حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ قم کے تعلیمی و تربیتی مرکز میں دو روزہ کورس "تعلیم و تربیت کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے طلبہ کے لیے علم اور مہارت میں اضافہ" منعقد ہوا۔ یہ کورس خاص طور پر مدارس میں خدمات انجام دینے والے علماء اور طلبہ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جس میں مختلف اساتذہ نے تخصصی مباحث پیش کیں۔
حجت الاسلام والمسلمین علی قنواتی نے اس کورس کے اختتامی دن "تعلیم و تربیت میں خدمات انجام دینے والے طلبہ کے حوزات علمیہ سے عاطفی و شناختی تعلق اور رابطہ کی ضرورت" پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، حوزہ کی پالیسی کے نقطہ نظر کی وضاحت کی اور اس دوران اٹھائے گئے سوالات اور خدشات کے جوابات دیے اور طلبہ اساتذہ کے حوالے سے حوزہ کی انتظامی سوچ کی بھی تشریح کی۔
حوزہ علمیہ میں امور طلاب و فارغ التحصیلان کے سرپرست نے کہا: ہم نے گزشتہ دہائیوں میں ایک اسٹریٹجک غلطی کی اور تعلیم و تربیت کی عظیم صلاحیت سے غافل رہے جبکہ اس شعبے پر توجہ کہیں زیادہ فائدہ مند اور مؤثر ہے۔
انہوں نے حوزہ میں سب سے اہم تبدیلی کو طلبہ اساتذہ کی شناخت کے نقطہ نظر کی اصلاح قرار دیا اور کہا: طالب علم جو تعلیم و تربیت میں موجود ہے، وہ حوزہ میں "غائب طالب علم" جیسا نہیں ہے بلکہ یہ عزیز "میدان تعلیم و تربیت میں ذمہ دار" ہیں جنہیں حوزہ کی طرف سے ایک عظیم ذمہ داری انجام دینے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہی نقطہ نظر آج منصوبہ بندی اور ضروریات کے ڈیزائن کی بنیاد ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین قنواتی نے علماء و طلاب کی شناخت اور روحانی لباس کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا: یہ عمامہ ہماری ذمہ داری کی علامت اور مورچہ کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ ہم مدرسے میں ہوں یا معاشرے میں۔









آپ کا تبصرہ