پیر 11 مئی 2026 - 16:57
 آیت اللہ اعرافی کے علمی موسوعۂ "فقہ تعلیم و تربیت" پر ایک سرسری نظر 

حوزہ / آیت اللہ اعرافی کی زیرِ اشراف اور علمی نگرانی میں تیار کردہ موسوعۂ "فقہ تعلیم و تربیت" کو مؤسسۂ "اشراق و عرفان" کے شعبۂ تحقیقِ فقہ تربیتی کے زیرِ اہتمام مرتب کیا گیا ہے۔ جس میں فقہ اور تعلیم و تربیت میں مہارت رکھنے والے محققین (جو ماسٹرز کی سطح پر ہیں) نے آیت اللہ اعرافی کے نظریات و آراء کی تحقیق، توسیع اور تحریر کا کام انجام دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ فقہ کے دائرے کو نئے شعبوں میں داخل ہونے اور معاشرے کے نئے مسائل خصوصاً تعلیمی علوم کے شعبے میں جواب دینے کے لیے وسعت دینے کی ضرورت نے اس خیال کو جنم دیا کہ فقہ کو تعلیم و تربیت کے شعبے میں لایا جائے اور 1990 کی دہائی کے وسط میں آیت اللہ علی رضا اعرافی نے "فقہ تربیتی" کے نام سے ایک بین الضابطہ علم کی بنیاد رکھی۔ جس نے حوزہ علمیہ قم میں "درس خارج فقہ تربیتی" کا عنوان حاصل کر لیا جو آج تک جاری ہے۔

تعلیم و تربیت کے شعبے میں متنوع اور نئے سوالات جیسے "حکومت کے تربیتی فرائض"، "سماجی تربیت"، "تربیتی اصول اور طریقے" اور دیگر، ایک عملی اور مسئلہ پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ ایک منظم استنباط کی ضرورت رکھتے ہیں۔

درس خارج فقہ تعلیم و تربیت معاشرے کے نئے مسائل کا جواب دینے کی ضرورت اور حوزہ علمیہ میں تبدیلی اور درس خارج کو فکر و خیال کی چوٹی اور پیداوار کے طور پر مضبوط کرنے کے وسیع تر نقطہ نظر کے تناظر میں ڈیزائن اور لاگو کیا گیا تھا۔ اب اس کا نتیجہ "فقہ تعلیم و تربیت" کے موضوع پر تیس جلدوں پر مشتمل ایک موسوعہ کی صورت میں موجود ہے۔

یہ تیس جلدوں پر مشتمل موسوعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنف صرف جزوی سوالات کے جوابات دینے کے خواہاں نہیں ہیں بلکہ اس کا مقصد ایک بین الضابطہ علم کی بنیاد رکھنا ہے، دوسرے الفاظ میں "متعلقہ فقہ" کے موضوعات میں سے ایک کو "فقہ تربیتی" کے نام سے تیار کرنا ہے۔

اس موسوعہ یا فقہی انسائیکلوپیڈیا نے یہ کوشش کی ہے کہ تعلیم و تربیت سے متعلق فقہی مباحث اور بیانات کو بکھری حالت سے نکال کر ایک مربوط علم کی شکل میں روزمرہ کے مسائل اور ایک مدون طریقہ کار کے ساتھ پیش کیا جائے۔

آیت اللہ اعرافی نے اس موسوعہ کی پہلی جلد کے دیباچے میں کہا ہے کہ "درس خارج فقہ تربیتی فضلاء طلبہ کی موجودگی میں منعقد ہوتا ہے جن میں سے اکثر نے تعلیمی علوم کے شعبے میں یونیورسٹی اور تحقیقی تعلیم حاصل کی ہوئی ہے۔" یہ مجموعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ استاد محض تربیتی مسائل کو فقہی رنگ دینے کے خواہاں نہیں تھے بلکہ اس شعبے کی پیچیدگیوں کے مناسب جواب کے لیے فقہ اور تعلیم و تربیت کے دو علوم کے درمیان ایک منظم تعامل قائم کرنے کے خواہاں تھے۔

حوزہ علمیہ کے مدیر کا ماننا ہے کہ شیعہ فقہ میں نئے شعبوں میں داخل ہونے کی بہت بڑی صلاحیت ہے۔ انہوں نے اپنے ایک خطاب میں اسی مضبوط اجتہادی طریقہ کار کے ساتھ نئی فقہ کے دائرے میں دس سے بیس دروس خارج قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جس میں فقہ تربیتی بھی اس تحریک کے پیشرووں میں سے ایک کے طور پر تشکیل پائی۔

اس موسوعہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ کئی سالوں میں موضوعاتی طور پر چھپی ہے اور محققین اور اسکالرز حسب ضرورت اس کی جلدیں حاصل کر رہے ہیں۔ اس لیے اس کے حصول پر بہت زیادہ مالی بوجھ نہیں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha