حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے نئے تعلیمی سال کا آغاز حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی شہر مقدس قم میں بابرکت آمد کی سالگرہ کے ساتھ ہونے کے باعث حرم مطہر کے اطراف کا علاقہ زائرین اور حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے روضۂ اقدس کے مجاورین سے معمور ہے۔ بہت سے طلبہ، فضلاء اور اساتذہ بھی دخترِ موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کے حرم مطہر کی زیارت اور ان سے اذن حاصل کرنے کے بعد مدرسہ مبارکہ فیضیہ کے اجلاس ہال میں منعقدہ حوزہ علمیہ کے نئے تعلیمی سال کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔
حوزہ علمیہ قم میں 4 ہزار اساتذہ کی تدریسی خدمات
حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر ہمتیان، حوزہ علمیہ قم کے تعلیمی امور کے سرپرست نے اپنے خطاب کے دوران گزشتہ تعلیمی سال کی تعلیمی سرگرمیوں کی مختصر رپورٹ پیش کرتے ہوئے اور نئے تعلیمی سال کے پروگراموں کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا کہ حوزہ علمیہ قم میں 4 ہزار سے زائد اساتذہ تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
باصلاحیت طلبہ کی مالی و معنوی سرپرستی ضروری
انہوں نے حوزہ علمیہ کے علمی معیار کو بلند کرنے اور طلبہ و فضلاء کے جذبے میں اضافے کے لیے ایک تجویز بھی پیش کی اور کہا: استعداد کی جانچ کے علاوہ باصلاحیت افراد کی حوزہ علمیہ کے تخصصی شعبوں کی جانب رہنمائی کے لیے بھی مناسب مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ دوسری جانب ایسے باصلاحیت طلبہ و فضلاء جو پوری محنت اور علمی جدوجہد کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کی مالی اور معنوی طور پر مزید سرپرستی کی جانی چاہیے کیونکہ یہ افراد مستقبل میں حوزہ علمیہ کا علمی سرمایہ ہیں۔ لہٰذا ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ خدانخواستہ اس نورانی راستے میں ان کے حوصلے پست ہوں۔

رہبر شہید (رہ) کا تعلیمی طرزِ عمل؛ تمام طلبہ و فضلاء کے لیے نمونۂ عمل
حوزہ علمیہ کے فاضل طالب علم سعید ناصری نے حوزہ نیوز سے گفتگو کے دوران کہا: طلبگی کے زمانے سے ہمارے امام اور رہبر شہید (رہ) کی عبرت آموز حکایات کو پڑھ کر انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کتنے دشوار حالات میں حوزوی علوم و معارف حاصل کیے اور کس طرح اپنی گراں قدر اور بابرکت زندگی حوزہ علمیہ، دینی ادارے کی خدمت اور اسلام و اہل بیت علیہم السلام کے مکتب کی تبلیغ کے لیے وقف کردی۔
ہمارے امام اور قائدِ شہید (رہ) خود اپنی ایک تحریر میں فرماتے ہیں کہ "طاغوت کے دور میں جب میں قم آیا تو میری درسی مصروفیات بہت زیادہ ہوگئیں، یہاں تک کہ کبھی تین چار دروس میں شرکت کرتا اور اس کے ساتھ روزانہ ایک دو ضروری مباحثے بھی کرتا تھا۔ ہم درسِ خارج میں بابِ صلاۃ پر مباحثہ کرتے تھے۔ اس کے باوجود کہ میری درسی مصروفیات بہت زیادہ تھیں، ادب اور شعر بھی میری زندگی کا حصہ تھے اور مجھے ان سے دلچسپی تھی"۔
رہبر شہید (رہ) طلبگی کے زمانے میں رات گئے تک مطالعہ کرتے تھے۔ تحصیلِ علم کے راستے میں ان کی یہ سنجیدگی اور محنت ہم سب کے لیے بہترین درس اور نمونۂ عمل ہے کہ کسی بھی صورتِ حال میں علم حاصل کرنے سے غافل نہ ہوں اور مطالعہ و مباحثے کو اپنی علمی و تعلیمی سرگرمیوں کا محور قرار دیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ آج بروز اتوار، 15 شہریور 1405 شمسی / 6 ستمبر 2026ء سے حوزہ علمیہ قم کی تمام تعلیمی سرگرمیاں، مقدمات، سطح اور درسِ خارج سمیت تمام دروس باضابطہ اور مربوط انداز میں شروع ہوگئے ہیں۔









آپ کا تبصرہ