ہفتہ 5 ستمبر 2026 - 17:00
نئے تعلیمی سال پر حوزہ علمیہ کے لئے 10 اہم نکات / عہد کریں کہ ہم «أَدْعُو إِلَی اللَّهِ» کا مصداق بنیں گے

حوزہ/ حوزہ علمیہ کے سربراہ نے کہا: حوزہ علمیہ کو زمانے کے حالات، معاشرے کی ضروریات اور دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی درست شناخت کے ساتھ اپنی تاریخی ذمہ داری بخوبی ادا کرنی چاہیے اور دینی معارف کی تبیین اور اسلام کے پیغام کے فروغ کی راہ میں قدم آگے بڑھانا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے آج 5 ستمبر 2026ء بروز ہفتہ مدرسہ مبارکہ فیضیہ قم میں حوزہ علمیہ کے نئے تعلیمی سال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سورۂ یوسف کی آیت «قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس آیت کریمہ میں تین بنیادی نکات بیان ہوئے ہیں جو درحقیقت حوزہ علمیہ اور دینی علوم کے طلبہ کی شناخت کی بنیاد ہیں۔

خدا کی طرف دعوت؛ حوزہ علمیہ کی رسالت کا بنیادی رکن

انہوں نے کہا: اس آیت کا پہلا محور خداوند متعال کی طرف دعوت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راستہ یہ تھا کہ معاشرے اور انسانیت کو خداوند متعال کی طرف دعوت دیں اور یہی حوزہ علمیہ کی رسالت اور فعالیت کا بنیادی رکن بھی ہے۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے مزید کہا: نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ہم سب کو خداوند متعال سے عہد و پیمان کرنا چاہیے کہ اس راستے کو جاری رکھیں گے؛ ایسا راستہ جس کی منزل «الی اللہ» اور خداوند متعال کی لازوال قدرت کے مرکز و قلعہ کی جانب حرکت ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ انسان اور کائنات پر خداوند متعال کی مطلق حاکمیت اس راستے کی بنیاد ہے، کہا: خدا کی طرف دعوت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تمام حرکات، سرگرمیاں اور سمت بندی توحید کے محور اور الٰہی ارادے کے راستے پر استوار ہوں۔

دینی بصیرت اور آگاہی؛ الٰہی راستے پر گامزن ہونے کی شرط

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے آیت کریمہ کے دوسرے محور کو «بصیرت» قرار دیتے ہوئے کہا: یہ دعوت دین کے بارے میں آگاہی، معرفت اور بصیرت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ مفسرین کے کلام میں «بصیرت» کی تفسیر فقاہت، گہری معرفت اور دین کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی سے کی گئی ہے۔ لہٰذا حوزہ علمیہ کو دین، اس کے راستے اور معاشرے میں اس کے نفاذ اور تحقق کے طریقوں کے بارے میں گہری بصیرت اور معرفت حاصل کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا: الٰہی ہدایت کا یہ راستہ صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک محدود نہیں بلکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے وجود میں جاری رہا اور اس کے بعد روحانیت، مرجعیت اور ولایت فقیہ نے اس دشوار راستے کو آگے بڑھایا۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے کہا: یہ نورانی راستہ ایک تاریخی اور مسلسل سلسلہ ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شروع ہوا، ائمہ اطہار علیہم السلام کی امامت میں جاری رہا اور تاریخ کے مختلف ادوار میں فقہا، علما اور دینی بزرگان کے ذریعے آگے بڑھتا رہا ہے۔

طلبہ کا خدا سے حوزہ علمیہ کے ہزار سالہ راستے کو جاری رکھنے کا عہد

آیت اللہ اعرافی نے حوزہ علمیہ کے طلبہ اور نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: عزیز اور نوجوان طلبہ! ہماری اور آپ کی شناخت اسی راستے میں متعین ہوتی ہے۔ آپ وہ عزیز ہیں جو آج علم، جہاد اور شہادت کے اس مرکز یعنی مدرسہ فیضیہ میں موجود ہیں جبکہ ملک بھر میں یہ گفتگو سننے والے تمام عزیز طلبہ بھی نئے تعلیمی سال کے آغاز پر خداوند متعال اور ولی عصر علیہ السلام سے عہد و پیمان کریں۔

