جمعہ 9 اکتوبر 2026 - 22:59
انسان کو حق کے قبول کرنے میں اپنی انا اور ضد کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے، علامہ ضیغم عباس خان

حوزہ / علامہ ضیغم عباس خان نے مرکزی اجتماعِ نمازِ جمعہ لیہ میں خطاب کے دوران سچی توبہ، اصلاحِ اعمال، عقیدۂ توحید اور دینی احکامات پر عمل کی اہمیت پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ دارالقرآن کے پرنسپل و مؤسس علامہ ضیغم عباس خان نے مرکزی اجتماعِ نمازِ جمعہ لیہ پنجاب پاکستان میں خطبۂ جمعہ کے دوران قرآنِ کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام سے تمسک، واجباتِ دین کی پابندی، اصلاحِ اعمال، عقیدۂ توحید اور والدین کے حقوق کی ادائیگی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا: انسان کی حقیقی کامیابی قرآنِ کریم اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے وابستگی، احکاماتِ الٰہی کی پیروی اور اپنی عملی زندگی کو دینی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے میں ہے۔

علامہ ضیغم عباس خان نے قرآنِ کریم کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزۂ جاوداں قرار دیتے ہوئے کہا: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنِ کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام سے وابستگی کی تاکید فرمائی۔ اس تناظر میں انہوں نے مؤمنین کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی دعوت دی اور کہا: ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم قرآنِ کریم اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات پر کس حد تک عمل کر رہے ہیں اور واجباتِ دین کی ادائیگی میں ہماری عملی صورتِ حال کیا ہے۔

انسان کو حق کے قبول کرنے میں اپنی انا اور ضد کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے

روزِ قیامت کی حسرت سے بچنے کے لیے دنیا ہی میں اصلاحِ اعمال ضروری ہے

خطبۂ جمعہ میں انہوں نے روزِ قیامت کی حسرت و ندامت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: انسان اس وقت اپنے اعمال میں کوتاہی پر افسوس کرے گا اور خواہش ظاہر کرے گا کہ اسے دوبارہ دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ وہ اپنی اصلاح کرسکے۔ تاہم آخرت میں اعمال کی اصلاح کے لیے دنیا میں واپسی کا موقع نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسان کو زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی، تقویٰ کے اختیار اور دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام اور ائمہ معصومین علیہم السلام کو بھیجا اور ہدایت کے ذرائع فراہم کیے لیکن غفلت اور دینی تعلیمات سے دوری انسان کو ندامت سے دوچار کرسکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان موت سے پہلے اپنے اعمال کا جائزہ لے، گناہوں سے اجتناب کرے اور بارگاہِ الٰہی میں سچی توبہ کے ذریعے اپنی اصلاح کی کوشش کرے۔

علامہ ضیغم عباس خان نے توبہ کے حوالے سے کہا: جب موت سامنے آ جائے اور انسان آخرت کے حقائق کا مشاہدہ کرنے لگے تو اس وقت کی توبہ اسے فائدہ نہیں دے گی۔ انہوں نے مؤمنین کو متنبہ کیا کہ تکبر، سرکشی اور حق سے انحراف کے نتائج سے عبرت حاصل کریں اور اپنی زندگی کو تقویٰ و اطاعتِ الٰہی کے مطابق استوار کریں۔

انسان کو حق کے قبول کرنے میں اپنی انا اور ضد کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے

عقیدۂ توحید کے تحفظ اور اہلِ بیتؑ کے مقام کی صحیح معرفت پر زور

خطبے کے ایک اہم حصے میں انہوں نے عقیدۂ توحید اور اہلِ بیت علیہم السلام کے مقام و مرتبے کی درست معرفت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے مقام کو صحیح طور پر پہچانا جائے۔ حضرت علی علیہ السلام کو خدا قرار دینا غلو اور عقیدۂ توحید کے منافی ہے؛ آپؑ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ ولی اور بندے ہیں۔

انہوں نے انسانی اعمال کی ذمہ داری کے حوالے سے بھی توجہ دلائی اور کہا: انسان کو اپنی برائیوں اور گناہوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ زنا، قتل و غارت گری، شرک اور دیگر برائیوں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، لہٰذا انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان اعمال سے اجتناب کرے اور اپنی زندگی میں صحیح اعتقادی و عملی راستہ اختیار کرے۔

انسان کو حق کے قبول کرنے میں اپنی انا اور ضد کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے

واجباتِ شرعی کا احترام اور بدعات سے اجتناب ضروری ہے

علامہ ضیغم عباس خان نے دینی احکامات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر واجباتِ شرعی کا مذاق اڑانا یا ان کی اہمیت کو کم سمجھنا نہایت سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے مؤمنین کو دینی احکامات کی پابندی، دین کی صحیح تعلیمات کو سمجھنے اور بدعات سے اجتناب کرنے کی تلقین کی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسان سے غلطی ہوسکتی ہے، لیکن غلطی تسلیم کرنا اور اس کی اصلاح کرنا اخلاقی جرأت کی علامت ہے۔ انسان کو اپنی انا اور ضد کو حق قبول کرنے میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے بلکہ حقیقت واضح ہونے پر اسے تسلیم کرتے ہوئے اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کرنی چاہیے۔

والدین کے حقوق کی ادائیگی اور حسنِ سلوک کی تاکید

خطبۂ جمعہ کے اختتامی حصے میں علامہ ضیغم عباس خان نے والدین کے حقوق کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: والدین کی نافرمانی ایک سنگین گناہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ زندگی میں والدین کے ساتھ ادب، محبت اور حسنِ سلوک سے پیش آئے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کو اپنی دینی و اخلاقی ذمہ داری سمجھے۔

انسان کو حق کے قبول کرنے میں اپنی انا اور ضد کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے

انہوں نے کہا: والدین کے انتقال کے بعد بھی ان کے لیے دعا، استغفار، صدقہ اور دیگر نیک اعمال کے ذریعے نیکی کا سلسلہ جاری رکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مؤمنین کو والدین کی خدمت، ان کی رضامندی کے حصول اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی طرف متوجہ کیا۔

خطاب کے اختتام پر علامہ ضیغم عباس خان نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مؤمنین کو قرآنِ کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام سے حقیقی وابستگی، واجباتِ دین کی پابندی، گناہوں سے اجتناب، بدعات سے حفاظت، سچی توبہ اور والدین کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

انسان کو حق کے قبول کرنے میں اپنی انا اور ضد کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha