حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو میں مدیر مدرسہ علمیہ ولی عصر (ع) اصفہان حجت الاسلام والمسلمین محمد رضا نصر نے اس مدرسے کے قیام اور سرگرمیوں کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اس حوزہ کے بانیان کے علمی و اخلاقی ورثے اور اصفہان کے مدارس علمیہ میں اس کے موجودہ مقام پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اس مرکز کے پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مدرسہ علمیہ حضرت ولی عصر علیہ السلام 1379 ہجری شمسی میں حضرت آیت اللہ ناصری رحمۃ اللہ علیہ نے با تقویٰ اور علم سے آراستہ طلبہ کی تربیت کے مقصد سے قائم کیا تھا۔
مدیر مدرسہ علمیہ ولی عصر (ع) اصفہان نے اس حوزہ کے بانی کی مراجع تقلید سے ملاقات کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا: مرحوم آیت اللہ ناصری رحمۃ اللہ علیہ نے اس مرکز کے قیام کے بعد اس حوالے سے آیت اللہ بہجت رحمۃ اللہ علیہ کو آگاہ کیا تو وہ یہ خبر سن کر بہت خوش ہوئے اور بعد کی ملاقاتوں میں بھی ہمیشہ اس مدرسے کے احوال دریافت کرتے رہے۔

انہوں نے اس مرکز کے بانی کی روحیات اور ان کی تاکیدات کو یاد کرتے ہوئے مزید کہا: آیت اللہ ناصری رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ ’’تعلیم و تحصیل میں سنجیدگی‘‘ اور ’’تزکیہ و تہذیب میں سنجیدگی‘‘ کے دو اصولوں پر زور دیتے تھے اور ان کا اعتقاد تھا کہ طالب علم کو علم و تقویٰ کے دو پروں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا: ابتدائی برسوں میں آیت اللہ ناصری رحمۃ اللہ علیہ کی مسلسل موجودگی اور مختصر وقفوں سے دروسِ اخلاق کے انعقاد نے طلبہ پر گہرا اثر ڈالا۔ اس مدرسے کا انتظامی عملہ بھی ان کے مخلص اور تربیت یافتہ شاگردوں پر مشتمل تھا، جنہوں نے علمی و تربیتی میدان میں ممتاز افراد کی تربیت کی ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین نصر نے اپنی گفتگو کے دوران جسمانی صحت کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ مرکز اپنی مخصوص کھیلوں کی سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے حوزہ علمیہ اصفہان کے کھیلوں کے مقابلوں میں شاندار نتائج حاصل کر چکا ہے، جن میں مدرسے کی والی بال ٹیم کا مسلسل چار سال تک پہلی پوزیشن حاصل کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے مختلف تربیتی ورکشاپس کے ذریعے طلبہ کی مہارتوں میں اضافے اور انہیں باصلاحیت بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: اسی مقصد کے تحت تحقیقی مقالوں اور پایان ناموں کو تعلیمی مراکز کے ضوابط کے مطابق ترتیب دینے کے حوالے سے ایک خصوصی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ اسی طرح کانفرنسوں اور ورکشاپس کے لیے اسمارٹ روم کی تیاری اور اسے جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کا کام بھی مکمل کیا گیا ہے۔









آپ کا تبصرہ