حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،بڈگام/ ایامِ فاطمیہ، شہادتِ حضرت فاطمہ زہرا، صدیقۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا کے سلسلے میں چیئرمین آیت اللہ سید یوسف میموریل ٹرسٹ، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے مدرسۃ القرآن دارالعلی میر گنڈ بڈگام اور مسجد امام زمانہؑ مین بازار بڈگام میں منعقدہ مجالسِ عزاء سے خطاب کیا۔ ذاکرین کرام اور عزاداروں نے مرثیہ خوانی کے ذریعہ دختر رسول ص کو خراج عقیدت پیش کیا۔

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا؛ تمام خواتین کے لیے مشعلِ راہ:
آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر رشلنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مخدومہ عالم سلام اللہ علیہا کی سیرت و کردار کو تمام خواتین، ماؤں اور اہلِ خانہ کے لیے بہترین نمونۂ عمل قرار دیا. انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرمؐ کے ارشاداتِ گرامی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت، رفعت اور فضیلت کو واضح کرتے ہیں۔ آپؑ کی پوری زندگی دینی اقدار، عبادت و بندگی، تربیتِ اولاد، محبت، وفاداری اور خاندانی زندگی کے اعلیٰ اصولوں کا عملی نمونہ ہے۔
آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ’’اُمِّ ابیها‘‘ کا لقب آپؑ کی شفقت، دلسوزی اور رسولِ اکرمؐ کے ساتھ گہری محبت و وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ عربستان کے جاہلی معاشرے میں خواتین کو حاصل کمتر مقام کے برعکس رسولِ اکرمؐ نے اپنی دخترِ گرامی کے ساتھ غیر معمولی احترام کا مظاہرہ کرکے خواتین کی عظمت و کرامت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنابِ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ تمام خواتین اور پوری انسانیت کے لیے ایک جامع نمونۂ عمل ہے۔

دفاعِ ولایت؛ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا عظیم کردار
چیئرمین آیت اللہ سید یوسف میموریل ٹرسٹ نے کہا کہ رسولِ اکرمؐ کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے دفاعِ امامت و ولایت کے لیے امت کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیا۔ آپؑ کا خطبۂ فدک محض ایک ذاتی حق کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ اس میں قرآن، سنتِ رسولؐ، حق و باطل کی پہچان، اسلامی اقدار کے تحفظ اور امت کی اصلاح کا گہرا پیغام موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے کردار اور خطابات کے ذریعے امت کو متوجہ کیا کہ رسولِ اکرمؐ کی تعلیمات اور اہلِ بیتؑ کی رہنمائی سے وابستگی ہی اسلامی معاشرے کی صحیح سمت کی ضمانت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت سے معرفتِ دین، بصیرت، حق شناسی اور حق کی حمایت کا درس حاصل کیا جانا چاہیے۔
آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے حضرت عباسؑ کی وفاداری، شجاعت اور امام حسینؑ سے غیر متزلزل وابستگی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ واقعۂ کربلا میں جب حضرت عباسؑ کو امان کی پیشکش کی گئی تو آپؑ نے اسے مسترد کرتے ہوئے امام حسینؑ کا ساتھ نہ چھوڑا اور آخر دم تک امامِ وقت کی نصرت میں ثابت قدم رہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت عباسؑ کی عظیم شخصیت میں تربیتِ مادر کا نمایاں کردار جھلکتا ہے۔ حضرت فاطمہ م امّ البنین سلام اللہ علیہا نے اپنی اولاد کی ایسی تربیت کی کہ وہ دین، امامت اور امامِ وقت کی نصرت کے لیے ہر قربانی پیش کرنے کے لیے تیار رہے۔
انہوں نے کہا کہ عمر سعد، شمر ذالجوشن ودیگر ظالمین بھی کسی ماں کے بیٹے تھے مگر غلط تربیت نے انہیں دنیا کے بدترین ظالم بننے کا سبب بنی اور دوسری طرف نیک تربیت نے ایک تیرہ سالہ بچے سے " موت شہد سے میٹھی ہے".
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت خواتین اور ماؤں کے لیے بہترین نمونۂ تربیت ہے کہ وہ اپنی اولاد میں دین، اخلاق، شجاعت، وفاداری اور ولایت کا شعور پیدا کریں۔

والدین کا کردار اور گھریلو ماحول
آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے بچوں کی شخصیت سازی میں گھر اور والدین کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ والدین کو ایسا گھریلو ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں اولاد میں ادب، احترام، دینی شعور، محبت اور والدین کی قدر پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کے باہمی اختلافات، ایک دوسرے کے احترام میں کمی اور گھریلو کشیدگی کے منفی اثرات بچوں کی شخصیت اور تربیت پر بھی پڑتے ہیں۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کو محض ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ شرعی و اخلاقی فریضہ سمجھیں۔ اس سلسلے میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت کو مشعلِ راہ بنایا جائے، جنہوں نے اپنے گھر کو عبادت، علم، ایثار، محبت، ولایت اور تربیت کا مرکز بنایا۔
قرآن و عترت سے وابستگی؛ امت کی وحدت کی ضمانت
آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پیغام کا ایک اہم پہلو قرآن و عترت سے مضبوط وابستگی ہے۔ قرآن اور اہلِ بیتؑ سے دوری امت کے درمیان انتشار، اختلاف اور کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات کے تناظر میں مسلمانوں کو قرآن و عترت سے وابستگی، دینی بیداری اور باہمی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اختلافات سے بالاتر ہوکر اخوت و اتحاد کو فروغ دینا چاہیے اور اپنی دینی و اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے معاشرے کی اصلاح میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہی طرزِ عمل حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے تئیں بہترین خراجِ عقیدت ہوگا کہ ہم آپؑ کی سیرت اور پیغام کو صرف مجالس تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔

چیئرمین آیت اللہ سید یوسف میموریل ٹرسٹ نے بعض موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کی بے حسی اور باہمی انتشار پر تشویش کا اظہار کیا اور اتحادِ امت، دینی شعور، بصیرت اور حق و حقیقت کی پہچان کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
مجلس کے اختتام پر آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے مصائبِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بیان فرمائے، جس کے ساتھ مجالس میں موجود عزاداران نے سوگ و ماتم و کشمیری مرثیہ خوانی کے ذریعے دخترِ رسولؐ کی بارگاہ میں عقیدت و محبت کا اظہار کیا۔










آپ کا تبصرہ