انہوں نے مزید کہا: ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ اس آیت کریمہ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت، ائمہ اطہار علیہم السلام کی امامت اور سلف صالح، فقہا اور دینی بزرگان کے راستے کو جاری رکھیں گے؛ ان بزرگوں نے ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے تک اس نورانی رسالت کو اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا اور معاشرے کو نور سے منور کیا۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے گزشتہ علما اور فقہا کو اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات اور تکالیف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دینی بزرگان نے تاریخ کے دوران الٰہی معارف کے تحفظ اور فروغ کے لیے بے شمار مشکلات اور مصائب برداشت کیے اور اس راہ میں بہت سی قربانیاں پیش کیں۔ آج یہ گراں قدر میراث ہمارے اور آپ کے سپرد ہے۔

نئے تعلیمی سال کے لیے حوزہ علمیہ کے 10 اہم نکات / عہد کریں کہ ہم «أَدْعُو إِلَی اللَّهِ» کا مصداق بنیں گے

عہد کریں کہ «أَدْعُو إِلَی اللَّهِ» کے مصداق بنیں

آیت اللہ اعرافی نے کہا: ہمیں خداوند متعال اور ان تمام بزرگوں سے عہد کرنا چاہیے کہ ہم آیت کریمہ «أَدْعُو إِلَی اللَّهِ» کے مصداق بنیں؛ «الی اللہ» سے آغاز کریں، صرف خداوند متعال کو سامنے رکھیں اور اپنی زندگی اور سرگرمیوں کے تمام امور و معاملات کو اسی کی طرف متوجہ کریں۔

انہوں نے کہا: اس راستے کے ساتھ دین کے بارے میں بصیرت اور آگاہی بھی ضروری ہے؛ ہمیں شریعت کو صحیح طور پر سیکھنا، اسلامی معارف کی گہری اور درست معرفت حاصل کرنا اور دنیا میں شریعت کے نور کو پھیلانے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے کہا: حوزہ علمیہ کی رسالت صرف علوم و معارف کے ایک مجموعے کو سیکھنے تک محدود نہیں بلکہ حوزہ علمیہ کو دین کی گہری معرفت حاصل کرکے معاشرے اور دنیا میں اس کے تحقق، تبیین اور فروغ کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

حوزہ علمیہ کی رسالت کا عالمی افق

آیت اللہ اعرافی نے حوزہ علمیہ کی تاریخی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمیں اس عہد و پیمان کو آج اور مستقبل کی تاریخ کے لیے جاری رکھنا چاہیے کیونکہ آج دنیا میں بہت سی نظریں حوزہ علمیہ اور ان کی صلاحیتوں پر مرکوز ہیں۔

فقہا گارڈین کونسل کے اس رکن نے مزید کہا: حوزہ علمیہ کو زمانے کے حالات، معاشرے کی ضروریات اور دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی درست شناخت کے ساتھ اپنی تاریخی ذمہ داری بخوبی ادا کرنی چاہیے اور دینی معارف کی تبیین اور اسلام کے پیغام کے فروغ کی راہ میں قدم آگے بڑھانا چاہیے۔

مدرسہ فیضیہ؛ انقلاب اسلامی کی عظیم تحریک کا نقطۂ آغاز

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے انقلاب اسلامی کی تشکیل اور اس کے تسلسل میں حوزہ علمیہ کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انقلاب اسلامی ایسی ہی عظیم آرمان کے بطن سے وجود میں آیا اور ہمارے عظیم امام نے اسی فیضیہ سے اس تحریک کا پرچم بلند کیا۔ ہمارے رہبر شہید (رہ) اور امام راحل (رہ) نے بھی اس راستے کو جاری رکھا اور آج مراجع عظام تقلید، رہبر معظم انقلاب اور آپ حوزوی حضرات کی ذمہ داری ہے کہ اس راستے کو آگے بڑھائیں۔

انہوں نے مزید کہا: حوزہ علمیہ کو ایک ہزار سالہ فقاہت، علم، جہاد اور علما کی جدوجہد کی گراں قدر میراث کا تحفظ کرکے اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا چاہیے اور ساتھ ہی معاشرے اور عالم اسلام کی نئی ضروریات کا جواب دینے کے لیے بھی آمادہ رہنا چاہیے۔

نئے تعلیمی سال کے لیے حوزہ علمیہ کا لائحۂ عمل

آیت اللہ اعرافی نے کہا: ہماری شناخت اس آیت کریمہ کے آئینے میں متعین ہوتی ہے؛ یہ آیت نئے تعلیمی سال کے آغاز پر حوزہ علمیہ کی تحریک کے لیے رہنما اور راہ گشا ثابت ہوسکتی ہے۔ خدا کی طرف دعوت، دینی بصیرت و آگاہی کی بنیاد پر حرکت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ائمہ اطہار علیہم السلام اور بزرگ فقہا کے راستے کا تسلسل اور شریعت کے نور کو پھیلانے کی کوشش حوزہ علمیہ کے پروگراموں اور پالیسیوں میں سرفہرست ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا: نئے تعلیمی سال کا آغاز اس بات کا موقع ہے کہ ہم سب ایک مرتبہ پھر خداوند متعال، ولی عصر علیہ السلام اور حوزہ علمیہ کے بلند اہداف سے عہد کریں اور نئے عزم و ارادے کے ساتھ اس نورانی راستے کو جاری رکھیں۔

حوزہ علمیہ پختہ عزم کے ساتھ ترقی و کمال کا سفر جاری رکھے گا

آیت اللہ اعرافی نے حوزہ علمیہ کی ترقی و کمال کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے حوزوی اعلیٰ کونسل، حوزہ علمیہ کی انتظامیہ اور حوزوی اداروں کے پختہ عزم پر زور دیتے ہوئے کہا: آج کے دشوار حالات میں حوزہ علمیہ کو مختلف میدانوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کے ساتھ انقلاب اسلامی، امام راحل(رہ)، شہدا اور ہمارے شہید و عزیز رہبر (رہ) کے آرمانوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: ممکن ہے بعض مواقع پر محدودیتوں یا مطلوبہ سہولیات بروقت فراہم نہ ہونے کی وجہ سے تمام امور مطلوبہ دقت اور رفتار سے آگے نہ بڑھ سکیں، لیکن ہم بارگاہ الٰہی اور اپنی ذمہ داریوں کے سامنے یہ عہد رکھتے ہیں کہ حوزہ علمیہ کی ترقی، اس کی سربلندی اور آج کے سنگین اور حساس دور میں اس کے مؤثر کردار کے لیے کسی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے کہا: حوزہ علمیہ کو انقلاب اسلامی، امام شہدا، ہمارے شہید و عزیز رہبر اور تمام گرانقدر شہدا کے مقابلے میں اپنی ذمہ داری بہترین انداز میں ادا کرنی چاہیے اور اس راستے میں اپنی تمام صلاحیتیں اور توانائیاں بروئے کار لانی چاہئیں۔

مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ 100 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

آیت اللہ اعرافی نے جمہوریہ اسلامی کے مختلف اداروں اور مراکز کے ساتھ 100 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی اطلاع دیتے ہوئے کہا: ان مفاہمتی یادداشتوں کے تحت مختلف اداروں کی ضروریات کی نشاندہی کرکے حوزہ علمیہ تک پہنچائی گئی ہیں تاکہ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حوزہ علمیہ کی علمی، تحقیقی، تعلیمی اور تخصصی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا: ان مفاہمتی یادداشتوں نے حوزہ علمیہ اور نظام کے مختلف اداروں کے درمیان زیادہ منظم روابط اور موجودہ صلاحیتوں سے باہمی استفادے کی بنیاد فراہم کی ہے۔

تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے نئے مراکز اور ڈھانچوں کا قیام

آیت اللہ اعرافی نے حوزہ علمیہ میں نئے مراکز اور ڈھانچے قائم کیے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا: گزشتہ برسوں کے دوران روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے اور ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے ضروری متعدد نئے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ حوزوی اداروں کی رابطہ کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے تاکہ مختلف حوزوی اداروں کے درمیان مزید ہم آہنگی اور باہمی تعاون پیدا کیا جاسکے۔

نئے تعلیمی سال کے لیے حوزہ علمیہ کے 10 اہم نکات / عہد کریں کہ ہم «أَدْعُو إِلَی اللَّهِ» کا مصداق بنیں گے

سماجی مسائل کے لیے مختلف کمیٹیوں کا قیام

آیت اللہ اعرافی نے حوزہ علمیہ کی سماجی سرگرمیوں میں توسیع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سماجی مسائل کے میدان میں تقریباً 30 اہم کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ جو آبادی، ماحولیات، حجاب، امر بالمعروف اور دیگر اہم سماجی مسائل میں حوزہ علمیہ کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے سماجی مسائل اور چیلنجز کے مناسب حل پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت (AI) اور علومِ شناختی سے دانشمندانہ استفادہ پر تاکید

آیت اللہ اعرافی نے جدید ٹیکنالوجی کو حوزہ علمیہ کے توجہ طلب دیگر محاور میں شمار کرتے ہوئے کہا: ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت (AI) کی پالیسی سازی کے لیے کونسل تشکیل دی گئی ہے اور حوزہ علمیہ علومِ شناختی اور جدید ٹیکنالوجی سے دانشمندانہ استفادے کی جانب بھی گامزن ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز کا سامنا کرتے ہوئے ہمیں نہ منفعل ہونا چاہیے اور نہ غافل؛ بلکہ آگاہی، دانشمندی اور فعال انداز کے ساتھ ان علوم اور ٹیکنالوجیز کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا: حوزہ علمیہ کو علمی اور ٹیکنالوجی کے تحولات کی درست شناخت کے ساتھ ان شعبوں میں موجود صلاحیتوں کو اپنی علمی، ثقافتی اور سماجی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔

حوزہ علمیہ اور نظام کی ضروریات سے متعلق تحقیقات کی حمایت

آیت اللہ اعرافی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں تحقیقی منصوبوں کی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ کی اہم سرگرمیوں میں سے ایک ان تحقیقات کی حمایت ہے جو حوزہ اور نظام کی حقیقی ضروریات کا جائزہ لیتی ہیں۔ اب تک قابل ذکر تعداد میں مطالعاتی منصوبوں کی حمایت اور مدد کی جاچکی ہے اور نظام کے مختلف اداروں کو مختلف شعبوں میں درکار موضوعات محققین کے سپرد کیے گئے ہیں تاکہ ان کا علمی اور تخصصی جائزہ لیا جاسکے۔

انہوں نے کہا: یہ طریقہ کار حوزوی تحقیقات اور معاشرے و نظام کے حقیقی مسائل کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے اور ملکی ضروریات کے لیے علمی اور عملی جوابات کی تیاری کا باعث بن سکتا ہے۔

حوزہ علمیہ قم کی ایک سو سالہ تاریخ سے 15 لاکھ دستاویزات جمع

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے حوزہ علمیہ اور علماء کے دستاویزاتی مرکز کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ اور روحانیت کا دستاویزی مرکز حوزہ علمیہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور ثبت کے حوالے سے اہم مراکز میں سے ایک ہے۔

انہوں نے اس مرکز میں موجود دستاویزات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اب تک حوزہ علمیہ قم کی گزشتہ ایک سو سالہ تاریخ سے متعلق تقریباً 15 لاکھ دستاویزات جمع کی جاچکی ہیں جن میں تقریباً پانچ لاکھ تحریری دستاویزات ہیں۔ دستاویزات کا یہ عظیم مجموعہ گزشتہ ایک سو برس کے دوران قم کے حوزہ علمیہ کی تاریخ اور تحولات کا ایک حصہ اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہے اور اسے اس دور میں حوزہ علمیہ کے عظیم علمی، سماجی، ثقافتی اور انتظامی تحولات کے آئینے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دین اور سائبر اسپیس کے میدان میں تخصصی سرگرمیوں کی توسیع

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے دین اور سائبر اسپیس کے میدان میں تخصصی سرگرمیوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: «مرکز تخصصی دین و سائبر اسپیس» ان اداروں میں شامل ہے جو نئی ضروریات اور مواصلات و سوشل میڈیا سمیت سائبر اسپیس کے میدان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا جواب دینے کے لیے سرگرم ہے۔

مجلس شورائے نگہبان کے فقہا کے رکن نے جدید ارتباطی اور ثقافتی میدانوں میں حوزہ علمیہ کی فعال موجودگی کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سوشل میڈیا اور اس کی صلاحیتوں پر توجہ آج کی اہم ضروریات میں سے ہے اور حوزہ علمیہ کو اس میدان میں بھی مؤثر، علمی اور ہدف مند موجودگی اختیار کرنی چاہیے۔

حوزہ علمیہ اور علماء کی علمی و شناختی کانفرنسز کا تسلسل

آیت اللہ اعرافی نے حوزہ علمیہ اور روحانیت کی مستقل کانفرنسوں کے سیکریٹریٹ کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس حوالے سے متعدد پروگرامز اور کانفرنسیں منعقد ہوچکی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

تعلیمی آثار کی تدوین و پیشکش کے ذریعے عربی ادب کی بنیادیں مضبوط کرنے پر زور

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے عربی ادب کی بنیادیں مضبوط بنانے کے لیے نئے پروگرامز کے آغاز کی اطلاع دیتے ہوئے کہا: اس سلسلے میں عربی ادب کے میدان میں نئی کتاب اور تعلیمی مجموعہ تیار کرنے کا کام شروع کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کی ادبی بنیادیں مضبوط ہوں۔

آیت اللہ اعرافی نے حوزوی علوم کی تعلیم میں عربی ادب کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عربی ادب پر عبور دینی اور علمی متون کے حصول کی اہم بنیادوں میں سے ایک ہے اور اس شعبے کو مضبوط بنانے سے طلبہ کے علمی معیار کو بلند کرنے اور علمی منابع و دینی متون سے بہتر استفادے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے مختلف شعبوں میں انجام دیے گئے پروگراموں اور اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس حوالے سے مختلف عناوین اور اقدامات مرتب کیے گئے ہیں جن میں سے بعض اس تقریب میں پیش کیے گئے جبکہ دیگر امور کی تفصیلات آئندہ تکمیلی رپورٹس میں شائع کی جائیں گی۔ یہ اقدامات اور پروگرام علمی، تعلیمی، تحقیقی، تبلیغی اور سماجی شعبوں میں جاری ہیں اور ان کا مقصد حوزہ علمیہ کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا اور اس کی رسالت کی تکمیل کی راہ پر آگے بڑھنا ہے۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے کہا: ان پروگراموں کی تکمیل کے لیے حوزہ علمیہ کے تمام شعبوں کی مشارکت ضروری ہے۔ اگر حوزہ علمیہ کو ان تمام میدانوں میں ترقی کرنی ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو مطلوبہ انداز میں پورا کرنا ہے تو حوزہ علمیہ کی مختلف صلاحیتوں کو یکجا کرنا اور تمام شعبوں کی علمی، تعلیمی اور اجرائی توانائیوں سے استفادہ کرنا ہوگا۔ حوزہ علمیہ میں آگے بڑھنے کے لیے وسیع تعاون اور باہمی ہم آہنگی ضروری ہے اور اساتذہ، مدارس، ادارے اور طلبہ میں سے ہر ایک اس راستے کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔

حوزہ علمیہ کی صلاحیتوں سے حوزوی رسالت کی تکمیل کے لیے استفادہ

حوزہ علمیہ کی اعلی کونسل کے رکن نے ان سرگرمیوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ کو اپنی رسالت کی تکمیل کے لیے علمی، تعلیمی، تحقیقی، تبلیغی، سماجی اور ثقافتی مختلف میدانوں میں فعال اور مؤثر موجودگی اختیار کرنی چاہیے۔ تخصصی مراکز اور دفاتر کا قیام، علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں توسیع، بنیادی تعلیمات کی تقویت، سوشل میڈیا پر توجہ اور تبلیغی سرگرمیوں کا فروغ، یہ سب حوزہ علمیہ کی جانب سے معاشرے کی ضروریات کا جواب دینے اور اپنی رسالت ادا کرنے کے لیے جاری ہیں۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے کہا: امید ہے کہ اساتذہ، اداروں، مدارس اور طلبہ کے تعاون سے یہ پروگرام مزید قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور حوزہ علمیہ علمی، ثقافتی اور سماجی ترقی اور اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کی راہ میں مزید مؤثر اقدامات کرسکیں گے۔

انہوں نے امام راحل، رہبر معظم انقلاب، مراجع عظام تقلید، حوزہ علمیہ کے بزرگان اور حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کی ہدایات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ضروری ہے کہ امام راحل کی فکر و سیرت، انقلاب اسلامی کے شہید رہبر کی ہدایات، مراجع عظام تقلید اور حوزہ علمیہ کے بزرگان کے پیغامات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے حوزہ علمیہ کی تحریک کے راستے کو زیادہ دقت اور سنجیدگی سے آگے بڑھایا جائے۔

نئے تعلیمی سال کے لیے حوزہ علمیہ کے 10 اہم نکات

اول: علمی پسماندگی کا ازالہ؛ حوزہ علمیہ کی پہلی ترجیح

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے گزشتہ برسوں اور مہینوں میں رونما ہونے والے بعض واقعات اور حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جن کی وجہ سے تعلیمی اور علمی سرگرمیوں کے عمل میں خلل پیدا ہوا، کہا: ایک مرحلے پر ہمیں کورونا اور مسلط کردہ جنگ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جن کی وجہ سے علمی سرگرمیوں میں کسی حد تک خلل پیدا ہوا اور ممکن ہے بعض شعبوں میں پسماندگی پیدا ہوئی ہو۔ اس سال اساتذہ، مدیران اور حوزہ علمیہ کے تمام فعال افراد کو سنجیدگی کے ساتھ ممکنہ علمی پسماندگی کا ازالہ کرنا چاہیے۔ ہماری درخواست ہے کہ علمی پسماندگی کا ازالہ حوزہ علمیہ کے انتظامی شعبوں اور معزز اساتذہ کے پروگراموں اور سرگرمیوں کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہو۔

آیت اللہ اعرافی نے مزید کہا: حوزہ علمیہ کو اپنی تمام ذمہ داریوں پر توجہ دیتے ہوئے علم، تحقیق، فقہ، اصول، اسلامی معارف اور طلبہ کی علمی تربیت کے مقام کو اپنی بنیادی بنیادوں میں سے ایک کے طور پر محفوظ اور مضبوط رکھنا چاہیے۔

دوم: حوزہ علمیہ ملت اور مسلح افواج کے شانہ بشانہ میدان میں موجود رہے گا

انہوں نے انقلاب اسلامی اور ملک کے دفاع سے متعلق حوزہ علمیہ کے مؤقف پر زور دیتے ہوئے کہا: ہم آج بیک وقت ایران، اسلام اور انقلاب اسلامی کے دشمنوں اور اپنے دوستوں کے سامنے اعلان کرتے ہیں کہ حوزہ علمیہ اب بھی انقلاب اسلامی، میدان میں موجودگی اور اسلام، ایران اور انقلاب اسلامی کے دشمنوں کے مقابلے میں استقامت کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے کہا: معزز مدیران اور اساتذہ سے میری درخواست ہے کہ جہاں بھی انہیں محسوس ہو کہ مسلح افواج کی حمایت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے میدان، سڑک اور عملی محاذ پر موجودگی ضروری ہے وہاں اس موجودگی کو ترجیح دیں۔

سوم: جمہوریہ اسلامی ایران خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے آمادہ ہے

آیت اللہ اعرافی نے مختلف خطرات اور تحولات کا مقابلہ کرنے کے لیے جمہوریہ اسلامی ایران کی آمادگی پر زور دیتے ہوئے کہا: پوری دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملت ایران رہبر معظم انقلاب اسلامی کی پیروی کرتے ہوئے اسلام اور انقلاب اسلامی کو آگے بڑھانے کے راستے میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کرے گی۔

فقہا گارڈین کونسل کے رکن نے ملت ایران کے ساتھ حوزہ علمیہ کی یکجہتی اور حوزہ علمیہ کی رہنمائی میں مراجع عظام تقلید کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم مراجع عظام کی پیروی کرتے ہوئے ملت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دشمن کے مقابلے میں تمام حالات کے لیے آمادہ ہیں۔

چہارم: جنگ کے اسباق سے حوزوی اور سماجی تربیت میں استفادہ

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے جنگ کے ثقافتی، اخلاقی اور تربیتی ثمرات سے استفادے کو حوزہ علمیہ کی اہم سرگرمیوں میں شمار کرتے ہوئے کہا: ہمیں مسلط کردہ جنگ کے ثمرات سے حوزوی افراد، معاشرے، طلبہ اور یونیورسٹی کے طالب علموں کی تربیت کے لیے استفادہ کرنا چاہیے۔

حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے رکن نے مزید کہا: میں نے وزیر تعلیم سے ملاقات میں عرض کیا کہ یہ جنگ ایک ملت کے ایمان کا مکمل آئینہ تھی اور حقیقت میں اس نے ہمارے سامنے اخلاقی اور تربیتی اسباق کی ایک مکمل کتاب کھول دی۔ حوزہ علمیہ، وزارت تعلیم اور یونیورسٹیوں کے ہمارے اساتذہ کو ملت اور شہدا کے ایمان، ایثار، قربانی اور جانفشانی کے ان مظاہر کو تہذیب و تربیت کی کتاب کا حصہ بنانا چاہیے۔

انہوں نے حوزہ علمیہ کے اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: معزز اساتذہ سے توقع ہے کہ وہ اس موضوع پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ان واقعات کی تربیتی اور اخلاقی صلاحیتوں سے آئندہ نسل کی تربیت کے لیے استفادہ کریں اور دینی و سماجی تربیت کے عمل میں ایثار، مقاومت، قربانی اور شہادت کی ثقافت کو ملحوظ رکھیں۔

پنجم: مرجعیت اور ولایت فقیہ کو مضبوط بنانا

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے حوزہ علمیہ کے ڈھانچے میں مرجعیت اور قیادت کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مرجعیت حوزہ علمیہ کے ایک اصیل ادارے کے طور پر توجہ اور تقویت کی مستحق ہے اور بالخصوص رہبر معظم انقلاب کی زعامت کے آغاز پر حوزہ علمیہ کی اس مستحکم روش کو پوری قوت کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ ہم حوزہ علمیہ کے بزرگان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ولایت فقیہ ہماری رہنمائی کا چراغ ہے۔ یہ حوزہ علمیہ کا روشن راستہ ہے اور اسے قوت اور استقامت کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔

ششم: امامین انقلاب اسلامی اور حوزہ علمیہ کے بزرگان کی فکر سے آگاہی

آیت اللہ اعرافی نے امام خمینی اور انقلاب اسلامی کے شہید رہبر اور حوزہ علمیہ کے بزرگان کی فکر سے آگاہی کو حوزہ علمیہ کی بنیادی سرگرمیوں میں شمار کرتے ہوئے کہا: امام راحل اور انقلاب کے بزرگان بالخصوص امامین انقلاب کی فکر سے آگاہی حوزہ علمیہ کی سرگرمیوں کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ امام راحل اور ہمارے شہید امام کی فکر پر حوزہ علمیہ میں سنجیدگی سے توجہ دی جانی چاہیے اور نئی نسل کے طلبہ و علما کو امام اور انقلاب اسلامی کے رہنماؤں کی فکری، سیاسی، سماجی اور دینی بنیادوں سے گہری اور مسلسل آگاہی حاصل ہونی چاہیے۔

ہفتم: جہادِ تبیین؛ حوزہ علمیہ کی شب و روز کی ذمہ داری

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے جہادِ تبیین اور انقلاب اسلامی کی صحیح روایت پیش کرنے کو حوزہ علمیہ کی اہم ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا: ایران اور دنیا میں انقلاب اسلامی کی عظمت کی تبیین اور اس کی صحیح روایت پیش کرنا ہم سب کی شب و روز ذمہ داری ہے۔ ہم سب کو اپنی صلاحیت اور استطاعت کے مطابق انقلاب اسلامی کی عظمت، اس کی کامیابیوں اور اس تحریک کی فکری و اقداری بنیادوں کو معاشرے اور دنیا کے سامنے متعارف کرانا چاہیے۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا: حوزہ علمیہ کو تبیین، روشنگری اور شبہات کے جوابات کے میدان میں فعال ہونا چاہیے اور اپنی علمی، فکری اور تبلیغی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے انقلاب اسلامی اور ملک کے تحولات کی صحیح اور مستند روایت پیش کرنی چاہیے۔

ہشتم: علمی اور فقہی قوت؛ حوزہ علمیہ کا بنیادی محور

حوزہ علمیہ کے مدیر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ «حوزہ علمیہ کا بنیادی کام اس کی علمی، فقہی اور فکری قوت ہے»، کہا: حوزہ علمیہ کی علمی قوت بنیادی اور ناقابلِ چشم پوشی اصولوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے حوزہ علمیہ کے علمی پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: تاریخ کے دوران ہمارے پاس فکری، کلامی، حدیثی، تفسیری، فقہی اور دیگر علوم اسلامی کے میدان میں عظیم اور گراں قدر علمی میراث رہی ہے اور اس گہری علمی بنیاد کو محفوظ اور مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ حوزہ علمیہ کو اپنی قیمتی علمی میراث کے تحفظ کے ساتھ علوم اسلامی کی مزید ترقی اور پیشرفت کے لیے بھی ماحول فراہم کرنا چاہیے اور حوزہ علمیہ کی علمی و فکری بنیاد کو کمزور یا متاثر نہیں ہونے دینا چاہیے۔

آیت اللہ اعرافی نے علمی توانائی کے ساتھ روحانی، معنوی اور اخلاقی قوت کو بھی حوزہ علمیہ کے بنیادی ارکان میں شمار کرتے ہوئے کہا: علمی اور فقہی قوت کے ساتھ طلبہ اور حوزوی افراد کی روحانی، معنوی اور اخلاقی قوت کو بھی مضبوط بنانا چاہیے۔ یہ دونوں پر، یعنی علمی صلاحیت اور معنوی و اخلاقی توانائی، بیک وقت توجہ کے مستحق ہیں۔

نہم: عوام اور نوجوان نسل کے ساتھ مسلسل رابطے کی ضرورت

انہوں نے عوام اور معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ رابطے کو حوزہ علمیہ کی ایک اور اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا: عوام، نوجوانوں، اسکول کے طلبہ، یونیورسٹی کے طلبہ، جامعات سے وابستہ افراد اور معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ رابطہ حوزہ علمیہ کے بنیادی پروگراموں میں شامل ہونا چاہیے۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے مزید کہا: حوزہ علمیہ معاشرے، نوجوان نسل کے مسائل اور ملک کے فکری و ثقافتی تحولات سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ علما اور طلبہ کو عوام کے درمیان موجود ہونا چاہیے اور مختلف نسلوں بالخصوص نوجوانوں، اسکول اور یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ اپنے روابط کو مضبوط بنانا چاہیے۔

انہوں نے رہبر معظم انقلاب کی جانب سے «پیشرفتہ و جدید حوزہ» پر زور دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ کو علمی، ثقافتی، سماجی، تبلیغی اور تربیتی میدانوں میں پیشرو، ممتاز، متحرک اور جواب دہ حوزہ ہونا چاہیے۔

دہم: اجتہادی بنیادوں کے تحفظ کے ساتھ جدید ٹیکنالوجیز سے استفادہ

آیت اللہ اعرافی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں حوزہ علمیہ کی جانب سے جدید طریقوں اور جدید ٹیکنالوجیز سے استفادے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ اور دین کو آگے بڑھانے کے لیے تمام جدید طریقوں اور جدید ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرنا چاہیے۔ البتہ نئے ذرائع کا استعمال صحیح اجتہادی بنیادوں اور حوزہ علمیہ کے گہرے اور راسخ روایتی طریقوں کے تحفظ کے ساتھ ہونا چاہیے۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے کہا: حوزہ علمیہ کو اپنی اصیل علمی، فقہی اور اجتہادی بنیادوں کی پابندی کے ساتھ جدید ٹیکنالوجیز کی صلاحیتوں سے تعلیم، تحقیق، تبلیغ، معاشرے سے رابطے اور دینی معارف کی منتقلی کے لیے استفادہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے حوزہ علمیہ کے اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: ہم تمام اساتذہ، مدارس، اداروں اور حوزہ علمیہ کے مختلف مراکز سے درخواست کرتے ہیں کہ انقلاب اسلامی کے لیے ضروری تمام مصلحتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے میدان میں موجودگی، عوام سے رابطہ، درس و بحث پر توجہ، فکری و علمی بنیادوں کی تقویت اور طلبہ کی اخلاقی و معنوی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے آخر میں امید ظاہر کرتے ہوئے کہا: ان شاء اللہ ہم سب امام صادق علیہ السلام اور حضرت ولی عصر ارواحنا فداه کے حقیقی سپاہی بنیں اور اسلام اور انقلاب اسلامی کے راستے کو بصیرت، علم، اخلاق اور انقلابی جذبے کے ساتھ درست انداز میں آگے بڑھانے میں کامیاب ہوں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha