حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے صدر آیت اللہ سید ہاشم حسینی بوشہری سے مدیر مدرسہ تربیت حسینی حجت الاسلام سید علی رضا تراشیون اور اس ادارے کے ذمہ داران و طلبہ نے ملاقات کی۔ اس موقع پر آیت اللہ حسینی بوشہری نے تعلیمی و تربیتی میدان میں اس ادارے کی خدمات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود کسی تعلیمی و تربیتی مرکز کا چودہ برس تک مسلسل فعالیت جاری رکھنا اس کے منتظمین کی استقامت، درد مندی اور بلند حوصلگی کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دینی تربیت کے میدان میں مستقل مزاجی ہی اصل کامیابی کی بنیاد ہے۔
قم کے امام جمعہ نے اساتذہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک معلم طالب علم کی فکری، اخلاقی اور دینی شخصیت کی تعمیر میں جو اثر چھوڑتا ہے، وہ بعض اوقات والدین کے اثر سے بھی بڑھ جاتا ہے، کیونکہ استاد براہِ راست فکر اور شعور کی تشکیل کرتا ہے۔
انہوں نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا کہ دیگر صوبوں سے خاندانوں کا اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے لیے قم منتقل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آج بھی بہت سے گھرانوں کے نزدیک مذہبی تربیت بنیادی ترجیح رکھتی ہے۔
مجلس خبرگان رهبری کے رکن آیت اللہ حسینی بوشہری نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ اس احساس کے ساتھ زندگی گزاریں کہ وہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہیں۔ ان کے قول و فعل میں خدا پر ایمان اور اس کی رضا کی جھلک نمایاں ہونی چاہیے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ مشکلات کے سامنے ثابت قدم رہیں، خدا کی نعمتوں کی قدر کریں اور حالات سے مرعوب ہو کر میدان خالی نہ کریں۔
انہوں نے مزید تاکید کی کہ نوجوان نسل کو دینی بصیرت کے ساتھ ساتھ دشمن شناسی بھی حاصل کرنی چاہیے، تاکہ وہ ان عوامل کو پہچان سکیں جو انہیں دین کے راستے سے دور کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق دین کی تعلیم صرف معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ گہری قلبی وابستگی اور عملی التزام کا تقاضا کرتی ہے۔









آپ کا تبصرہ