حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ آیتالله علی رضا اعرافی نے حوزہ علمیہ کے مرکزِ مدیریت کے صوبائی دفاتر کے منتظمین کے ساتھ منعقدہ آن لائن اجلاس میں حوزہ علمیہ کی موجودہ صورتحال اور آئندہ ذمہ داریوں کا جامع تجزیہ پیش کرتے ہوئے حکمت عملی، انتظامی، تربیتی اور ثقافتی محوروں کا ایک مجموعہ بیان کیا اور تمام حوزہ علمیہ کے اراکین سے مختلف شعبوں میں فعال، منظم اور ہدف کے مطابق موجودگی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے حوزاتِ علمیہ کی شب و روز کاوشوں کو سراہتے ہوئے سرگرمیوں کے تسلسل اور زمانے کی ضروریات کے مطابق حوزہ علمیہ کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیا۔
حوزہ علمیہ کے مدیر نے تبلیغی معاون کمیٹیوں اور مختلف تعلیمی شعبوں میں ہونے والی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: میں معاونتِ تبلیغ اور دیگر شعبوں میں شامل تمام بزرگ ساتھیوں کا، جنہوں نے پچھلی اور موجودہ جنگ کے دوران سرگرم کردار ادا کیا، دلی طور پر شکرگزار ہوں اور امیدوار ہوں کہ خداوند متعال ہماری قوم، امت اور مقاومتی محاذ کی مدد اور واضح فتح عطا فرمائے۔
انہوں نے ہفتۂ معلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بلاشبہ، معلم اور استاد نظامِ تعلیم و تربیت کے اہم رہنما اور مضبوط ستون ہیں لیکن حوزہ علمیہ میں یہ موضوع ممتاز اور نمایاں خصوصیات کا حامل ہے۔ ہمارے نظامِ تعلیم و تربیت میں استاد محض معلومات اور یاد کردہ چیزوں کا منتقل کرنے والا نہیں بلکہ طلبہ کو بلند نظریات کی طرف لے جانے والا رہنما، طلبہ کی شخصیت کا معمار، ہر تعلیمی، تحقیقی، اخلاقی، تزکیے اور تبلیغی شعبے میں ان کا راہنما، اور طلبہ کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو سنوارنے والا ہوتا ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا: اساتذہ کا یہ بلند مرتبہ اور جامع، متوازن کردار دینی مدرسوں کے نظام میں ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔ ہمارے پاس دینی مدرسوں کی دیرینہ تاریخی روایت میں شاگرد اور استاد کا گہرا تعلق اور استاد و شاگرد کے مابین بہت عمیق علمی اور روحانی باہمی روابط رہے ہیں اور استادی کی یہ روایت اپنے تمام ابعاد و پہلوؤں کے ساتھ جاری رہنی چاہیے۔









آپ کا تبصرہ