جمعہ 30 اکتوبر 2026 - 18:09
مسلم ممالک کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا احساس ہونا اتحادِ اسلامی کی جانب اہم پیش رفت ہے: علامہ سید ہاشم موسوی

حوزہ/ امام جمعہ کوئٹہ حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا ہے کہ تہران میں چار مسلم ممالک کی نشست اس بات کا مثبت اشارہ ہے کہ اسلامی ممالک اب اپنے مسائل کے حل کے لیے خود آگے آنے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں؛ باہمی اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی ہی امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا راستہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کوئٹہ/ مرکزی جامع مسجد و امام بارگاہ کلان میکانگی روڈ کوئٹہ میں نمازِ جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ کوئٹہ حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ سید ہاشم موسوی نے سیرت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، مسلم ممالک کے باہمی اتحاد اور خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال پر اظہارِ خیال کیا۔

انہوں نے خطبۂ اول میں جہادِ تبیین کو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کا اہم اور نمایاں پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے حق و حقیقت کے دفاع اور اسلام کی حفاظت کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ آپ نے اس راہ میں اپنی جان اور فرزند حضرت محسن علیہ السلام کی قربانی دے کر قیامت تک کے لیے اسلام کی حقانیت اور بقا کو محفوظ کر دیا۔ آپ کی سیرت آج بھی حق کے دفاع، دینی شعور اور جہادِ تبیین کے لیے ایک روشن نمونہ ہے۔

امام جمعہ کوئٹہ نے خطبۂ دوم میں تہران میں چار مسلم ممالک کے سربراہان و نمائندوں کی نشست کو اتحادِ اسلامی کی جانب ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک اب اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے خود آگے آنا ہوگا۔ امتِ مسلمہ کے مسائل کا حل باہمی تعاون، اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی میں مضمر ہے۔

انہوں نے اسرائیل میں انتخابات کے تناظر میں وہاں کی سیاسی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس وقت عدم استحکام کا شکار ہے، جو اس کے زوال اور نابودی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha