ہفتہ 15 اگست 2026 - 23:53
طالب علم، استاد اور عالمِ دین میں جامع، تمدنی اور حیات بخش فکر کا فقدان یا کمزوری ایک اہم نقصان ہے

حوزہ / حوزہ علمیہ کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا: امامین انقلاب نے اسلام کی زندہ، حیات بخش اور تحریک آفرین تفسیر پیش کی ہے۔ انہوں نے ’’نظام جامعِ اندیشۂ اسلامی‘‘ کے منصوبے کو تمدنی اور انقلابی نقطۂ نظر کے ساتھ ’’ترقی پسند اور ممتاز حوزہ‘‘ کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ’’اسلام کے جامع نظامِ فکر اور اجتماعی حیات‘‘ کے منصوبے کے تربیتی دورے کے نام جاری اپنے پیغام میں کہا:

بسمہ تعالی

انبیاء و اولیاء علیہم السلام کی ارواح بالخصوص خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خاتم الاوصیاء حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں درود و سلام پیش کرتے ہوئے اور امام راحل رحمۃ اللہ علیہ، اسلام، انقلاب اسلامی، جنگ اور دفاع مقدس کے عظیم شہداء بالخصوص قائد و امامِ شہید و عزیز قدس سرہٗ کی پاکیزہ ارواح کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے، نظام جامعِ اندیشۂ اسلامی کے تکمیلی تربیتی دورے میں شریک معزز اساتذہ، فضلاء اور عزیز طلبہ کی خدمت میں نیز اس دورے کے محترم منتظمین اور معاونتِ تہذیب و تربیت کے معزز عہدیداران کی خدمت میں، جو حضرت ثامن الحجج امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی سرزمین اور مقدس روضے کے جوار میں اس پروگرام کا انعقاد کر رہے ہیں، اپنی جانب سے سلام، تشکر اور تبریک پیش کرتا ہوں۔

میری خواہش تھی کہ اس عظیم امام علیہ السلام کی زیارت اور رہبرِ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مزارِ شریف پر حاضری کا شرف حاصل کرتے ہوئے براہِ راست ادب و احترام، قدردانی اور تشکر پیش کرتا، لیکن بعض رکاوٹوں کے باعث یہ توفیق حاصل نہ ہو سکی۔

اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے یاد دلانا چاہتا ہوں کہ حوزہ کے تحول، ترقی، رشد اور کمال کے لیے ’’ترقی پسند اور ممتاز حوزہ‘‘ کی جانب پیش قدمی کے سلسلے میں اسناد، منصوبوں اور تحولی پروگراموں کی جامع کڑی میں ’’نظام جامعِ اندیشۂ اسلامی‘‘ کا منصوبہ ایک اہم مقام رکھتا ہے۔

اس منصوبے کا مقصد عزیز طلبہ بالخصوص سطحِ تحصیل کے طلبہ کو جامع نظامِ فکرِ اسلامی اور دینی و انقلابی معرفت کے عظیم شجرۂ فکر سے آشنا کرنا ہے۔ اس میں معاصر حوزوی مفکرین اور امامین انقلاب کی برتر فکری کاوشوں کو تمدنی اور انقلابی نقطۂ نظر سے پیش نظر رکھا گیا ہے۔

طالب علم، استاد اور عالمِ دین میں ایسی جامع، تمدنی اور حیات بخش فکر کا فقدان یا کمزوری ایک اہم نقصان ہے جس سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ اس منصوبے، ’’طرح ولایت‘‘ اور شہید مطہری رحمۃ اللہ علیہ کی آثار کے مطالعے جیسے منصوبوں کا مقصد اسی کمی کو دور کرنا اور اس خلا کو پُر کرنا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم ہمیشہ دینِ اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے پاکیزہ اہل بیت علیہم السلام کی اعلیٰ تعلیمات کے بارے میں نامکمل تفسیروں، محدود قرأتوں، غیر تمدنی مطالعات اور جزوی و محدود نقطۂ نظر کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ تاہم عصر حاضر میں حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ، امام خامنہ ای شہید رحمۃ اللہ علیہ، علامہ طباطبائی رحمۃ اللہ علیہ، شہید محمد باقر صدر رحمۃ اللہ علیہ، ان کے ممتاز شاگردوں اور حوزہ کے دیگر بزرگ علماء نے اسلام عزیز کے بارے میں جامع اور تمدنی نقطۂ نظر اختیار کرتے ہوئے اسلام کی ایک زندہ، حیات بخش اور تحریک آفرین تفسیر پیش کی۔

یہ فکر عملی میدان میں شاندار انقلاب اسلامی کی صورت میں جلوہ گر ہوئی، ایک نئی دنیا کی بنیاد رکھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے رہبر معظم، بزرگ مراجع عظام، مفکرین اور حوزہ کے عظیم علماء کی رہنمائی میں اس معرفتی تحریک کی گونج ایران اور دنیا بھر میں جاری رہے گی۔

آخر میں معزز علماء کرام اور حوزوی طبقے بالخصوص جوان طلبہ، فضلاء اور حوزہ و انقلاب اسلامی کے مستقبل کے سرمایہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ایسے اسٹریٹجک مسائل، تحولی منصوبوں اور نظام جامعِ اندیشۂ اسلامی جیسے پروگراموں نیز معرفتی اور بصیرتی ترقی پر خصوصی توجہ دیں اور اس کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے ثقافتی، سماجی، تبلیغی اور عوامی سطح پر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

میں اللہ تعالیٰ سے آپ سب اور تمام عزیزان کے لیے اس مقدس راستے اور دشوار سفر میں کامیابی کا طلب گار ہوں۔ آپ کا تہہ دل سے شکر گزار اور دعاگو ہوں اور معذرت خواہ بھی۔ امید ہے کہ آپ حضرت امام رضا علیہ السلام اور حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کی عنایات سے بہرہ مند رہیں گے۔

وآخر دعوانا أن الحمدللہ رب العالمین

علی رضا اعرافی

سربراہ حوزہ علمیہ

قابل ذکر ہے کہ ’’اسلام کے جامع نظامِ فکر اور اجتماعی حیات‘‘منصوبے کا تربیتی دورہ، حوزہ علمیہ کی معاونتِ تہذیب و تربیت کے شعبہ امورِ معرفتی کے سیکریٹریٹ کی جانب سے مؤسسہ مأوا کے تعاون سے 20 روزہ مدت کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ جس میں منتخب طلبہ کی شرکت سے مشہد مقدس میں یہ تربیتی پروگرام جاری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha