ہفتہ 7 فروری 2026 - 07:00
مہدوی نظامِ حکمرانی میں سیاست اخلاق سے جدا نہیں

حوزہ / حجت‌ الاسلام والمسلمین رضوی‌ مہر نے کہا: مہدویت نظام و فکر میں سیاست ہرگز اخلاق سے جدا نہیں ہے بلکہ اخلاق اقتدار پر حاوی روح اور معاشرے کے نظم و نسق کا بنیادی معیار ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کے دوران مجمع نمایندگان طلاب و فضلائے حوزہ علمیہ قم کے سرپرست حجت‌ الاسلام والمسلمین سید جلال رضوی‌ مہر نے مہدوی نظامِ حکمرانی کی خصوصیات کو واضح کرتے ہوئے اس الٰہی نمونے کو غیر الٰہی حکمرانی کے نظاموں کے مقابل ایک بنیادی متبادل قرار دیا اور کہا: مطلوب حکمرانی کا مسئلہ ہمیشہ انسانی سیاسی فکر کی بنیاد رہا ہے لیکن تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ غیر الٰہی نظام وسیع دعووں کے باوجود اخلاقی، روحانی اور سماجی عدل کے بحرانوں سے دوچار رہے ہیں۔

انہوں نے مہدوی حکمرانی کی توحیدی بنیادوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: فکرِ مہدویت میں حاکمیت توحید کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے یعنی قانون سازی اور معاشرے کی مدیریت الٰہی ارادے کے دائرے میں انجام پاتی ہے جیسا کہ خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: «إِنِ الْحُکْمُ إِلَّا لِلَّهِ»۔ اس کے مقابل غیر الٰہی نظام مطلق انسانی مرکزیت پر قائم ہوتے ہیں جس کا نتیجہ اخلاقی نسبیت اور اقدار کا عدم استحکام ہے۔

حجت‌ الاسلام والمسلمین رضوی‌ مہر نے جامع عدل کو حکومتِ مہدوی کا سب سے اہم شاخص قرار دیتے ہوئے کہا: امامِ عصر (عج) کی حکومت میں عدالت محض ایک قانونی یا نعرے جیسا تصور نہیں بلکہ معاشرے کی تمام اقتصادی ثقافتی اور اخلاقی مراتب میں جاری و ساری ہوتی ہے جیسا کہ روایات میں آیا ہے: «یَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا کَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا»۔ جبکہ بہت سے غیر الٰہی نظاموں میں عدالت انتخابی ہوتی ہے اور اقتدار کے مفادات سے وابستہ رہتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha