حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمنِ فقہ تربیتی کا سولہواں علمی و تحقیقی مجلہ ”تعلیم و تربیت“ ڈاکٹر محمد لطیف مطہری کی کوششوں سے زیور طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ گیا ہے۔
فقہ اسلامی میں مکلّف کے تمام اختیاری اعمال کی طرح، تعلیمی و تربیتی طرزِ عمل کے لئے بھی حکم موجود ہے۔ فقہ تربیتی تعلیم و تربیت سے منسلک افراد یعنی اساتذہ اور مربیوں کے اختیاری افعال کے لئے اجتہادی اور استنباطی طریقے سے حکم معین کرتا ہے۔
دینی مراکز میں تعلیم و تربیت کا شعبہ باقی تمام تعلیمی شعبوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ حوزہ علمیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ سماج اور معاشرے کی اصلاح، تعلیم و تربیت، تبلیغ دین اور اسلامی معارف کی نشر و اشاعت کا علمبردار ہے، اس لئے حوزہ علمیہ لوگوں کی شرعی ذمہ داریوں کی تشخیص اور تعیین کو اپنا وظیفہ سمجھتا ہے، اس کا لازمہ یہ ہے کہ علمی میدان میں یہ شعبہ زیادہ سے زیادہ کوشش کرے۔
مجلۂ تعلیم و تربیت انجمنِ فقہ تربیتی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اب تک اس علمی تحقیقی مجلے کے 14 شمارے منظر عام پر آ گئے ہیں۔
اس علمی تحقیقی مجلہ کے چیف ایڈیٹر معروف کالم نگار، محقق اور جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے استاد جناب ڈاکٹر محمد لطیف مطہری ہیں، جن کی کوششوں سے یہ علمی تحقیقی مجلہ منظر عام پر آرہا ہے۔
اس جدید شمارہ کے مقدمے میں رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای(مد ظله العالی) کا پہلا پیغام قارئین کے لئے پیش کیا گیا ہے۔
اس میں آپ فرماتے ہیں :یہ خادم، سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، آپ ہی کی طرح اور اسلامی جمہوریہ کے ٹیلی ویژن کے ذریعے مجلس محترم خبرگان کے ووٹ کے نتیجے سے باخبر ہوا۔ میرے لیے اس جگہ پر بیٹھنا جہاں دو عظیم الشان پیشوا، خمینی کبیر اور شہید خامنہ ای، جلوہ افروز رہے ہیں، ایک مشکل کام ہے۔ کیونکہ اس کرسی پر وہ شخص بیٹھا کرتا تھا جو 60 سال سے زیادہ عرصے تک اللہ کی راہ میں مجاہدت کرنے اور ہر قسم کی لذتوں اور آرام و آسائش سے گزرنے کے بعد، نہ صرف موجودہ عصر میں بلکہ اس ملک کے حکمرانوں کی پوری تاریخ میں ایک روشن گوہر اور ممتاز چہرہ بن گیا۔ اس کی زندگی اور اس کی موت کی نوعیت دونوں حق پر سہارے کی وجہ سے شان و عزت سے عبارت تھی۔
مجھے یہ توفیق حاصل ہوئی کہ میں شہادت کے بعد ان کے پیکر کی زیارت کروں؛ جو کچھ میں نے دیکھا وہ سختی کا پہاڑ تھا اور میں نے سنا کہ ان کے صحت مند ہاتھ کی مٹھی بندھی ہوئی تھی۔ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں، اہل علم کو دیر تک بہت کچھ کہنا چاہیے۔ اس مختصر موقع پر انہی چند باتوں پر اکتفا کرتا ہوں، تفصیلات کو مناسب مواقع پر چھوڑتا ہوں۔ یہ ہے اس جیسی شخصیت کے بعد رہبری کی کرسی پر بیٹھنے کی مشکل کی وجہ۔ اس خلا کو پُر کرنا صرف حضرت حق سے استعانت اور آپ عوام کے تعاون سے ممکن ہے۔
اس کے بعد ایک نکتے پر زور دینا ضروری ہے جس کا میرے اصل کلام سے براہ راست تعلق ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ شہید رہبر اور ان کے عظیم پیش رو کے ہنر میں سے ایک، عوام کو ہر میدان میں شامل کرنا اور انہیں مسلسل بصیرت اور آگاہی دینا اور عملی میدان میں ان کی قوت پر بھروسہ کرنا تھا۔ انہوں نے اسی طرح جمہور اور جمہوریت کے حقیقی معنی کو عملی جامہ پہنایا اور عمق جان سے اس پر یقین رکھتے تھے۔ اس کی واضح تاثیر ان چند دنوں میں دیکھی گئی جب ملک بغیر رہبر اور بغیر کمانڈر ان چیف کے تھا۔ عظیم ملت ایران کی بصیرت اور ذہانت حالیہ واقعے میں اور اس کی ثابت قدمی، شجاعت اور میدان میں موجودگی نے دوست کو تحسین پر اور دشمن کو حیرت پر مجبور کر دیا۔ یہ آپ عوام ہی تھے جنہوں نے ملک کی رہبری کی اور اس کے اقتدار کی ضمانت دی۔
مقالات کی تفصیلات:
پہلے مقالے کا عنوان معاشرے کی اخلاقی تربیت میں اسلامی حکومت کے وظائف کا ایک فقہی جائزہ ہے۔ اسلامی تربیت کے مختلف حصےہیں اور اخلاقی تربیت ان میں سے اہم ترین حصہ ہے جو معاشرے کو اخلاقی فرائض سے آشنا اور اس پر عمل در آمدکرنے کا پابند کرتاہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا معاشرے کی اخلاقی تربیت کرنا ممکن ہے ؟اگر ممکن ہو تو معاشرے کی اخلاقی تربیت کا ذمہ دار کون ہے؟ اور اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اس تحقیق میں ہم تجزیاتی اور اجتہادی طریقہ سے آیات اور احادیث پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معاشرے کی اخلاقی تربیت کے سلسلے میں اسلامی حکومت کے فرائض کو بیان کریں گے۔ مختلف دلائل جیسے آیات، روایات، عقل، سیرت اورقواعد عامہ وغیرہ سے یہ بات ثابت ہوتا ہے کہ معاشرے کی اخلاقی تربیت نہ فقط ممکن ہے بلکہ تمام انبیاء الہی نے اس فریضہ پر عمل کیا ہے اوران کے بعد اسلامی حکومت پر لازم اورواجب ہے کہ وہ بھی معاشرے کی اخلاقی تعلیم و تربیت کے لئے اپنے فرائض انجام دیں۔ اسی طرح وہ تمام امور جومعاشرے میں اخلاقی تعلیم و تربیت کے لئے مقدمہ اور بنیاد کی حثیت رکھتا ہے ان تمام امور کو انجام دینا بھی اسلامی حکومت پر واجب اورلازم ہے ۔
دوسرے مقالے کا موضوع تربیت اولاد کے مؤثر عناصر اور ادوار اسلامی تعلیمات اور جدید سائنس کے تناظر میں ہے۔
تربیت اولاد کے مؤثر عناصر اور ادوار اسلامی تعلیمات اور جدید سائنس کے تناظر میں"کے عنوان سے یہ تحقیقی مقالہ اولاد کی تربیت کے پیچیدہ اور کثیرالجہتی عمل کو منظم انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس تحقیق کی بنیادی ضرورت اس امر سے پیدا ہوئی کہ موجودہ دور میں والدین و مربین اکثر تربیت کے بنیادی اصولوں اور عمر کے مختلف مراحل کے تقاضوں سے ناواقف ہیں، جس کے نتیجے میں تربیتی عمل غیر موثر یا یک طرفہ رہ جاتا ہے۔ تحقیق کا مقصد تربیت کے عوامل و مراحل کو منظم اور علمی بنیادوں پر پیش کرنا ہے تاکہ ایک جامع رہنمائی میسر آ سکے۔ تحقیق کا طریق کار نظریاتی اور تحلیلی ہے، جس میں اسلامی مصادر اور جدید سائنسی مصادر (نفسیات نشوونما، تعلیمی نفسیات) کا موازناتی تجزیہ کیا گیا ہے۔ تحقیق کے اہم نتائج میں تربیت پر اثر انداز پانچ اہم عوامل کی شناخت ، نیز تربیت کے چار بنیادی ادوار کی تفصیل شامل ہے که جن میں سے ہر دور کی نفسیاتی، جذباتی اور علمی ضروریات جداگانہ ہیں۔ تحقیق سے یہ اہم نکتہ بھی واضح ہوا کہ اسلامی تعلیمات (جیسے صالح شریک حیات کا انتخاب، والدین کی نمونہ سازی) جدید نفسیات کے سائنسی اصولوں سے حیرت انگیز طور پر ہم آہنگ ہیں.میڈیا اور ڈیجیٹل ماحول کے جدید چیلنجز کے پیش نظر تحقیق میں عملی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں، جن کا مرکزی نکتہ نگرانی، راہنمائی اور متبادل سرگرمیاں فراہم کرنا ہے۔ بالآخر، تحقیق اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اولاد کی تربیت کی کامیابی کے لیے اسلامی تعلیمات کی روحانی بنیادوں اور جدید سائنس کے تجرباتی اصولوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے، جس سے نہ صرف بہتر نسل کی تشکیل ممکن ہو گی بلکہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا سکے گی۔
تیسرے مقالے کا موضوع استقامت قرآن کریم اور روایات اہل بیتؑ کی روشنی میں ہے۔ راہِ خدا میں استقامت اور ثابت قدمی اسلامی معارف میں ایک نہایت بنیادی مفہوم کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآنِ مجید اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کی روایات میں استقامت پر غیر معمولی زور دیا گیا ہے، یہاں تک کہ ثابت قدمی کو بشریت کی ہدایت، دنیا و آخرت میں انسان کی نجات اور الطافِ الٰہی کے نزول کی ایک اساسی شرط ہے۔ اسی طرح استقامت کو اعمال کی قبولیت کا معیار، ایمان کی صداقت کو پرکھنے کا میزان اور اطاعت و بندگی کی بنیاد قرار دیاگیا ہے۔
زیرِ نظر مقالے میں ہم نے اس امر کی کوشش کی ہے کہ قرآن کریم کی آیاتِ اوراہل بیت ؑ کی معتبر روایات کی روشنی میں استقامت کے مفہوم کو واضح کرنے کے علاوہ ، اس کےمختلف اقسام کا تعارف کرائیں اور ان اسباب و عوامل کو بیان کریں جو ثابت قدمی کی بنیاد کو مضبوط کرتے ہیں۔ نیز ان عناصر کی نشاندہی کریں جو انسان کو راہِ حق سے منحرف کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآنی، اخلاقی، اعتقادی اور انسان کی فردی و اجتماعی زندگی پر استقامت کے اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیاہے۔
یہ حقیقت بھی واضح ہوں کہ استقامت صرف فرد کی ایمانی بقا اور روحانی رشد کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا بنیادی عنصر ہے جو معاشرے کو توحیدی سانچے میں ڈھالنے، انبیاءِ الٰہی اور اولیاءِ خدا کی قربانیوں و مجاہدات کے ثمرات کی حفاظت، اور اسلامی اقدار کے تسلسل کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
چوتھے مقالے کا عنوان آزادی و اخلاق میں باہمی رابطہ ہے۔ مقالہ حاضر ’’آزادی و اخلاق میں باہمی رابطہ‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا گیا ہے۔ اس میں جو کچھ بھی لکھا گیا وہ اس اساسی اور بنیادی سوال ’’کیا آزادی اور اخلاق میں باہمی رابطہ پایا جاتا ہے؟‘‘ کا جواب ہے۔ آج کل انسانی زندگی سماج و معاشرہ کی شکل میں بسر ہورہی ہے، دنیا اور اس میں پائے جانے والے مکاتب فکر کے درمیان دو طرح کی آزادی کا مفہوم پایا جاتا ہے ایک مطلق آزادی جسے مغربی کلچر یا بے دینوں نے پیش کیا ہے وہ ایک ایسی زندگی ہے جو حیوانوں سے مشابہ اور سماج و معاشرہ میں تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہے، اور دوسرے قانون یا اخلاق کے سایہ میں آزادی ہے جسے اسلام نے پیش کیا ہے جس کا نتیجہ سماج و معاشرہ میں نشو نما اور امن و سلامتی ہے۔ اب جیسی زندگی ہوگی ویسا سماج و معاشرہ ہوگا۔ بنابریں، اسلامی اعتبار سے آزادی اور اخلاق میں ایک اٹوٹ رشتہ اور بہت گہرا رابطہ پایا جاتا ہے برخلاف مغربی کلچر کے، چونکہ مغربی یا بے دینداری کلچر اس نایاب جوہر سے خالی ہے جس کی وجہ سے ان کے یہاں آزادی اور اخلاق میں رابطہ نہیں پایا جاتا حالانکہ انسانی حقوق کے عالمی منشور وغیرہ بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ آزادی اور اخلاق میں ایک گہرا رابطہ پایا جاتا ہے۔ اسی بنا پر اس مقالہ کو تحلیلی۔توصیفی طریقہ سے تحریر کرنے کی سعادت حاصل کی گئی ہے جس میں سب سے پہلے آزادی اور اخلاق کے معانی کو بیان کیا گیا ہے اس کے بعد آزادی بدون اخلاق کی بات کی گئی ہے اور اس کی تیسری اور اساسی بحث، آزادی اخلاق کے سایہ میں پیش کرنے کے بعد آخر میں نتیجہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
پانچویں مقالے کا عنوان قرآن کریم کی نظر میں مطلوب گفتگو کا معیار ہے۔ انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرنے والی اہم ترین صلاحیتوں میں سے ایک اظہارِ خیال (بیان) کی صلاحیت ہے۔ قرآن مجید میں اس صلاحیت کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت قرار دیا گیا ہے، جس کے استعمال کے لیے واضح اصول و آداب بیان کیے گئے ہیں۔ زبان کا صحیح استعمال فرد کو کامیابی اور سعادت کی منزل تک پہنچا سکتا ہے جبکہ اس کا غلط استعمال تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ پیش نظر تحریر میں قرآن مجید میں مذکور مختلف اقسام کے اقوال کا تجزیہ کیا گیا ہے، جن میں قولِ معروف، قولِ سدید، قولِ بلیغ، قولِ کریم، قولِ میسور، قولِ لین، قولِ احسن، فصلِ خطاب اور سلام کے تصورات شامل ہیں۔ یہ تمام اصنافِ کلام مختلف مواقع، مخاطبین کی نفسیات اور مقاصد کے پیش نظر گفتگو کے درست اسلوب، لہجے اور حکمت کی وضاحت کرتی ہیں۔ مقالے میں ان اصناف کی شرعی و لسانی تشریحات پیش کرتے ہوئے عملی زندگی (خصوصاً خاندانی، دعوتی اور معاشرتی روابط) میں ان کے اطلاق کے تربیتی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ قرآنی تعلیمات کے مطابق کامیاب اور مؤثر ابلاغ کے لیے ضروری ہے کہ گفتگو موقع کی مناسبت، نرمی، احترام، وضاحت، اثر آفرینی اور حکمت پر مبنی ہو، اور جہاں گفتگو بے سود ہو وہاں سلام کے ساتھ کنارہ کشی اختیار کرنا بہترین راہ ہے۔
چھٹے مقالے کا عنوان اولاد کے جسمانی حقوق ( شہید آیت اللہ خامنہ ای رہ کی یادوں کے ساتھ) ہے۔اولاد ہمارے ہاتھ میں اللہ تعالی کی نعمت اور امانت ہے۔ اس کے کچھ حقوق ہیں ہمارے ذمّہ۔ ایک بڑی ذمہ داری ہے ہمارے کاندھوں پر۔ اگر والدین نے اپنی اولاد کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کی۔ دنیا میں پرسکون رہیں گے کہ اپنی ذمہ داری ادا کردی ہے۔ قیامت میں بھی اللہ تعالی کی جانب سے اجرعظیم کے مستحق ٹھہریں گے۔ اگر نہیں تو، دنیا میں بھی پریشان رہیں گے۔ آخرت میں بھی گناہ گار ہوں گے۔ اولاد کے مختلف زاویوں سے حقوق ہیں۔ جیسے روحانی، جسمانی، نفسیاتی، معاشرتی، تعلیمی و معرفتی وغیرہ۔ اس مختصر تحریر میں، فقط اولاد کے جسمانی حقوق کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ جسمانی حقوق میں اولاد کی جان کی حفاظت، صفائی ستھرائی، حلال و متوازن غذا کی فراہمی اور کھیل کود شامل ہے۔ اس تحریر میں قرآن مجید، روایات، علم نفسیات اور تفکرات و مشاہدات کو لکھا گیا ہے۔ امت اسلامی کے عظیم الشان قائد فقیہ اور مجاہد و متفکر شہید آیت اللہ خامنہ ای ؒ کے بیانات سے بھی موضوعات کی مناسبت سے استفادہ کیا گیا ہے۔









آپ کا تبصرہ