تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی| کچھ عرصہ پہلے تک ایک مختصر اینیمیشن تیار کرنا ایک انتہائی مشکل، طویل اور مہنگا کام سمجھا جاتا تھا۔ ایک چھوٹی سی متحرک فلم بنانے کے لیے درجنوں ماہرین، اینیمیٹرز، مصنفین، ایڈیٹرز، جدید اسٹوڈیوز اور بھاری سرمایہ درکار ہوتا تھا۔ ہر ایک فریم کے پیچھے گھنٹوں کی محنت اور فنی مہارت شامل ہوتی تھی۔ یہی مشکل راستہ غیر معیاری اور غیر ذمہ دارانہ مواد کے پھیلاؤ کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھا۔
لیکن آج مصنوعی ذہانت (AI) کے آنے کے بعد چند الفاظ لکھ کر چند منٹوں میں اینیمیشن تیار کی جا سکتی ہے۔ جو کام کبھی مہینوں میں مکمل ہوتا تھا، اب کم خرچ یا بسا اوقات مفت میں بھی ممکن ہو گیا ہے۔ یہ سہولت بلاشبہ تخلیقی صلاحیتوں کے لیے ایک بڑا موقع ہے، مگر اس کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے کہ مواد بنانے کی رفتار، اس کی جانچ اور تصدیق سے آگے نکل گئی ہے۔
آج چند کلکس کے ذریعے ایسے دلکش اور رنگین ویڈیوز بنائے جا رہے ہیں جو بظاہر معصوم دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے اندر غلط پیغامات، غیر اخلاقی اشارے اور گمراہ کن تصورات شامل ہو سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا اب صرف ایک ذریعہ نہیں رہی بلکہ ایک ایسا بہت بڑا شو روم بن چکی ہے جہاں ہر عمر کے انسان کے لیے الگ الگ مواد موجود ہے۔ الگورتھم اس انداز سے مواد پیش کرتے ہیں کہ بچے، نوجوان اور بزرگ سب اپنی دلچسپی کے مطابق اس میں کھنچتے چلے جاتے ہیں۔
خاص طور پر بچے، جو ابھی صحیح اور غلط میں مکمل فرق کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کر پاتے، ان کرداروں کو حقیقت اور تفریح کے درمیان ایک ایسی دنیا سمجھتے ہیں جہاں ہر چیز قابل قبول محسوس ہوتی ہے۔
پھلوں اور سبزیوں کے کردار:
حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایسی ویڈیوز کا رجحان بڑھا ہے جن میں سیب، کیلا، پیاز، آلو، گاجر، ٹماٹر، چاکلیٹ، کھلونوں یا دیگر چیزوں کو انسانی کردار دے کر کہانیاں بنائی جاتی ہیں۔
بعض اوقات یہ کردار صرف مزاح اور تفریح تک محدود رہتے ہیں، لیکن کچھ غیر ذمہ دار تخلیق کار انہی معصوم شکلوں کو استعمال کرتے ہوئے ایسے پیغامات شامل کرتے ہیں جو بچوں کے لیے مناسب نہیں ہوتے۔
والدین جب بچے کو سیب یا آلو جیسے کرداروں والی کارٹون ویڈیو دیکھتے ہیں تو عموماً مطمئن ہو جاتے ہیں کہ یہ محفوظ مواد ہے، لیکن بعض مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے مواد میں الفاظ، اشاروں اور مکالموں کے ذریعے ایسے مفاہیم شامل کیے جا سکتے ہیں جو بچے کے ذہن پر منفی اثر ڈالیں۔
اس سلسلہ سے چند انیمیشنز پر توجہ ضروری ہے:
1۔ VeggieTales
اس سیریز میں سبزیوں کے کردار جیسے ٹماٹر، کھیرا وغیرہ کہانیوں کے ذریعے اخلاقی سبق دیتے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے کہ پھل اور سبزیوں کے کردار مثبت تربیتی مقصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔
لیکن اسی تصور کا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔ اگر کوئی غیر معروف تخلیق کار سبزیوں کے کرداروں کو استعمال کر کے بچوں کے سامنے نامناسب مذاق، غلط زبان یا غیر اخلاقی تصورات پیش کرے تو بچے کردار کی معصوم شکل دیکھ کر اصل پیغام کو قبول کر سکتے ہیں۔
2۔ The Annoying Orange
اس میں نارنجی (Orange) کو ایک انسانی مزاحیہ کردار کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ یہ کردار بچوں اور نوجوانوں میں مقبول ہوا۔
مسئلہ یہ ہے کہ آج AI کے ذریعے اسی طرح کے کردار چند لمحوں میں تیار کیے جا سکتے ہیں، اور کوئی بھی شخص پھلوں کے کرداروں کے ذریعے ایسا مواد بنا سکتا ہے جس کی نگرانی مشکل ہو۔
3۔ Apple & Onion
اس میں سیب اور پیاز جیسے کردار دکھائے گئے ہیں۔ اصل سیریز مزاحیہ انداز میں بنائی گئی ہے۔
لیکن جب یہی انداز نقل کر کے غیر ذمہ دارانہ مواد تیار کیا جاتا ہے تو بچے صرف کردار دیکھتے ہیں، یہ نہیں سمجھتے کہ اس کے پیچھے چھپا ہوا پیغام کیا ہے۔
4۔ ہندی و اردو یوٹیوب اینیمیشنز میں پھلوں اور سبزیوں کے بہت سے کردار موجود ہیں خاص کر
ہندی زبان میں یوٹیوب پر ایسی بہت سی مختصر اینیمیشنز موجود ہیں جن میں:
آم (Mango)
کیلا (Banana)
سیب (Apple)
ٹماٹر (Tomato)
آلو (Potato)
کو انسانی کردار دے کر کہانیاں بنائی جاتی ہیں۔
ان میں بہت سا مواد بچوں کے لیے مناسب بھی ہوتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ کھلے پلیٹ فارم پر کوئی بھی شخص AI کی مدد سے ایسی ویڈیوز بنا سکتا ہے جن میں ظاہری معصومیت کے باوجود غیر مناسب مکالمے شامل ہوں۔
بچے کیسے متاثر ہوتے ہیں؟
ماہرین نفسیات کے مطابق بچے ابتدائی عمر میں زیادہ تر دیکھ کر اور دہرا کر سیکھتے ہیں۔
اگر کوئی بچہ بار بار ایسے الفاظ سنتا ہے جو نامناسب ہیں تو وہ انہیں صرف ایک مزاحیہ جملہ سمجھ کر یاد کر لیتا ہے۔ پھر وہی الفاظ اسکول، گھر یا دوستوں کے درمیان استعمال ہونے لگتے ہیں۔
سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہے جب مجازی دنیا کا جملہ حقیقی دنیا کی زبان بن جائے۔
بچہ یہ فرق نہیں کر پاتا کہ:
کیا صرف مذاق ہے؟
کیا اخلاقی طور پر غلط ہے؟
کیا بڑوں کے لیے بھی نامناسب ہے؟
والدین کے لیے ضروری احتیاط
صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کارٹون کا کردار خوبصورت ہے یا رنگین ہے۔
ضروری ہے کہ والدین:
بچے کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار مواد دیکھیں۔
نامعلوم چینلز اور وائرل ویڈیوز سے احتیاط کریں۔
بچے سے گفتگو کریں کہ ہر دلچسپ چیز ضروری نہیں کہ اچھی بھی ہو۔
بچے میں سوچنے اور سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
موبائل اور ٹیبلٹ کو مکمل نگران کے بغیر نہ چھوڑیں۔
اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، بے نگرانی ہے
مصنوعی ذہانت ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اسی سے بہترین تعلیمی مواد بھی بنایا جا سکتا ہے اور نقصان دہ مواد بھی۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں کو صرف اسکرین نہ دیں بلکہ سمجھنے کی صلاحیت بھی دیں۔
آج کی جنگ صرف زمینوں پر نہیں، بلکہ ذہنوں پر بھی ہے۔ کبھی یہ جنگ الفاظ سے ہوتی ہے، کبھی تصویروں سے اور کبھی ایک معصوم نظر آنے والے کارٹون کے ذریعے۔
بچوں کے ذہن قوم کا مستقبل ہیں، اس لیے ڈیجیٹل دنیا میں ان کی حفاظت صرف والدین نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
این دنوں ایک ایسے ماحول میں جہاں بچے غیر ارادی طور پر مجازی دنیا کے کرداروں کے ساتھ بڑے ہو رہے ہیں اور ان کی دنیا کو دیکھنے کی نظر گلیوں، میدانوں اور حقیقی زندگی کے تجربات سے نہیں بلکہ لیپ ٹاپ اور موبائل فون کی چھوٹی اسکرینوں سے تشکیل پا رہی ہے، بہت سے بچوں کی عمومی پسند و ناپسند انہی ڈیجیٹل مواد کے زیرِ اثر ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں طاقتور مصنوعی ذہانت (AI) کے اوزار سامنے آنے کے بعد ہم ایک نئی قسم کے خطرے سے دوچار ہیں؛ ایسا خطرہ جو خوفناک چہروں کے ساتھ نہیں بلکہ پھلوں، کھانے پینے کی اشیاء، آلات اور دیگر فرضی کرداروں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے گئے یہ مواد، الفاظ اور تصاویر کی مخصوص رمز بندی (Coding) کا استعمال کرتے ہوئے جنسی نوعیت کے بعض تصورات کو رنگین اور دلکش اینیمیشن کے پردے میں چھپا دیتے ہیں۔ بہت سے والدین جب اپنے بچوں کو پیاز، آلو، کیل، ہتھوڑے یا اسی طرح کے کارٹونی کرداروں والی اینیمیشن دیکھتے ہوئے پاتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ بچہ محفوظ مواد دیکھ رہا ہے، لیکن حقیقت میں بعض نقصان دہ مواد تیار کرنے والے لوگ "اشاراتی زبان" استعمال کرتے ہیں۔
چونکہ انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارم کے نگرانی کرنے والے مصنوعی ذہانت کے نظام عموماً فحش الفاظ اور غیر مناسب زبان کو پہچان کر روک دیتے ہیں، اس لیے بعض تخلیق کار ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ الگورتھم کو چکمہ دیتے ہیں اور اپنے پوشیدہ پیغامات کو ناظرین کے ذہنوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
ایسے مواد میں جنسی ادویات کی تشہیر، بے وفائی کو فروغ دینا، اور برے الفاظ کے استعمال کو معمول بنانا شامل ہو سکتا ہے۔ چونکہ یہ سب کچھ مزاحیہ اور دلکش انداز میں پیش کیا جاتا ہے، اس لیے بچے بلکہ بعض اوقات بڑے افراد بھی اسے دیکھتے رہنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، جو ایک قابلِ غور مسئلہ ہے۔
بچوں کے مقبول کارٹونز میں چھپے ہوئے پیغامات
رضا فریدی، جو کلینیکل ماہرِ نفسیات اور سماجی مسائل کے ماہر ہیں، اس سلسلے میں کہتے ہیں:
"بچے اپنی ابتدائی عمر میں کسی پیغام کے درست یا غلط ہونے کا مکمل فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، بلکہ وہ زیادہ تر دیکھ کر اور دہرا کر سیکھتے ہیں۔ اس لیے ایسی کہانیاں بچوں کو ایسے نمونے فراہم کر سکتی ہیں جو خاندان کی تربیتی اور ثقافتی اقدار سے مختلف ہوں۔"
وہ مزید کہتے ہیں:
"اہم بات یہ ہے کہ ایسے مواد بنانے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ بچے کی توجہ کیسے حاصل کی جائے۔ وہ رنگوں، دلچسپ الفاظ، تیز رفتار مزاح اور پسندیدہ کرداروں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ بچہ زیادہ دیر تک اس مواد سے جڑا رہے۔ یہی کشش والدین کے لیے بچوں کے استعمال اور نگرانی کو مشکل بنا دیتی ہے۔"
یہ ماہرِ نفسیات وضاحت کرتے ہیں:
"بچہ بظاہر صرف کارٹون دیکھ رہا ہوتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سادہ اور پسندیدہ تفریح سے لطف اندوز ہو رہا ہے، نہ کہ ایسے مواد سے جس میں نامناسب پیغامات شامل ہو سکتے ہیں۔ والدین بھی اکثر اس مقصد سے بے خبر ہوتے ہیں اور بچے کو آسانی سے موبائل دے دیتے ہیں کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ بچہ تو صرف پھلوں اور سبزیوں کے کرداروں والی ویڈیو دیکھ رہا ہے۔"
حقیقت یہ ہے کہ جب ناظرین سیب، مالٹے یا دیگر خیالی کرداروں کو دیکھتے ہیں تو انہیں بے ضرر سمجھتے ہیں اور روکنے کے بجائے دوسروں کو بھی بھیج دیتے ہیں۔
بچے، جو چھپے ہوئے مفاہیم کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، ان کہانیوں میں استعمال ہونے والے الفاظ اور جملوں کو دہرانا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ مکالمے سنتے ہیں، تصاویر دیکھتے ہیں اور بغیر جانے نقصان دہ تصورات کو اپنے ذہن کے گہرے حصے میں محفوظ کر لیتے ہیں۔
سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب یہ الفاظ مجازی دنیا سے نکل کر بچے کی حقیقی گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں۔
جب کوئی بچہ اسکول یا نرسری میں ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جو بظاہر کسی پھل یا کارٹون کردار کی گفتگو کا حصہ تھا لیکن حقیقت میں اس کا مطلب نامناسب ہوتا ہے، تو یہ ایک اخلاقی اور تربیتی بحران بن جاتا ہے۔
اس طرح غیر اخلاقی تصورات آہستہ آہستہ معمول بننے لگتے ہیں اور بچہ مذاق، کھیل اور ممنوعہ چیزوں کے درمیان فرق کرنا مشکل محسوس کرتا ہے۔
بچوں کی اینیمیشنز میں بے وفائی کو معمول بنانا
سیدہ فاطمہ حسینی دربرزی، جو یونیورسٹی کی استاد ہیں، کہتی ہیں:
"یہ کہانیاں جوں جوں آگے بڑھتی ہیں، اخلاقی اور منطقی حدود کو زیادہ پامال کرتی جاتی ہیں، یہاں تک کہ اگر کوئی بچہ ان مکالموں کے بارے میں اپنے والدین سے سوال کرے تو ممکن ہے کہ اسے اپنی عمر اور حالات کے مطابق مناسب جواب نہ مل سکے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ ویڈیوز بچے کے ذہن کے پوشیدہ حصوں میں سماجی اور ثقافتی نقصانات کو معمول بنا دیتی ہیں۔"
وہ مزید کہتی ہیں:
"اگرچہ اس قسم کے مواد کو شاید فن نہ کہا جائے، لیکن توجہ حاصل کرنے کے مقصد میں یہ انتہائی کامیاب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچے گھنٹوں اس دنیا میں رہنے کے لیے راغب ہوتے ہیں۔ عجیب و غریب واقعات، غیر معمولی حرکات اور مزاحیہ انداز کے ذریعے ناظر کو مسلسل مصروف رکھا جاتا ہے۔"
ان کے مطابق:
"اگرچہ یہ ویڈیوز روزمرہ زندگی کے مسائل کو موضوع بناتی ہیں اور معاشرے سے اپنا مواد حاصل کرتی ہیں، لیکن ان میں موجود تصاویر، جملے اور الفاظ بعض اوقات خاندان کے بنیادی نظام اور اخلاقی اقدار کو متاثر کرتے ہیں۔"
وہ مزید کہتی ہیں:
"یہ مواد کارٹون اور اینیمیشن کی شکل میں غیر مناسب جملوں اور الفاظ کے ذریعے بے وفائی اور خاندانی اقدار سے دوری کو معمول بنا سکتا ہے۔ چونکہ یہ سب کچھ مزاح کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے، اس لیے پہلی نظر میں دلکش محسوس ہوتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ بچوں کے لاشعور میں جگہ بنا لیتا ہے۔"
ان کے مطابق:
"ایسی تصاویر دیکھ کر بچے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ اگر ایک شریکِ حیات نے دوسرے سے بے وفائی کی تو جواب میں بے وفائی کرنا بھی قابلِ قبول ہے، یا کسی نئے شخص کے آنے سے پرانے رشتے کو آسانی سے چھوڑا جا سکتا ہے۔"
کارٹونی کردار والدین کی حفاظتی دیوار کو کمزور کر دیتے ہیں
ابراہیم نوروزی فر، میڈیا کے ماہر، کہتے ہیں:
"جب کوئی غیر اخلاقی تصور سیب یا کیلے جیسے کردار کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے تو والدین کی احتیاط اور بچے کا اخلاقی دفاع کمزور ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں مواد بغیر کسی ذہنی مزاحمت کے بچے کے ذہن میں داخل ہو جاتا ہے۔"
وہ کہتے ہیں:
"اس رجحان کو صرف نامناسب تفریح نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ اقدار کو نقصان پہنچانے والا ایک منظم مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔"
ان کے مطابق:
"والدین کو سمجھنا ہوگا کہ کسی اینیمیشن کا خوبصورت اور دلکش ہونا اس کے صحت مند ہونے کی ضمانت نہیں ہے۔ بچوں کے دیکھنے والے مواد کا انتخاب آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ذمہ داری بن چکا ہے۔"
وہ مزید کہتے ہیں:
"ڈیجیٹل دور میں جنگ صرف جغرافیائی سرحدوں پر نہیں بلکہ بچوں کے ہاتھ میں موجود چھوٹی اسکرینوں پر بھی جاری ہے۔"
اینیمیشن کے پردے میں خاموش داخلہ
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اخلاق اور ثقافت کو نقصان پہنچانے والے اثرات ہمیشہ کھلے حملے کی صورت میں نہیں آتے۔ کبھی کبھی وہ چند سیکنڈ کی ایک خوبصورت اور مزاحیہ اینیمیشن کے ذریعے خاموشی سے گھر میں داخل ہو جاتے ہیں۔
اس لیے خاندان کا تحفظ صرف ایک جسمانی دیوار نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور فکری سرحد بھی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ:
صرف خوبصورت شکل دیکھ کر کسی مواد کو محفوظ نہ سمجھیں۔
بچوں کے ساتھ گفتگو کریں۔
انہیں سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت دیں۔
ہر مقبول اور دلچسپ چیز کو بغیر سوچے قبول نہ کریں۔
دلکش مواد کو بغیر سوچے قبول نہ کریں
رضا فریدی کہتے ہیں:
"جب بچہ کسی پسندیدہ کردار کو دیکھتا ہے تو اس کا ذہنی دفاع کم ہو جاتا ہے اور اسی لمحے ایک غلط لفظ یا تصور خاموشی سے اس کے لاشعور میں جگہ بنا لیتا ہے۔"
وہ مزید کہتے ہیں:
"اس کا حل صرف پابندی لگانا یا ٹیکنالوجی سے دور کرنا نہیں، بلکہ والدین کی ذمہ دارانہ نگرانی اور دوستانہ گفتگو ہے۔"
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو سمجھائیں کہ:
ہر مزاحیہ چیز درست نہیں ہوتی۔
ہر مقبول چیز فائدہ مند نہیں ہوتی۔
ہر خوبصورت تصویر کے پیچھے اچھا پیغام ضروری نہیں۔
آج کے دور میں میڈیا کی سمجھ بوجھ (Media Literacy) کوئی اضافی صلاحیت نہیں بلکہ بچوں کی تربیت کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
والدین کی آگاہی، مسلسل گفتگو اور بچوں کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلق ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے دور میں بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی صحت کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