بدھ 21 اکتوبر 2026 - 22:43
علم کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اسے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے، آیت اللہ بغدادی

حوزہ / تقریب میں اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں علم کی فضیلت اور عملی زندگی میں اس کے تقاضوں کو اجاگر کیا گیا؛ کامیاب طلبہ اور ممتاز اساتذہ میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ علمیہ امام سجاد (ع) میں ممتاز طلبہ و اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور ان کی علمی و تدریسی خدمات کے اعتراف میں بدھ، 21 اکتوبر 2026ء کو مدرسہ کے کانفرنس ہال میں ایک پُروقار تقریبِ تکریم منعقد ہوئی، جس میں حضرت آیت اللہ بغدادی نے خطاب کیا۔

تقریب کا بنیادی مقصد علمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ اور تدریسی خدمات انجام دینے والے ممتاز اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرنا اور حوزوی ماحول میں علم و تحقیق کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

علم کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اسے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے، آیت اللہ بغدادی

تعلیمات اہل بیت (ع) میں علم کا مقام و مرتبہ

حضرت آیت اللہ بغدادی نے اپنے خطاب میں اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں علم کے مقام و اہمیت پر گفتگو کی۔ انہوں نے علم کو انسانی فکری و اخلاقی ارتقا اور معاشرے کی اصلاح کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دینی علوم کا حصول محض علمی معلومات میں اضافے کا نام نہیں بلکہ اس کا مقصد انسان کی فکری تربیت، اخلاقی بلندی اور حق و حقیقت کی معرفت بھی ہے۔

انہوں نے اہل بیت علیہم السلام کی سیرت و تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنے اور علم کے ذریعہ معاشرے میں دینی شعور، اخلاقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

علم کے ساتھ عمل صالح اور تقویٰ کی ضرورت

حضرت آیت اللہ بغدادی نے خطاب کے دوسرے حصہ میں علم کے ساتھ عمل صالح اور تقویٰ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ علم کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اسے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے اور انسان اپنے کردار و عمل کو دینی تعلیمات کے مطابق ڈھالے۔

علم کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اسے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے، آیت اللہ بغدادی

انہوں نے طلبہ و اساتذہ کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی کہ حوزوی تعلیم و تربیت میں علمی استعداد کے ساتھ اخلاقی پاکیزگی، تقویٰ، اخلاص اور عملی کردار کی تعمیر کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ دینی علوم سے وابستہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علم کو اپنی زندگی میں منعکس کریں اور اپنے کردار و عمل کے ذریعہ معاشرے کے لیے نمونہ بنیں۔

ممتاز طلبہ اور اساتذہ میں تعریفی اسناد کی تقسیم

تقریب کے اختتام پر تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ اور تدریسی خدمات میں ممتاز کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کو تعریفی اسناد پیش کی گئیں۔ اس موقع پر ان کی علمی محنت، تعلیمی کامیابیوں اور تدریسی خدمات کو سراہا گیا۔

علم کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اسے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے، آیت اللہ بغدادی

قابل ذکر ہے کہ مدرسہ علمیہ امام سجاد (ع) قم میں منعقدہ یہ تقریب طلبہ میں علمی ذوق و شوق کو فروغ دینے، اساتذہ کی خدمات کی قدردانی کرنے اور دینی تعلیم کے ساتھ اخلاقی و عملی تربیت کی اہمیت اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس امر کی یاد دہانی بھی ہے کہ حوزوی تعلیم کا حقیقی مقصد ایسے اہلِ علم کی تربیت ہے جو علم و معرفت کے ساتھ عمل صالح، تقویٰ اور سیرتِ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha