حسنؑ نے صلح کرکے معاویہ کی حکومت کو اپنے دل و ضمیر میں حق تسلیم نہیں کیا؛ انہوں نے جنگ روکنے کا فیصلہ کیا۔ صحیح بخاری میں صلح کا واقعہ موجود ہے، لیکن صلح کی تمام شرائط وہاں تفصیل سے نہیں آئیں؛ بعد کے تاریخی مصادر میں ان شرائط کی مختلف تفصیلات ملتی ہیں۔ اس لیے محقق کو یہ فرق ملحوظ رکھنا چاہیے کہ صحیح بخاری سے صلح کا وقوع قطعی طور پر ثابت ہے، جبکہ صلح کی تمام تفصیلی شرائط کے لیے الگ الگ تاریخی مصادر کی طرف رجوع ضروری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک انصاف پسند مؤرخ جذبات کے بجائے درجہ بندی سے کام لیتا ہے: جو بات صحیح حدیث سے ثابت ہے اسے صحیح حدیث کہتا ہے، جو تاریخی روایت ہے اسے تاریخی روایت کہتا ہے، اور جس کی سند محلِ اختلاف ہے اسے قطعی حقیقت بنا کر پیش نہیں کرتا۔

پھر تاریخ اچانک ایک ایسے مقام پر پہنچتی ہے جہاں صلح کی روشن سطروں کے پیچھے زہر کا سیاہ باب کھلتا ہے۔ امام حسنؑ کی وفات کے بارے میں متعدد اہلِ سنت کے مصادر میں زہر دیے جانے کا ذکر ملتا ہے، اور اس سلسلے میں سب سے اہم شہادتوں میں سے ایک الحاکم النیسابوری کی المستدرک علی الصحیحین ہے۔ حاکم نے مستقل عنوان قائم کیا: «سَمَّتِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ زَوْجَتُهُ»، یعنی “امام حسنؑ کو ان کی زوجہ نے زہر دیا”، اور قتادہ سے روایت نقل کی: «سَمَّتِ ابْنَةُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَكَانَتْ تَحْتَهُ وَرُشِيَتْ عَلَى ذَلِكَ مَالًا»؛ “اشعث بن قیس کی بیٹی، جو امام حسنؑ کے نکاح میں تھی، نے انہیں زہر دیا اور اس کام پر اسے مال دیا گیا۔” المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفة الصحابہ، ج 4، حدیث 4868۔ یہ حوالہ اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہاں صرف یہ نہیں کہا گیا کہ امام حسنؑ کا انتقال ہوا، بلکہ زہر اور جعدہ کے کردار کا ذکر ایک معروف سنی محدث کی کتاب میں موجود ہے۔

اسی المستدرک میں ایک دوسری روایت عمیر بن اسحاق کے واسطے سے امام حسنؑ کا اپنا بیان نقل کرتی ہے: «لَقَدْ بَلَتْ طَائِفَةٌ مِنْ كَبِدِي، وَلَقَدْ سُقِيتُ السُّمَّ مِرَارًا فَمَا سُقِيتُ مِثْلَ هَذَا»؛ مفہوم یہ ہے: “میرے جگر کا ایک حصہ نکل چکا ہے، مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا، مگر اس مرتبہ جیسا زہر کبھی نہیں پلایا گیا۔” پھر جب امام حسین علیہ السلام نے دریافت کیا کہ کس نے زہر دیا تو امام حسنؑ نے قاتل کا نام لینے سے گریز کیا اور فرمایا کہ اگر وہی ہے جس کا مجھے گمان ہے تو اللہ اس سے زیادہ سخت انتقام لینے والا ہے۔ یہ روایت المستدرک علی الصحیحین، ج 4، حدیث 4869 میں موجود ہے۔ یہاں تاریخ کا ایک ایسا منظر سامنے آتا ہے جس میں مظلوم شخص اپنے قاتل کو پہچاننے کے باوجود اپنے بھائی کے ہاتھ کو انتقام کے لیے نہیں اٹھنے دیتا؛ یہ صرف صبر نہیں، حلم کی آخری منزل ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جعدہ نے زہر کیوں دیا؟

کیا وہ محض ذاتی دشمنی تھی؟

یا اس کے پیچھے کوئی سیاسی ہاتھ بھی تھا؟

یہاں اہلِ سنت کے مؤرخ ابن عبد البر کی الاستیعاب فی معرفة الاصحاب نہایت اہم ہوجاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: «وقال قتادة وأبو بكر بن حفص: سُمَّ الحسن بن علي، سمته امرأته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي»؛ “قتادہ اور ابو بکر بن حفص نے کہا: حسن بن علی کو زہر دیا گیا، انہیں ان کی زوجہ جعدہ بنت اشعث بن قیس کندی نے زہر دیا۔” پھر ابن عبد البر مزید لکھتے ہیں: «وقالت طائفة: كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها وما بذل لها في ذلك»؛ “اور ایک گروہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کام معاویہ کی خفیہ تدبیر اور اس کی طرف سے دی گئی ترغیب و لالچ کے نتیجے میں کیا۔” یہ عبارت الاستیعاب فی معرفة الاصحاب، ترجمۃ امام حسنؑ، ج 1، ص 389–390، مطبوعہ اختلاف کے ساتھ میں منقول ہے۔

یہاں بات بالکل صاف ہے۔ ابن عبد البر نے معاویہ کے ملوث ہونے کی نسبت اپنی طرف سے قطعی فیصلہ بنا کر پیش نہیں کی، بلکہ واضح الفاظ میں لکھا: «وقالت طائفة: كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها وما بذل لها في ذلك» یعنی “ایک گروہ کا کہنا ہے کہ جعدہ نے یہ کام معاویہ کی خفیہ تدبیر اور اس کی طرف سے دی گئی ترغیب و لالچ کے نتیجے میں کیا۔” اس سے ایک حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ امام حسنؑ کو زہر دلوانے کی سازش میں معاویہ کے ملوث ہونے کی نسبت کوئی بعد کے شیعہ مصنف کی گھڑی ہوئی داستان نہیں، بلکہ قدیم اہلِ سنت کے معروف عالم ابن عبد البر کی کتاب الاستیعاب میں باقاعدہ نقل شدہ تاریخی روایت ہے۔ لہٰذا اس شہادت کو محض اس لیے نظرانداز کردینا کہ یہ معاویہ کے کردار پر سوال اٹھاتی ہے، علمی انصاف نہیں۔ تاریخ کے صفحات پر یہ نسبت موجود ہے، اہلِ سنت کے معتبر تاریخی ماخذ میں موجود ہے، اور ایک انصاف پسند مؤرخ کا کام یہ ہے کہ وہ اس شہادت کو پوری دیانت کے ساتھ سامنے رکھے، نہ اسے چھپائے اور نہ اس کی اہمیت گھٹائے۔

اس روایت کو مزید اہمیت اس وقت ملتی ہے جب ہم امام حسنؑ کے زہر سے متعلق دیگر سنی مصادر کو ساتھ رکھتے ہیں۔ الحاکم النیشاپوری نے جعدہ کے زہر دینے کا واقعہ نقل کیا؛ ابن عبد البر نے جعدہ کے کردار کے ساتھ معاویہ کی طرف تدسیس کی نسبت بھی نقل کی؛ اور سبط ابن الجوزی نے تذکرۃ الخواص میں شعبی کے حوالے سے اس نسبت کو مزید صراحت کے ساتھ نقل کیا۔ شعبی کی روایت میں الفاظ ہیں: «إِنَّمَا دَسَّ إِلَيْهَا مُعَاوِيَةُ فَقَالَ: سُمِّي الْحَسَنَ وَأُزَوِّجُكِ يَزِيدَ وَأُعْطِيكِ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ»؛ یعنی: “معاویہ نے ہی اسے خفیہ طور پر پیغام بھیجا اور کہا: حسن کو زہر دے دو، میں تمہاری شادی یزید سے کردوں گا اور تمہیں ایک لاکھ درہم دوں گا۔” سبط ابن الجوزی اسی روایت میں یہ بھی نقل کرتے ہیں کہ امام حسنؑ کی شہادت کے بعد جعدہ نے وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کیا تو معاویہ نے مال تو بھیجا مگر یزید سے شادی کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ تذکرۃ الخواص، ص 192۔

یہاں ایک انصاف پسند مؤرخ کے سامنے یہ بات بالکل واضح رہنی چاہیے: کہ امام حسنؑ کو زہر دیے جانے اور جعدہ کے اس میں کردار کا ذکر اہلِ سنت کے متعدد قدیم مصادر میں موجود ہے؛ اور معاویہ کے براہِ راست حکم دینے کی نسبت بھی ابن عبد البر اور سبط ابن الجوزی جیسے قدیم اہلِ سنت علماء کی کتابوں میں صاف طور پر نقل ہوئی ہے۔ اس لیے اس تاریخی شہادت کو نظرانداز کرنا درست نہیں۔ علمی تحقیق کا تقاضا یہی ہے کہ جو بات جس ماخذ میں موجود ہے اسے پوری دیانت کے ساتھ سامنے رکھا جائے، نہ اسے چھپایا جائے اور نہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا جائے۔ تاریخ کے ان صفحات میں معاویہ کی طرف سے امام حسنؑ کو زہر دلوانے کی نسبت موجود ہے، اور ایک انصاف پسند مؤرخ اس شہادت کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔

یہاں ایک اور نہایت اہم سنی ماخذ سامنے آتا ہے: المستدرک میں جعدہ کے ذریعے زہر دیے جانے کی روایت کے ساتھ عنوان ہی «سمت الحسن بن علي زوجته» قائم کیا گیا ہے، اور قتادہ کی روایت میں صاف الفاظ ہیں کہ جعدہ کو اس کام پر مال دیا گیا۔ اس سے کم از کم یہ تاریخی حقیقت بہت مضبوط ہوجاتی ہے کہ امام حسنؑ کی وفات کو محض ایک طبعی موت کہنا درست نہیں؛ قدیم سنی روایات میں زہر کا واقعہ باقاعدہ محفوظ ہے۔ اور جب خود امام حسنؑ کا بیان بھی موجود ہو کہ «سُقِيتُ السُّمَّ مِرَارًا»، “مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا”، تو واقعے کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔

پھر سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ زہر کس نے دیا؛ سوال یہ بھی ہے کہ اس زہر سے سب سے زیادہ فائدہ کس سیاسی قوت کو پہنچتا تھا؟ امام حسنؑ کی موجودگی اموی اقتدار کے لیے ایک زندہ اخلاقی، دینی اور خاندانی مرکز تھی؛ وہ رسولؐ کے نواسے تھے، علی ع کے فرزند تھے، اور امت کے دل میں اہلِ بیت کی محبت کی زندہ علامت تھے۔ ان کی موجودگی میں اموی اقتدار کو ایک ایسی شخصیت کے سامنے رہنا تھا جس کی نسبت اقتدار سے نہیں، رسولؐ سے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک انصاف پسند مؤرخ جب واقعات کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک مسلسل تاریخی سلسلے میں دیکھتا ہے تو سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے: کیا امام حسنؑ کی شہادت کو اس سیاسی کشمکش سے بالکل الگ سمجھا جاسکتا ہے؟

معتبر قدیم تاریخی موقف کا جواب نفی میں ہے؛

اس پوری داستان میں ایک اور تلخ حقیقت بھی ہے: امام حسنؑ کی مظلومیت موت کے ساتھ ختم نہیں ہوئی؛ ان کی تدفین بھی سیاسی کشمکش اور مزاحمت سے محفوظ نہ رہ سکی۔ اہلِ سنت کے قدیم مؤرخ محمد بن سعد نے الطبقات الکبریٰ میں لکھا ہے کہ جب امام حسنؑ کی وفات ہوئی اور اہلِ بیت انہیں رسولؐ کے قریب دفن کرنا چاہتے تھے تو مروان نے اس کی سخت مخالفت کی، بنی امیہ کو جمع کیا، سب نے ہتھیار پہن لیے اور حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ «حَتَّى كَانَتْ بَيْنَهُمْ الْمُرَامَاةُ بِالنَّبْلِ»؛ یعنی “یہاں تک کہ ان کے درمیان تیروں سے ایک دوسرے پر تیر اندازی ہونے لگی۔” یہ روایت محمد بن سعد، الطبقات الکبریٰ، ترجمۃ امام حسنؑ، ص 86 میں منقول ہے۔ یہی واقعہ ابن عساکر نے تاریخ مدینۃ دمشق، ترجمۃ امام حسنؑ، ج 13، ص 292* میں بھی نقل کیا ہے، جبکہ ذہبی نے سیر أعلام النبلاء، ج 3، ص 276 میں بھی «وكانت بينهم مراماة» کے الفاظ سے اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ (مركز الهدى للدراسات الإسلامية⁠) یوں تاریخ کا المیہ اور بھی گہرا ہوجاتا ہے: جس نواسۂ رسولؐ نے اپنی زندگی میں امت کے خون کو روکنے کے لیے جنگ چھوڑ کر صلح اختیار کی، اس کی میت بھی قبر تک سکون سے نہ پہنچ سکی؛ اس کے جنازے کو رسولؐ کے جوار تک لے جانے پر تیروں کی نوبت آگئی، اور آخرکار امام حسنؑ کی اپنی وصیت اور خونریزی سے بچنے کی خواہش کے مطابق انہیں جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔

یہاں امام حسنؑ کی وصیت کا اخلاقی حسن بھی سامنے آتا ہے: اگر نانا رسولؐ کے قریب دفن کرنے میں خونریزی کا اندیشہ ہو تو میری خاطر ایک قطرہ خون بھی نہ بہانا، مجھے بقیع لے جانا۔ یعنی جس شخص نے زندگی میں جنگ روکنے کے لیے اپنا سیاسی حق قربان کیا، اس نے موت کے بعد بھی اپنی قبر کے لیے مسلمانوں کا خون بہنے نہیں دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امام حسنؑ کی شخصیت محض ایک تاریخی شخصیت نہیں رہتی بلکہ اخلاق کی زندہ تفسیر بن جاتی ہے۔

اور شاید یہی امام حسنؑ اور معاویہ کے درمیان سب سے بڑا فرق ہے: ایک طرف وہ شخصیت ہے جس کے پاس لشکر تھا مگر اس نے تلوار روک دی؛ جس کے پاس اقتدار کا امکان تھا مگر اس نے امت کا خون بچایا؛ جسے زہر دیا گیا مگر اس نے قاتل کا نام لے کر انتقام کا دروازہ نہیں کھولا؛ اور دوسری طرف وہ سیاسی اقتدار ہے جس نے علی علیہ السلام کے مقابل جنگ کی، حسنؑ کے مقابل جنگ کی، پھر صلح کی، اور اسی دور کے اختتام پر حسنؑ زہر سے دنیا سے رخصت ہوئے۔ تاریخ ان دونوں کو ایک ہی ترازو میں رکھ کر نہیں دیکھ سکتی؛ کیونکہ ایک نے اقتدار کو قربان کیا اور دوسرے نے اقتدار کو مقصد بنایا۔

یہاں صحیح مسلم کی وہ روایت پھر یاد آتی ہے جس میں معاویہ کا سعد بن ابی وقاص سے سوال محفوظ ہے: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟» اور سعد کا جواب بھی تاریخ کے سینے میں محفوظ ہے کہ میں علی کو برا نہیں کہہ سکتا، کیونکہ رسولؐ نے ان کے بارے میں ایسی فضیلتیں بیان کی ہیں جن کے مقابل دنیا کی بڑی سے بڑی دولت بھی ہیچ ہے۔ جب یہ روایت امام حسنؑ کی شہادت کی تاریخی روایات کے ساتھ رکھی جاتی ہے تو پورا منظرنامہ زیادہ واضح ہوجاتا ہے: یہ صرف دو خاندانوں کی سیاسی رقابت نہیں تھی؛ یہ اہلِ بیت کے مقام اور اموی اقتدار کے درمیان ایک طویل کشمکش تھی۔

اس لیے ایک انصاف پسند مؤرخ کے لیے امام حسنؑ کی شہادت کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ “جعدہ نے زہر دیا یا نہیں”، بلکہ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ جعدہ کو کس نے آمادہ کیا، کیوں کیا، اور اس قتل سے سیاسی طور پر فائدہ کس کو پہنچا؟

اب یہاں یہ فیصلہ کرنا امام حسن علیہ السلام کا اصل قاتل کون ہے ؟ کوئی مشکل نہیں، کیونکہ زہر کا واقعہ اپنی جگہ موجود ہے، جعدہ کا کردار اپنی جگہ موجود ہے، امام حسنؑ کا اپنا بیان اپنی جگہ موجود ہے، اور معاویہ کی تدسیس کی نسبت بھی قدیم تاریخی کتابوں میں محفوظ ہے۔ تاریخ کا کام کسی کردار کو بچانے کے لیے سوال مٹانا نہیں، بلکہ سوال کو اس کے تمام شواہد کے ساتھ زندہ رکھنا ہے۔

امام حسنؑ کی زندگی کا المیہ یہی تھا کہ انہوں نے جنگ روک دی مگر دشمنی نہ رکی؛ انہوں نے صلح کردی مگر سیاسی کشمکش ختم نہ ہوئی؛ انہوں نے امت کا خون بچایا مگر خود زہر سے نہ بچ سکے۔ انہوں نے تلوار رکھ دی تو تاریخ نے ان کے ہاتھ میں صبر رکھ دیا؛ ان کے جگر پر زہر رکھا گیا تو ان کے لبوں پر پھر بھی انتقام نہیں آیا۔ جب امام حسین علیہ السلام نے پوچھا کہ کس نے زہر دیا تو امام حسنؑ نے قاتل کا نام بتانے کے بجائے فرمایا کہ اگر وہی ہے جس کا مجھے گمان ہے تو اللہ اس سے زیادہ سخت انتقام لینے والا ہے۔ المستدرک، ج 4، حدیث 4869۔

یہ ایک ایسا جملہ ہے جس میں پوری حقیقت سمٹ گئی ہے: مظلومیت ہے، مگر انتقام نہیں؛ درد ہے، مگر امت کے انتشار کا بھی خیال ہے اور یہی وجہ ہے کہ امام حسنؑ کی شہادت کو صرف “ایک سیاسی قتل” کہنا بھی ان کی عظمت کم کردیتا ہے۔ یہ صبر کی شہادت تھی، حلم کی شہادت تھی، اہلِ بیت کی مظلومیت کا ایک اور باب تھا۔ کربلا ابھی آنے والی تھی، مگر کربلا کا ایک پیش خیمہ مدینہ میں خاموشی سے لکھا جاچکا تھا؛ امام حسین ابھی میدانِ کربلا میں جانے والے تھے، مگر ان کے بڑے بھائی حسنؑ پہلے ہی اپنے جگر کے ٹکڑے زہر کے ذریعے قربان کرچکے تھے۔ ایک نے صبر سے تاریخ کو بچایا، دوسرے نے خون سے تاریخ کو جگایا۔

پس اگر ایک انصاف پسند مؤرخ اہلِ سنت کے معتبر مصادر کو سامنے رکھ کر نتیجہ اخذ کرے تو وہ اتنا ضرور کہے گا کہ امام حسنؑ کی صلح صحیح بخاری سے ثابت ہے، ان کا “سیدشباب اھل الجنہ” ہونا اور مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کا ذریعہ بننا رسولؐ کی صحیح حدیث سے ثابت ہے، معاویہ کا علی علیہ السلام کے بارے میں سعد سے “سبّ” کے متعلق سوال صحیح مسلم میں محفوظ ہے، امام حسنؑ کو زہر دیے جانے اور جعدہ کے کردار کا ذکر الحاکم، ابن عبد البر اور دیگر تاریخی مصادر میں موجود ہے، جبکہ معاویہ کی طرف سے جعدہ کو اکسانے کی نسبت ابن عبد البر اور سبط ابن الجوزی جیسے اہلِ سنت کے مصادر میں موجود ہے؛

امام حسنؑ نے اقتدار چھوڑا، مگر حق نہیں چھوڑا؛ انہوں نے جنگ چھوڑ دی، مگر اصول نہیں چھوڑے؛ انہوں نے دشمن کو معاف کیا، مگر تاریخ کو بھولنے کی اجازت نہیں دی؛ انہوں نے قاتل کا نام نہیں لیا، مگر اپنے جگر پر زہر کی گواہی چھوڑ دی۔ معاویہ نے ایک سیاسی سلطنت حاصل کی، مگر امام حسنؑ نے وہ مقام حاصل کیا جسے اقتدار کی کوئی تختی نہیں دے سکتی: رسولؐ کے دل کا مقام، اہلِ بیت کی محبت کا مقام اور مظلوم تاریخ کی دائمی شہادت۔

تاریخ کے اوراق آج بھی خاموش نہیں؛ وہ پوچھتے ہیں: جس نواسۂ رسولؐ کو خود رسولؐ نے «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ» کہا تھا، اس کے جگر میں زہر کس نے پہنچایا؟

جعدہ کا ہاتھ کس کے اشارے پر اٹھا؟

اس قتل سے فائدہ کس اقتدار کو ہوا؟

ابن عبد البر نے ایک تاریخی جواب محفوظ کیا، سبط ابن الجوزی نے اسے مزید تفصیل دی، اور امام حسنؑ نے خود اپنے جگر کی گواہی دے دی۔ اب تاریخ کا کام یہ نہیں کہ وہ سوال کو دفن کردے؛ تاریخ کا کام یہ ہے کہ شواہد کو سامنے رکھے اور فیصلہ آنے والی نسلوں کے ضمیر پر چھوڑ دے۔

آخر میں امام حسنؑ کی پوری زندگی کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو شاید اس سے بہتر جملہ نہ ہو: انہوں نے امت کو بچانے کے لیے اپنی حکومت چھوڑ دی، مسلمانوں کو بچانے کے لیے اپنی تلوار چھوڑ دی، اپنے بھائی کو انتقام سے روکنے کے لیے قاتل کا نام چھوڑ دیا، مگر ظالم سیاست انہیں چھوڑ نہ سکی؛ چنانچہ حسنؑ نے دنیا چھوڑ دی، مگر دنیا کے ضمیر میں اپنا سوال چھوڑ گئے۔

سلام ہو امام حسنؑ پر؛ سبطِ رسولؐ پر؛ مظلومِ مدینہ پر؛ مسمومِ مدینہ پر؛ اس جگرِ پارۂ رسولؐ پر جس نے امت کے لیے صبر کیا، جس نے اقتدار کے مقابل اخلاق کو منتخب کیا، اور جس نے زہر کے آخری گھونٹ میں بھی اپنے بھائی حسین علیہ السلام کو یہی سبق دیا کہ قاتل سے پہلے اللہ کی عدالت کو یاد رکھو۔

حوالہ جات

صحیح البخاری: محمد بن اسماعیل البخاری، الجامع الصحیح، کتاب الصلح، باب: «قول النبیؐ للحسن بن علی: ابنی هذا سید»، حدیث 2704۔ اس میں امام حسنؑ کے معاویہ کے مقابل بڑی فوج کے ساتھ آنے، معاویہ کی طرف سے صلح کی کوشش اور رسولؐ کا امام حسنؑ کو “سید” قرار دینے والا فرمان موجود ہے۔

صحیح مسلم: مسلم بن حجاج النیسابوری، الصحیح، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 2404d۔ اصل عبارت: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟»؛ اس روایت میں معاویہ کا سعد بن ابی وقاص سے علی علیہ السلام کے بارے میں سوال اور سعد کا انکار، نیز حدیثِ منزلت، خیبر اور مباہلہ کا ذکر ہے۔

المستدرک علی الصحیحین: ابو عبد اللہ الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفة الصحابہ، باب «سمت الحسن بن علی زوجته»، ج 4، حدیث 4868۔ اصل عبارت: «سَمَّتِ ابْنَةُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَكَانَتْ تَحْتَهُ وَرُشِيَتْ عَلَى ذَلِكَ مَالًا»؛ “اشعث بن قیس کی بیٹی نے امام حسنؑ کو زہر دیا اور اس کام پر اسے مال دیا گیا۔”

المستدرک علی الصحیحین: ج 4، حدیث 4869؛ عمیر بن اسحاق سے امام حسنؑ کا قول: «لَقَدْ بَلَتْ طَائِفَةٌ مِنْ كَبِدِي، وَلَقَدْ سُقِيتُ السُّمَّ مِرَارًا فَمَا سُقِيتُ مِثْلَ هَذَا»؛ “میرے جگر کا ایک حصہ نکل چکا ہے، مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا، مگر اس مرتبہ جیسا کبھی نہیں پلایا گیا۔”

ابن عبد البر: ابو عمر یوسف بن عبد اللہ ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب، ترجمۃ امام حسنؑ، ج 1، ص 389–390، مطبوعہ کے اختلاف کے ساتھ۔ اصل عبارت: «وقال قتادة وأبو بكر بن حفص: سُمَّ الحسن بن علي، سمته امرأته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي»، اور پھر: «وقالت طائفة: كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها وما بذل لها في ذلك»۔

سبط ابن الجوزی: یوسف بن قزغلی، تذکرۃ الخواص، ص 192؛ شعبی کی طرف منسوب روایت میں: «إِنَّمَا دَسَّ إِلَيْهَا مُعَاوِيَةُ فَقَالَ: سُمِّي الْحَسَنَ وَأُزَوِّجُكِ يَزِيدَ وَأُعْطِيكِ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ»؛ معاویہ کی طرف سے جعدہ کو اکسانے کی صریح تاریخی نسبت۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha