اتوار 25 اکتوبر 2026 - 17:42
اصلاحِ معاشرہ اور اتحادِ امت؛ علماء و مبلغین کی اہم ذمہ داری ہے: آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی

حوزہ/ بمنہ بڈگام کی امام بارگاہ آیت اللہ یوسف میں آغا سید محمد فضل اللہ موسوی صفوی کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے اصلاحِ معاشرہ، قرآن و عترت سے وابستگی اور مسلمانوں کے اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ علماء و مبلغین معاشرتی برائیوں اور ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے امت کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام بارگاہ آیت اللہ یوسف، بمنہ بڈگام میں مجلسِ وعظ سے چیئرمین آیت اللہ سید یوسف میموریل ٹرسٹ، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے خطاب کیا۔ انہوں نے آیتِ کریمہ ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ﴾ کو سرنامۂ کلام قرار دیتے ہوئے اصلاحِ معاشرہ اور اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

مرحوم آغا سید محمد فضل اللہ موسوی صفوی کو خراجِ عقیدت

مجلس کے آغاز میں آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے مرحوم حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید محمد فضل اللہ موسوی صفوی کی برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی علمی و دینی خدمات کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم آغا صاحب دین کی راہ میں انجام دیے جانے والے ہر کام میں اخلاص کو بنیادی شرط قرار دیتے تھے اور علومِ قرآن، شریعتِ مقدسہ اور عدالتِ اسلامی کے فروغ کے لیے اپنی زندگی وقف کیے رکھی۔

انہوں نے کہا کہ علماء و مبلغین کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے حالات پر گہری نظر رکھیں اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق جو عالم معاشرے میں برائی کو دیکھ کر خاموش رہے اور اپنے علم کے ذریعے اصلاح کی کوشش نہ کرے، وہ اپنی ذمہ داری سے غافل ہے۔

نیکوکار ہونے کے ساتھ مصلح بننا ضروری

آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے اس آیت قرآن کی توضیح کے ذیل میں کہا کہ کسی معاشرے میں صرف نیک افراد اور علماء کی موجودگی اس کی بقا کی ضمانت نہیں، بلکہ معاشرے میں مصلحین کا موجود ہونا بھی ضروری ہے۔ نیکی اور علم اس وقت معاشرے کے لیے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں جب ان کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ کا فریضہ انجام دیا جائے۔

انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی امام حسن مجتبیٰؑ کے نام وصیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی وہی بھلائی چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔ مومن اپنے معاشرے سے لاتعلق نہیں رہ سکتا بلکہ اسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور اصلاحِ معاشرہ کے شرعی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے کہا کہ مومن کو دوسرے مومن کے لیے آئینے کی مانند ہونا چاہیے تاکہ عیوب کی نشاندہی اور اصلاح حکمت و شرعی اصولوں کے مطابق کی جا سکے۔ ان کے مطابق یہی سیرتِ انبیاءؑ اور ائمہ اہل بیتؑ ہے، جبکہ انسان جتنا علم حاصل کرتا ہے، اتنی ہی اس کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔

معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر زور

انہوں نے معاشرے میں رائج بعض ناانصافیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ خصوصاً میراث کی تقسیم کے وقت بعض خاندانوں میں شرعی احکام کی پابندی نہیں کی جاتی اور اولاد کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں ایک مومن، عالم یا مبلغ خاموش نہیں رہ سکتا بلکہ اسے شرعی احکام اور حقوق کی ادائیگی کی طرف معاشرے کو متوجہ کرنا چاہیے۔

امیرالمؤمنینؑ؛ مصلحِ اعظم اور اسلام کے محافظ

آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے حدیثِ غدیر «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حدیث جہاں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی عظمت و فضیلت کو بیان کرتی ہے، وہیں امت کی رہنمائی اور اصلاح کی ذمہ داری کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امیرالمؤمنینؑ نے اسلام اور رسول اکرمؐ کی نصرت کے لیے تلوار اٹھائی اور اسلام ہی کی خاطر بعض مواقع پر تلوار نیام میں رکھی۔ ان کے مطابق مولا علیؑ کا مقصد کبھی ذاتی مفاد نہیں تھا بلکہ اسلام کا تحفظ اور امت کی مصلحت ہمیشہ پیشِ نظر رہی۔ اسی لیے آپؑ نے اختلافات کے باوجود اسلام کی خاطر امت کے اجتماعی معاملات میں اپنا کردار ادا کیا۔

اتحادِ امت وقت کی اہم ضرورت

آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم معاشروں میں باہمی اختلافات نے مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں بعض قدیم مساجد سے متعلق پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر اپنے دینی اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن مسلمانوں کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھاتا ہے، اس لیے وقت کی اہم ضرورت اتحادِ ایمانی، اخوت اور اتفاق ہے۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے بجائے اسلامی معاشرے کی ترقی اور تحفظ کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

قرآن و عترت سے وابستگی ہی نجات کا راستہ

آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے حدیثِ ثقلین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو قرآن اور عترتِ رسولؐ کو اپنا نمونۂ عمل بنانا ہوگا۔ انہوں نے خطبۂ فدک میں حضرت فاطمہ زہراؑ کے پیغام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رسول اکرمؐ کی رحلت کے بعد امت کا تفرقے اور اختلافات میں مبتلا ہونا انتہائی تشویش ناک امر تھا۔

آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے وضاحت کی کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا خطبہ محض اپنے ذاتی حق کے مطالبے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں امت کو قرآن، سیرتِ رسولؐ اور دینی اصولوں سے وابستہ رہنے، حق و باطل میں تمیز کرنے اور اجتماعی ذمہ داری سے غافل نہ ہونے کا پیغام بھی ملتا ہے۔ آپؑ نے امت کو متنبہ کیا کہ رسول اکرمؐ کی رحلت کے بعد اگر مسلمان قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات سے دور ہوجائیں تو امت اختلاف، تفرقے اور باہمی نزاع کا شکار ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اس پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر قرآن و عترت سے وابستہ رہیں اور اسلامی معاشرے کی اصلاح و سربلندی کے لیے متحد ہوکر کردار ادا کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha