حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامع مسجد غازی امام جنڈ، ضلع اٹک میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران مدرس جامعہ جعفریہ جنڈ حجت الاسلام والمسلمین میثم طہ نے تقوائے الٰہی کی حقیقت، کلمۂ طیبہ کے عملی تقاضوں اور ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے خطبۂ فدکیہ کی فکری و اعتقادی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔
کلمۂ طیبہ اور تقوائے الٰہی کا حقیقی مفہوم
حجت الاسلام میثم طہ نے اپنے خطاب میں کہا: کلمۂ طیبہ «لا الٰہ الا اللہ» تقوائے الٰہی کے حصول اور انسانی زندگی کو توحید کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کا بنیادی راستہ ہے جبکہ نمازِ جمعہ کا ایک اہم مقصد فرد اور معاشرے میں تقوے کی روح کو بیدار کرنا ہے۔ تقوے کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان گناہوں سے اجتناب کرے اور اللہ تعالیٰ کے تمام واجبات کو اخلاص کے ساتھ ادا کرے۔

انہوں نے کلمۂ طیبہ کے دونوں حصوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: «لا الٰہ» انسان کو ہر اس باطل قوت، خواہشِ نفس اور طاغوتی نظام کی نفی کا درس دیتا ہے جو اسے حق و ہدایت کے راستے سے منحرف کرتا ہے جبکہ «الا اللہ» اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی سمیت معاشی و سیاسی معاملات میں بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو بنیادی معیار قرار دے۔
خطیب جمعہ نے مزید کہا: کلمۂ طیبہ کا اقرار محض زبانی عمل نہیں بلکہ اس کے تقاضوں کو عملی زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے۔ ایک حقیقی موحد کی زندگی قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔
ایامِ فاطمیہ اور خطبۂ فدکیہ کی فکری و دینی اہمیت
ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے حجت الاسلام میثم طہ نے کہا: ماہِ جمادی الاول اور جمادی الثانی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی یاد اور ان کی سیرت و تعلیمات سے استفادہ کے خصوصی مواقع ہیں۔ ان ایام میں مجالسِ عزاء کے انعقاد کے ساتھ سیرتِ طیبہ اور بالخصوص خطبۂ فدکیہ کا گہرا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا: خطبۂ فدکیہ محض ایک تاریخی خطبہ نہیں بلکہ اس میں اصولِ دین، فروعِ دین، احکامِ الٰہی کی حکمتوں اور انسانی و معاشرتی زندگی کے بنیادی اصولوں کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس خطبے کی تعلیمات سے استفادہ کرتے ہوئے موجودہ دور کے فکری، اخلاقی، معاشی اور سیاسی مسائل کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
حجت الاسلام میثم طہ نے خطبۂ فدکیہ کی روشنی میں انسانی معاشرے کو درپیش چار بنیادی بحرانوں کی نشان دہی کی، جن میں عقیدے اور نفس کا بحران، معیشت اور خود غرضی کا بحران، معاشرتی انتشار اور تفرقے کا بحران، نیز سیاست اور قیادت کا بحران شامل ہیں۔ انہوں نے ان بحرانوں کے حل کے لیے الٰہی تعلیمات، عقل و شعور اور دینی اصولوں سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔










آپ کا تبصرہ