حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر آیت اللہ علی رضا اعرافی نے حوزہ علمیہ کے مدیران کے تیرہویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ماہ ربیع الاول میں موجود ولادتوں کی مناسبت پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے انبیائے کرام اور اولیائے الٰہی، شہداء کرام، محور مقاومت کے شہداء، مسلح افواج، ملکی شخصیات اور شہید طلبہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: ہم امام راحل (رہ) اور ان عظیم ہستیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں بالخصوص شہید امام اور انقلاب اسلامی کے عظیم قائد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی بلند و ملکوتی ارواح پر درود بھیجتے ہیں۔
انہوں نے حالیہ واقعات کے دوران ملت ایران، رہبر معظم انقلاب، مسلح افواج اور محور مقاومت کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا: ایران اور پوری دنیا میں عالم اسلام کے سب سے بڑی شیطانی طاقتوں کے مقابلے میں جو کچھ رونما ہوا، وہ ایک عظیم افتخار اور بے مثال و عظیم واقعہ تھا اور ہمیں اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
حوزہ علمیہ کے مدیر نے حالیہ واقعات اور حالات میں حوزہ علمیہ کے کردار کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے قرارگاه بلاغ مبین، حوزوی اداروں اور ان شخصیات کی خدمات کو سراہا جو حالیہ جنگ کے دوران مختلف میدانوں میں اسلام، انقلاب اور ایران کی حمایت کے لیے فعال رہے۔
آیت اللہ اعرافی نے قم میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب کے حوالے سے کہا: ہفتہ 14 شہریور / 5 ستمبر 2026ء سے قم المقدسہ میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب منعقد ہو گی۔
انہوں نے حوزہ علمیہ کے مدیران سے خطاب کرتے ہوئے کہا: میری درخواست ہے کہ بہتر تعلیم و تربیت کے اجراء کے لیے مختلف اجلاس منعقد کریں اور باہمی مشاورت کریں تاکہ ہم نئے تعلیمی سال کا آغاز نشاط، مضبوط منصوبہ بندی اور تعلیمی ترقی و گزشتہ پسماندگیوں کے ازالے کے لیے زیادہ عزم و ارادہ کے ساتھ کرسکیں۔

آیت اللہ اعرافی نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے حوالے سے دوسری اہم ترجیح کو حالیہ واقعات کے دوران پیدا ہونے والے اخلاقی، تربیتی، سماجی، معنوی اور بصیرتی سرمایہ سے استفادہ قرار دیتے ہوئے کہا: بہت سے اخلاقی، تربیتی، سماجی اور معنوی امور خصوصی اور بحرانی حالات میں زیادہ بہتر انداز میں آگے بڑھائے جاسکتے ہیں اور ہمیں اس دور کی حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستقبل کے تربیتی نظام کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔
حوزہ علمیہ کے مدیر نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تیسری ترجیح حوزہ کی سماجی اور انقلابی موجودگی کو برقرار رکھنا قرار دیتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ کے مدیران کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انقلابی جذبے، میدان میں موجودگی، مواکب اور اجتماعات کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری منصوبہ بندی کریں۔
آیت اللہ اعرافی نے ملک بھر میں میدان میں موجود رہنے والے طلبہ، فضلا، مبلغین اور علما کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ان چھ، سات ماہ کے دوران ایک اچھا راستہ طے کیا گیا اور ان تمام طلبہ، فضلا، مبلغین اور علما کے ہاتھ چومنے چاہئیں جو حقیقتاً دین اور اسلام کے دفاع میں ڈٹ کر کھڑے رہے۔
انہوں نے کہا: البتہ میدانوں پر موجودگی، اجتماعات اور پروگراموں کی نوعیت، شورایِ ہم آہنگی کی ہدایات اور رہبر معظم انقلاب کی جانب سے اعلان کردہ فیصلوں کے مطابق ہوگی اور حوزہ کو بھی انہی ہدایات کے مطابق اپنی موجودگی اور کردار کو منظم کرنا چاہیے۔
آیت اللہ اعرافی نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر حوزہ علمیہ کی تین بنیادی ترجیحات کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا: گزشتہ کمی و کاستیوں کا ازالہ، بھرپور قوت اور جہادی انداز میں علمی و تعلیمی ترقی؛ حالیہ جنگ اور گزشتہ واقعات کے دوران پیدا ہونے والے ذخائر کی بنیاد پر تربیتی و تہذیبی نظام کو بہتر بنانا اور میدان میں حوزہ کی موجودگی کو جاری رکھتے ہوئے عوام کی رہنمائی اور انقلاب کی تحریک میں علما اور حوزہ علمیہ کے فعال کردار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔









آپ کا تبصرہ