حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ سید ہاشم حسینیبوشہری نے خبردار کیا ہے کہ دشمن کا اصل ہدف تعلیمی ادارے اور نوجوان نسل ہیں، جہاں دینی و قومی شناخت کو کمزور کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ کے درمیان مؤثر اور حکیمانہ تبلیغ ہی اس فکری یلغار کا مضبوط جواب بن سکتی ہے۔
انہوں نے قم میں مبلغین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی جنگ ہتھیاروں سے زیادہ افکار اور نظریات کی جنگ ہے۔ دشمن روزمرہ مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا اور جانبدارانہ تقابل کے ذریعے نوجوانوں کے اذہان میں شکوک پیدا کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ علما اور مبلغین مستند دلائل، درست تجزیے اور مخاطب کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے گفتگو کریں۔
آیت اللہ حسینی بوشہری نے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کے بعد سوشل میڈیا نے تعلیمی و خاندانی نظام پر گہرے اثرات چھوڑے اور بعض نوجوانوں میں قومی و دینی وابستگی کمزور ہوئی۔ انہوں نے مبلغین پر زور دیا کہ ماہِ رمضان کو نوجوانوں کی فکری اصلاح اور شناخت کے استحکام کے لیے مؤثر موقع کے طور پر استعمال کریں، کیونکہ یہی نسل مستقبل کے معماروں پر مشتمل ہے۔









آپ کا تبصرہ