حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،سری نگر/ حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی،رئیس انجمن شرعی شیعیان و چیئرمین آیت اللہ سید یوسف میموریل ٹرسٹ، دارالیوسف، شریعت آباد بڈگام نے امام بارگاہ آیت اللہ سید یوسف، بمنہ بڈگام میں منعقدہ جمعہ کی روایتی مجلسِ وعظ سے خطاب کرتے ہوئے قرآن فہمی، انبیائے کرامؑ کی تعلیمات، اتحادِ امت اور اصلاحِ معاشرہ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید کی تلاوت کے ساتھ اس کے مفاہیم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا بھی ضروری ہے، جبکہ علماء اور مبلغین کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کو متحد کرنے اور معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
قرآن کی تلاوت کے ساتھ فہمِ قرآن بھی ضروری
آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے اپنے خطاب میں قرآنِ مجید کی آیتِ مبارکہ «كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيِّينَ» کو محورِ گفتگو بناتے ہوئے کہا کہ قرآنِ مجید کا ایک نمایاں اعجاز یہ ہے کہ اس کی تلاوت انسان کے دل میں اس کے لیے محبت اور انس پیدا کرتی ہے۔ قرآن انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے، لیکن افسوس کہ آج معاشرے میں قاریانِ قرآن کی تعداد تو زیادہ نظر آتی ہے، تاہم قرآن کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کی تعداد کم دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور قرآن کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری تشویش ناک ہے۔ قرآن سے حقیقی ہدایت حاصل کرنے کے لیے تلاوت کے ساتھ غور و فکر اور فہمِ قرآن بھی ضروری ہے۔
انبیائے کرامؑ کی بعثت کا مقصد اور امتوں میں اختلافات
مذکورہ آیت کی وضاحت کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ قرآنِ مجید مختلف مقامات پر ایک فرد، ایک قوم یا پوری انسانیت کو امت کے عنوان سے یاد کرتا ہے۔ انسان اپنے محدود فہم اور فطری کمزوریوں کے باعث ہمیشہ ہدایت و گمراہی کے درمیان درست امتیاز نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا حل خود بخود تلاش کر سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرامؑ کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ انسانوں کو صراطِ مستقیم کی رہنمائی فراہم کریں، اختلافات کے حل کی راہ دکھائیں اور انہیں اخلاقی، عبادی اور روحانی کمالات تک پہنچنے میں مدد دیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ انبیائے کرامؑ کی تعلیمات پر عمل کرنے کے بجائے ان کے پیروکاروں میں اختلافات پیدا ہوتے گئے۔ یہ صورتِ حال امتِ موسیٰؑ، امتِ عیسیٰؑ اور امتِ محمدیہؐ میں بھی مختلف شکلوں میں سامنے آئی۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی سیرت اور تعلیمات کو عام کریں۔
خطبۂ فدکیہ میں امت کی اصلاح کا پیغام
آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے خطبۂ فدکیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس خطبے کو گہرائی سے پڑھنے اور اس کے پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے امت کی جانب سے قرآنی تعلیمات اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے انحراف پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فکر صرف اپنی ذات پر ہونے والے مظالم تک محدود نہیں تھی، بلکہ آپؑ کو امتِ محمدیہ کی گمراہی اور انحراف کی بھی شدید فکر تھی۔ اسی طرح آج کے مصلحین اور مبلغین کی بنیادی ذمہ داری بھی امت کی ہدایت، اصلاح اور بھلائی ہونی چاہیے۔ ان کی تبلیغ ایسی ہونی چاہیے جو مسلمانوں کو جوڑے، نہ کہ ان کے درمیان اختلافات کو مزید ہوا دے۔
انہوں نے بعض مبلغین کی جانب سے دینِ اسلام اور پیغمبرِ اکرمؐ کی تعلیمات کو عام کرنے کے بجائے اپنے اپنے مسلک کی ترویج کو ترجیح دینے پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عبادات محض رسوم و رواج کی ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ انسان کی تربیت اور اخلاقی و روحانی بلندی کا ذریعہ ہیں۔
یمن اور فلسطین کے حالات؛ مسلم ممالک کے کردار پر تنقید
حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے ہوئے آغا صاحب نے یمن کی صورتِ حال اور وہاں موجود اختلافات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کے بڑے ممالک اور بااثر شخصیات کی ذمہ داری تھی کہ وہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں فریقین کے درمیان اصلاح اور مصالحت کی کوشش کرتے، لیکن ان کے بقول، بعض بڑے اسلامی ممالک کے اقدامات سے اختلافات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے فلسطین میں جاری قتلِ عام اور بمباری کے دوران مسلم ممالک کی خاموشی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام پر مظالم کے دوران متعدد مسلم ممالک نے مؤثر کردار ادا نہیں کیا، جبکہ یمن کی جانب سے دفاع کے عزم پر بعض مسلم ممالک نے انصار اللہ کے خلاف سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ملک پر حملے کی صورت میں دفاع کے حق کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
آغا صاحب نے سعودی حکومت کو فاسد قرار دیتے ہوئے اس کے کردار پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت اسلام کی ترجمان نہیں ہے اور ان کے بقول، سعودی حکمرانوں کا فساد واضح ہے۔ انہوں نے سعودی حکمرانوں کے بعض حلقوں کے مبینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ایپسٹین سے منسوب حلقوں سے جوڑا۔
انہوں نے مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی سیرت و تعلیمات کی پیروی اور اتحاد و اتفاق اختیار کرنے کی تلقین کی۔ بالخصوص مختلف مکاتبِ فکر کے علماء پر زور دیا کہ وہ باہمی اتحاد کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں تاکہ امت کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
شیخ نورالدین نورانیؒ کی تعلیمات اپنانے پر زور
خطاب کے اختتام پر آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے کشمیر کے معروف صوفی شاعر اور بزرگ شیخ نورالدین نورانیؒ، المعروف علمدارِ کشمیر، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیرت اور تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض ان کے اشعار پڑھنا، درود و اذکار کرنا یا ایامِ عرس میں شرکت کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے اخلاق، کردار اور تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔










آپ کا تبصرہ