حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجتالاسلام والمسلمین مهدوی مہر نے جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ میں مؤسسہ علم، تمدن و عرفان کی جانب سے اسلامی علوم سے متعلق ٹیکنالوجی مصنوعات کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس ادارے کے متعلق وضاحت کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ آیت اللہ اعرافی کے دستِ مبارک سے قائم ہوا ہے اور اس کے تحت مختلف تخصصی شعبے کام کر رہے ہیں، جو مختلف میدانوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق سرگرمیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ان کا انتظام و نگرانی کرتے ہیں۔
آیت اللہ اعرافی کا تمدنی نقطۂ نظر
حجۃ الاسلام مہدوی مہر نے مختلف علمی اور ٹیکنالوجی شعبوں کے حوالے سے آیت اللہ اعرافی کے تمدنی نقطۂ نظر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے میں جاری تمام سرگرمیاں مختلف مسائل اور شعبوں کے بارے میں ان کے تمدنی نقطۂ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے تشکیل دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک ایسا اہم میدان ہے جو مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر استعمال کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی لیے اسے اس ادارے کی سرگرمیوں کا محور بنایا گیا ہے۔
مؤسسہ علم، تمدن و عرفان کے سربراہ نے امید ظاہر کی کہ اس نقطۂ نظر کے ذریعے وہ اپنے استاد آیت اللہ اعرافی کے بلند اہداف کو عملی جامہ پہنا سکیں گے اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے حوزہ علمیہ سے وابستہ افراد کے ساتھ ساتھ حوزہ سے باہر کے اداروں کو بھی مستفید کر سکیں گے۔









آپ کا تبصرہ