جمعہ 30 اکتوبر 2026 - 18:32
تہران کو عالمِ مشرق کا جنیوا بنانے کا وقت آگیا؛ مسلم ممالک کے اتحاد سے خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے: علامہ زاہد حسین انقلابی

حوزہ/ پاراچنار میں خطبۂ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے مجلس علمائے اہلِ بیت کے صدر نے تہران میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے وفود کی آمد کو خطے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا، پارلیمنٹ میں غیر پارلیمانی رویے پر تنقید کی اور پاراچنار میں امن و آمدورفت کے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاراچنار/ مجلس علمائے اہلِ بیت پاراچنار کے صدر علامہ زاہد حسین انقلابی نے مسجد حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا، مہورہ، پاراچنار میں خطبۂ جمعہ کے دوران عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال، علاقائی سفارتی پیش رفت، پاکستان کے سیاسی حالات اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت و ولایت کے دفاع میں آپ کے کردار پر روشنی ڈالی۔

تہران عالمِ مشرق کا جنیوا بن سکتا ہے

علامہ زاہد حسین انقلابی نے تہران میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے وفود کی آمد کو اہم علاقائی پیش رفت قرار دیتے ہوئے علامہ محمد اقبال کے اس شعر کا حوالہ دیا:

تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا

شاید کہ کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تہران عالمِ اسلام اور مشرقی ممالک کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون، سفارتی ہم آہنگی اور مسائل کے حل کا مؤثر مرکز بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے درمیان رابطوں اور مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا؛ ولایت کے دفاع کی عظیم مثال

خطبۂ اول میں علامہ زاہد حسین انقلابی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کو توحید اور امامت کے نظام کا محور قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ولایتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے دفاع میں ہر محاذ پر بے مثال کردار ادا کیا۔ آج کے پرفتن دور میں، جب اسلامی امت کو شناختی، ثقافتی، فکری اور میڈیا کی جنگوں سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، سیرتِ فاطمی کا مطالعہ محض تاریخی واقعات کی یاد دہانی نہیں، بلکہ موجودہ حالات میں رہنمائی فراہم کرنے والا ایک عملی لائحۂ عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ولایت کی پہلی مدافع تھیں اور آپ نے اپنے عمل سے واضح کیا کہ ولایت کا دفاع کسی خاص وقت یا مقام تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک دائمی دینی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے خطبۂ فدکیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا:

«وَ طَاعَتَنَا نِظَاماً لِلْمِلَّةِ، وَ إِمَامَتَنَا أَمَاناً مِنَ الْفُرْقَةِ»

یعنی ہماری اطاعت امت کے نظام کا ذریعہ اور ہماری امامت تفرقے سے تحفظ کی ضمانت ہے۔

ان کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فدک کے مسئلے کو محض ذاتی یا مالی معاملے کے طور پر نہیں اٹھایا، بلکہ اس کے ذریعے اسلامی معاشرے میں امامت و ولایت کے اصل مقام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والی انحرافی صورتِ حال کو واضح کیا۔

میدانِ عمل میں ولایت کا دفاع اور جہادِ تبیین

علامہ زاہد حسین انقلابی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے عملی کردار کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ولایت کے دفاع کے لیے صرف زبانی موقف اختیار نہیں کیا، بلکہ مسجد نبوی میں حاضر ہو کر خطبۂ فدکیہ کے ذریعے حقائق بیان کیے اور معاشرے میں پیدا ہونے والے خوف و خاموشی کے ماحول کو توڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی روایات کے مطابق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے ہمراہ رات کے وقت مہاجرین و انصار کے گھروں پر تشریف لے جاتی تھیں، تاکہ واقعۂ غدیر اور ولایت کے عہد کی یاد دہانی کرائیں۔ یہ کردار درحقیقت آج کے دور کے جہادِ تبیین کی ایک روشن مثال ہے۔

انہوں نے واقعۂ ہجومِ بیت کے موقع پر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی استقامت اور دفاعِ ولایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی حمایت میں انتہائی سخت حالات کا سامنا کیا اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر ولایت کے دفاع کو ترجیح دی۔

رات کی تدفین؛ تاریخ کا خاموش مگر مؤثر احتجاج

انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی وصیت اور رات کے وقت مخفی تدفین کو بھی دفاعِ ولایت کا ایک اہم سیاسی و تاریخی پہلو قرار دیا۔ ان کے مطابق آپ کی یہ وصیت ایک ایسا خاموش احتجاج تھا جس نے تاریخ کے سامنے حق و باطل کے درمیان فرق کو ہمیشہ کے لیے نمایاں کر دیا اور آپ کی قبر کا مخفی رہنا مظلومیتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ایک دائمی علامت بن گیا۔

موجودہ دور میں ولایت کا دفاع اور جہادِ تبیین کی ضرورت

علامہ زاہد حسین انقلابی نے موجودہ حالات کا سیرتِ فاطمی سے تقابل کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی دشمن میڈیا، معیشت، ثقافت اور نفسیاتی محاذوں پر مختلف حربوں کے ذریعے اسلامی معاشرے کو کمزور اور عوام کے رشتے کو ولایت سے منقطع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے آیت اللہ العظمیٰ بہجت رحمۃ اللہ علیہ اور آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے ولایتِ فقیہ کی اہمیت، اسلامی نظام کے تحفظ اور امت کے اتحاد پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ثقافتی اور انقلابی محاذ پر کام کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ میڈیا، جہادِ تبیین اور فکری و ثقافتی جدوجہد کے ذریعے دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کریں۔

شہداء کی وصیتوں میں دفاعِ ولایت کا پیغام

انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو مکتبِ فاطمی کی عملی تصویر قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہداء کی وصیتوں میں ولایت سے وفاداری اور اسلامی نظام کے تحفظ کا پیغام نمایاں طور پر موجود ہے۔

انہوں نے شہید قاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ:

«جمهوری اسلامی یک حرم است»

یعنی اسلامی جمہوریہ ایک حرم ہے۔

ان کے مطابق شہید قاسم سلیمانی نے اسلامی نظام کے تحفظ کو مکتبِ اہلِ بیت اور اسلامی اقدار کے تحفظ سے وابستہ قرار دیا تھا۔

علامہ زاہد حسین انقلابی نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے حقیقی استفادہ اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان ولایت، اتحادِ امت، حق گوئی اور دینی ذمہ داریوں کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔

کے پی میں امن و امان کے قیام کو اولین ترجیح دی جائے

انہوں نے خطبۂ دوم میں سب سے پہلے پاکستان کی پارلیمنٹ اور سینیٹ میں ہونے والی تلخ کلامی اور غیر پارلیمانی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ 24 کروڑ عوام کی نمائندہ ہے، اس لیے وہاں بیٹھنے والوں کو قومی وقار اور عوام کے اعتماد کا خیال رکھنا چاہیے۔ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے ایوان کو ذاتی اختلافات اور ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا اکھاڑا نہیں بنانا چاہیے۔

علامہ زاہد حسین انقلابی نے فضل الرحمٰن، خواجہ آصف اور محسن نقوی کے درمیان ہونے والی لفظی کشیدگی اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کے انداز کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کو اپنے منصب اور ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ اگر کسی کو باہمی اختلافات کا اظہار کرنا ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ اور سینیٹ جیسے قومی اداروں کو تضحیک کا نشانہ بنانے کے بجائے مناسب فورم اختیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام اپنے نمائندوں سے سنجیدگی، شائستگی اور قومی مسائل کے حل کی توقع رکھتے ہیں، نہ کہ ایسے مناظر کی جو ملک کے سیاسی اور جمہوری اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد گورنر کی جانب سے تجاوزات کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے، تاہم صوبے کے لیے سب سے اہم ضرورت امن و امان کا قیام ہے۔ حکومت اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

انہوں نے بالخصوص پاراچنار میں شیعہ سنی آبادی کے درمیان آمدورفت کے لیے سڑک کے مسئلے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا سے اپیل کی کہ وہ اس اہم مسئلے کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے خصوصی توجہ دیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha