حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر آیت اللہ علی رضا اعرافی نے آل البیت (ع) بین الاقوامی یونیورسٹی قم میں منعقدہ دینی مطالعات میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے موضوع پر علم، تمدن و عرفان کی جانب سے اسلامی علوم کی فنی مصنوعات کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امام شہید اور شہداء محورِ مقاومت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا: ہم امام شہید (رہ) کی روح مطہر اور شہداء محورِ مقاومت کی ارواح پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے موجودہ عظیم معرکے میں اسلام اور مسلمانوں کی نصرت طلب کرتے ہیں۔ یہ اسلام اور کفر نیز مستضعفین اور مستکبرین کے درمیان ایک عظیم تمدنی معرکہ ہے۔
حوزہ علمیہ کے مدیر نے اس تقریب میں شریک علما، اساتذہ، فضلا، طلبہ، یونیورسٹی کے طلبہ اور حوزہ و یونیورسٹی سے وابستہ فعال افراد کو خوش آمدید کہتے ہوئے مزید کہا: میں ان تمام شخصیات اور اداروں کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران حوزہ علمیہ کو دنیا میں رونما ہونے والی ٹیکنالوجی اور علم کی تبدیلیوں سے آگاہ کرنے اور اس کے قریب لانے کے لیے کوششیں کی ہیں۔

آیت اللہ اعرافی نے مؤسّسہ علم، تمدن و عرفان کے منتظمین کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: میں ان طلبہ، یونیورسٹی کے طلبہ، ممتازین اور حوزہ و یونیورسٹی سے وابستہ ان ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس میدان میں اور اس مؤسّسہ کے ساتھ وابستہ ہو کر نوجوان، صاحبِ فکر، پُرجوش اور فعال گروہ کی صورت میں کام کر رہے ہیں۔ ہم اسلامی علوم کی سرحدوں کو وسعت دینے اور علم و دانش، اسلامی علوم، علومِ شناختی کے تحولات اور جدید ٹیکنالوجیز کے درمیان مشترکہ دائرہ کار اور باہمی ارتباط کے نکات کی وضاحت کے لیے ان عزیزوں کے شوق، ذوق اور بھرپور جذبے کے مرہونِ منت ہیں۔
آیت اللہ اعرافی نے رہبر شہید (رہ) کی جانب سے علم و ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: سائنسی اور فنی اقتدار ہمارے رہبر شہید (رہ) کے اہم ترین امور میں سے تھا۔ سب نے ان کی تقاریر اور مختلف مواقع پر ہونے والی ملاقاتوں میں اس موضوع کو دیکھا اور قریب سے بھی مشاہدہ کیا کہ وہ علم و ٹیکنالوجی کے مسائل کو کس قدر اہمیت دیتے اور ان کو فالو اپ کرتے تھے۔ حضرت رہبر شہید (رہ) ملک میں علم و ٹیکنالوجی کی صورتحال کی جزئیات اور مرحلہ وار پیش رفت پر بھی نظر رکھتے تھے۔
حوزہ علمیہ کے مدیر نے مزید کہا: مجھے یقین ہے کہ ملک میں علمی، سائنسی ترقی اور اعلیٰ ٹیکنالوجیز کے میدان میں ہونے والی بہت سی پیش رفت ان کی خصوصی توجہ کے بغیر وجود میں نہ آتی یا کم از کم اس شکل میں نہ ہوتی۔ اس توجہ اور اہتمام کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔










آپ کا تبصرہ