حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد مرتضیٰ مطہری کی شہادت کی برسی اور روزِ معلم کے موقع پر حوزۂ علمیہ قزوین کے مدیر حجت الاسلام والمسلمین اصغر عرفانی نے ایک پیام جاری کیا ہے۔ جس کا متن درج ذیل ہے:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ
«یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِینَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ»
ایرانِ اسلامی کی تاریخِ افتخار ہمیشہ ان علماء اور محنتی معلمین کی کاوشوں کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے قرآن کی آیات سے الہام لے کر اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہلِ بیتِ عصمت و طہارت علیہم السلام کی اقتداء کرتے ہوئے اپنی گرانقدر زندگی لوگوں کی ہدایت، ان کے اعتقادی تصورات کو بہتر کرنے اور حقجوئی و عدالتطلبی کی راہ میں صرف کر دی۔
معلمان و اساتید روشنی و ہدایت کے سفیر ہیں جنہوں نے ظالموں کے خلاف جنگ کو فرض سمجھا اور تاریخ کے حساسترین لمحات میں بہادری و دلیری کے ساتھ طاغوتِ وقت کے سامنے ڈٹے رہے اور دین، ملت اور ایرانِ امام رضا (ع) پر جان نچھاور کر دی۔
آج جب حق و باطل کا مقابلہ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اور انقلابِ اسلامی کے عظیم الشان قائد کی شہادت نے امت کو بعثت نو عطا کی ہے، حوزوی علماء و فضلاء نے اس ہائبرڈ جنگ میں میدان داری کرتے ہوئے تبیین، ملی ہم آہنگی و اتحاد اور دشمن کے منصوبوں اور فتنوں کی ناکامی کے لیے مؤثر قدم اٹھائے ہیں اور اس شہیدِ والا مرتبت کی فکری بنیادوں کی روشنی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس سرزمین کے فرزندوں کو اپنے خالصانہ عشق سے نوازا اور اس سرافراز دیار کی سعادت و سربلندی کے منادی رہے ہیں۔
حوزہ علمیہ کے اساتید بھی، جو خود علم و اخلاق کے آسمان کے درخشندہ ستارے ہیں اور رہیں گے، ایسے ہیں جیسے کوئی چشمۂ جوشاں اور شمعِ فروزاں؛ انہوں نے مستعد طلبہ کی نفوس کو ایمان کے زلال چشمے سے سیراب کیا اور نورانی حقائق کو پھیلانے اور ربانی طلبہ کی تربیت میں بلند قدم اٹھائے ہیں۔
میں، استادِ بزرگوار علامہ شہید مرتضیٰ مطہری رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کی برسی کے موقع پر معلمین، اساتید اور طلاب گرامی کی خالصانہ کاوشوں اور قیمتی تجربات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے، یومِ استاد و معلم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان بزرگ اساتید کے لیے تحتِ عنایاتِ عالیہ و ادعیۂ زاکیہ خاتم الاوصیاء حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور مقامِ معظم رہبری حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہای (مد ظلہ العالی) کی منویات کے حصول میں تادیر رواں رہنے والی نورانیت اور توفیقات میں اضافے کی دعا کرتا ہوں جیسا کہ آپ نے فرمایا: "تعلیمِ علم، مہارت میں اضافہ، اور دانش کی نشوونما اور آنے والی نسل کی شناخت کی تشکیل کی اہم ذمہ داری معلم و استاد پر ہے۔ جو طلبہ، دانش آموز اور طلاب ہر استاد کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں، وہ مستقبل قریب میں اپنی سیکھی ہوئی مہارتوں اور حاصل کردہ علوم کو بروئے کار لائیں گے اور بسا اوقات اپنے اخلاق و عادات، کردار اور گفتار میں، خاندان سے لے کر کام کی جگہ اور گلی کوچوں تک، آئینے کی طرح اپنے اساتید کے کردار و گفتار کا عکس پیش کریں گے۔"
خادم الطلاب و الاساتید
اصغر عرفانی









آپ کا تبصرہ