حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ مدینۃ العلم اسلام آباد کے مدیر، جامعۃ المنتظر پاکستان اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے شعبۂ تعلیمات کے مسئول حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید محمد نجفی نے رہبر شہید کی تشییع اور نماز جنازہ کے سلسلہ میں اپنے حالیہ ایران کے دورہ کے دوران حوزہ نیوز ایجنسی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سب سے پہلے اپنا مختصرتعارف پیش کیا اور کہا: میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ میں پاکستان میں جامعۃ المنتظر اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے شعبۂ تعلیمات کی مسئولیت انجام دے رہا ہوں۔ حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی مدظلہ العالی میرے والد گرامی ہیں اور میں جامعہ مدینۃ العلم اسلام آباد کا مدیر ہوں، جہاں "لمعہ" سے لے کر "رسائل" اور "مکاسب" تک دینی تعلیم دی جاتی ہے۔
انہوں نے رہبرِ شہید کی مظلومانہ شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میں پوری ملت اسلامیہ بالخصوص علماء کرام، شہداء کے خانوادوں اور رہبرِ شہید کے اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی عظیم شہادت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔
ڈاکٹر سید محمد نجفی نے کہا: رہبرِ شہید کی تشییع جنازہ میں شرکت ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کا خاص لطف اور عظیم سعادت تھی۔ کروڑوں انسانوں کی موجودگی اس بات کی گواہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عوام کے دلوں میں غیر معمولی مقام عطا فرمایا تھا۔ ہم نے لوگوں کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ، کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر تشییع میں شریک ہوتے دیکھا۔ مسجد جمکران سے لے کر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم کے اطراف تک ان کی نماز جنازہ میں عقیدت مندوں کا عظیم ہجوم ایک تاریخی منظر پیش کر رہا تھا۔

انہوں نے کہا: رہبرِ شہید کی شخصیت نے پاکستان سمیت مختلف اسلامی معاشروں میں وحدتِ امت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی فکر سے یہ حقیقت مزید نمایاں ہوئی کہ اسلام کی حقیقی سربلندی اور دفاع کے لیے اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل ناگزیر ہے۔
انہوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے موقع پر کوثر نیازی نے ایک شعر پڑھا تھا:
"حالِ ما در ہجرِ رہبر کم تر از یعقوب نیست
او پسر گم کردہ بود، ما پدر گم کردہ ایم"
انہوں نے کہا: آج یہی شعر رہبرِ شہید پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے باپ سے محروم ہوگئے ہوں۔ اگرچہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت طبعی تھی لیکن رہبرِ شہید کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ شہادت کا عظیم مقام عطا فرمایا۔
ڈاکٹر سید محمد نجفی نے کہا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: "الاسلام یعلو ولا یعلی علیہ"۔ رہبرِ شہید نے اپنی عملی زندگی سے ثابت کر دیا کہ اسلام ہمیشہ سربلند رہے گا اور جب بھی اسلام کو قربانی کی ضرورت پیش آئے گی، اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار ہر قربانی دینے کے لیے تیار ملیں گے۔
انہوں نے رہبرِ شہید کی فکری میراث پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ان کی پہلی اور سب سے نمایاں میراث قرآن کریم سے گہری وابستگی ہے۔ اگر امت مسلمہ صرف اسی پہلو کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو قرآن سے محبت اسے ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: رہبرِ شہید کی دوسری اہم میراث اتحاد بین المسلمین ہے۔ انہوں نے ہمیشہ امت کو ایک دوسرے کے قریب آنے، ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کرنے اور اختلافات کو ہوا دینے سے اجتناب کی تعلیم دی۔
ڈاکٹر سید محمد نجفی نے کہا: ان کی تیسری عظیم میراث "شجاعت" ہے۔ رہبرِ شہید نے ثابت کیا کہ اہل بیت علیہم السلام کا حقیقی پیروکار کبھی بزدل نہیں ہو سکتا۔ انہیں اپنی جان کے تحفظ کے لیے مختلف مشورے دیے گئے لیکن انہوں نے عوام کے درمیان رہنے کو ترجیح دی اور فرمایا کہ جب عام لوگوں کے لیے ایسی سہولیات موجود نہیں تو میرے لیے بھی خصوصی انتظامات کی ضرورت نہیں۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت جیسے عظیم مقام سے سرفراز فرمایا۔
انہوں نے کہا: رہبرِ شہید کی شخصیت کے بے شمار ایسے پہلو ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی علمی، قرآنی، اخلاقی اور انقلابی میراث کو محفوظ رکھنا اور اسے فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔









آپ کا تبصرہ