حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے معاونِ تعلیم نے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حساس حالات کے پیش نظر حوزات علمیہ کی ذمہ داریوں میں بنیادی تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت اب روایتی تعلیمی طرز کے بجائے تبلیغی و تبیینی کردار کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ اس نئی حکمت عملی کا مقصد معاشرے میں فعال کردار ادا کرنا اور عوام خصوصاً نوجوانوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ مضبوط بنانا ہے۔
حجتالاسلام والمسلمین ابوالقاسم مقیمی حاجی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس پالیسی کے تحت مدارس کے مدیران، اساتذہ اور عملہ سماجی میدان میں زیادہ متحرک کردار ادا کریں گے اور مساجد، مؤمنین اور نوجوانوں کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے اپنی دینی و سماجی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تبدیلی کے ساتھ ایک وسیع پیمانے پر حمایت بھی سامنے آئی ہے، جس میں ملک کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے 11 ہزار سے زائد اساتذہ نے رہبرِ انقلاب کے ساتھ تجدیدِ بیعت کرتے ہوئے اس نئے لائحہ عمل کی تائید کی ہے۔
معاونِ تعلیم کے مطابق موجودہ حالات میں حوزہ کی اولین ترجیح میدان میں موجودگی اور سماجی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اسی مقصد کے لیے ایک خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو تعلیمی امور، امتحانات اور دیگر مسائل کو حالات کے مطابق منظم کر رہا ہے، جبکہ بعض دروس کی عارضی تعطیل کے باوجود تعلیمی نظام کو جاری رکھنے کے لیے متبادل اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں معاشرے کو درپیش فکری شبہات اور چیلنجز کے پیش نظر علما اور طلبہ کی فعال موجودگی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اسی لیے حوزہ ہائے علمیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ "بلاغ مبین" کے عنوان سے جاری مہم کے تحت عوامی آگاہی، دینی رہنمائی اور سماجی خدمات میں بھرپور کردار ادا کریں۔
آخر میں انہوں نے گزشتہ چالیس دنوں کے دوران اساتذہ، علما اور طلبہ کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی مزید قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔









آپ کا تبصرہ