جمعہ 16 اکتوبر 2026 - 21:15
اسلامی اقدار کے تحفظ اور نئی نسل کی دینی تربیت کے لیے استقامت و عمل ضروری ہے، آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی

حوزہ/ بمنہ بڈگام کی امام بارگاہ آیت اللہ سید یوسف میں نمازِ جمعہ کے موقع پر مجلسِ وعظ سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے اسلامی اقدار کے تحفظ، نئی نسل کی دینی تربیت اور ایمان و عمل میں استقامت پر زور دیا۔ انہوں نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرتِ مبارکہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تیمارداری اور بیماروں کی خدمت کو ایک مقدس فریضہ قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام بارگاہ آیت اللہ سید یوسف، بمنہ بڈگام میں نمازِ جمعہ کے موقع پر انجمن شرعیہ شیعیان کے صدر اور آیت اللہ یوسف میموریل ٹرسٹ کے چیئرمین حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے مجلسِ وعظ سے خطاب کرتے ہوئے ایمان کے ساتھ استقامت اور عملی زندگی میں اسلامی اقدار کی پابندی پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مختلف بہانوں سے اسلامی معاشروں میں دینی اقدار کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے آذربائیجان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پردے سے متعلق پابندیوں کے باوجود مسلمان طالبات نے استقامت کا مظاہرہ کیا اور پردے کی طرف مزید رجوع کیا۔ ان کے مطابق مغربی معاشرے میں بظاہر ترقی کے باوجود جنسی بے راہ روی ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے، جبکہ اسی نوعیت کے نعروں اور نظریات کو اسلامی معاشروں میں فروغ دینے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

آغا صاحب نے علماء و خطباء پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں بالخصوص نئی نسل کو ایمان و عمل کی ترغیب دیں اور مختلف فکری و ثقافتی یلغاروں سے باخبر رکھتے ہوئے اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اقدار کو واضح کریں۔

حضرت زینبؑ کی سیرت اور تیمارداری کی اہمیت

آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے پانچ جمادی الاول، ولادتِ باسعادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں اس دن کو ’’روزِ پرستار‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؑ کی زندگی کا ایک اہم حصہ اہلِ خانہ کی تیمارداری میں گزرا، بالخصوص امیرالمؤمنین حضرت علیؑ، امام حسن مجتبیٰؑ اور امام زین العابدینؑ کی تیمارداری میں آپؑ نے نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے تیمارداروں اور پرستاروں سے اپیل کی کہ وہ بیماران کی خلوصِ دل سے خدمت کریں، کیونکہ تیمارداری اور پرستاری ایک مقدس خدمت اور قابلِ احترام پیشہ ہے۔

مجلس کے اختتام پر ذکرِ مصائب کے بعد مسلمانوں کی ترقی، بیداری، اتحاد و اتفاق اور امتِ مسلمہ کی سربلندی کے لیے دعا کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha