ہفتہ 17 اکتوبر 2026 - 12:09
5 جمادی الاول؛ ولادتِ جناب زینب کبریٰ سلام الله علیہا

حوزہ/حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی بیٹی اور امام حسن و امام حسین علیہما السلام کی بہن ہیں۔ آئیے پہلے ان کے پیارے القاب جانیں، پھر ان کی زندگی کے واقعات پڑھیں اور آخر میں ان سے متعلق اقوال دل میں بسا لیں۔

تحریر: اسلامک ایجوکیشن سینٹر کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی|

۱۔ جنابِ زینب سلام اللہ علیہا کے القاب

۱۔ صابرہ: صبر کرنے والی

۲۔ عالمۂ غیر مُعلَّمہ: بغیر استاد کے علم رکھنے والی

۳۔ نائبۃُ الزہراء: حضرت زہراؑ کی نائب

۴۔ صدیقۃُ الصُغریٰ: چھوٹی صدیقہ

۵۔ شریکۃُ الحسینؑ: امام حسینؑ کی شریکِ کار

۶۔ اُمُّ المصائب: مصیبتوں کی ماں

۷۔ عصمتِ صغریٰ: چھوٹی معصومہ

۸۔ کفیلۃُ السجّاد: امام سجادؑ کی کفالت کرنے والی

۹۔ عابدۂ آلِ علیؑ: آلِ علیؑ کی عبادت گزار

۱۰۔ عقیلۂ بنی ہاشم: بنی ہاشم کی دانا خاتون

۱۱۔ فہیمۂ غیر مُفہَّمہ: بغیر سمجھائے سمجھنے والی

حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی بیٹی، اور امام حسن و امام حسین علیہما السلام کی بہن ہیں۔ آئیے پہلے ان کے پیارے القاب جانیں، پھر ان کی زندگی کے واقعات پڑھیں، اور آخر میں ان سے متعلق اقوال دل میں بسا لیں۔

۲۔ جنابِ زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی

ولادت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی بیٹی ہیں۔ جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت ہوئی تو انہیں دیکھ کر حضرت محمد کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے پوچھا: "ابا جان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟" رسول اللہ نے فرمایا: "میری بیٹی! یہ بچی (زینب) مصیبتوں میں مبتلا ہو گی اور مشکلات کا سامنا کرے گی۔"

نام اور کردار

آپؑ کا نام زینب ہے۔ "زینب" کا مطلب ہے باپ کی زینت۔ جنابِ زینب سلام اللہ علیہا کا کردار واقعی ایسا ہی تھا کہ وہ اپنے بابا کی زینت بن گئیں۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک نیک بیٹی تھیں جنہیں اپنے والد حضرت علیؑ سے تمام خوبیاں وراثت میں ملی تھیں، اور انہوں نے اپنے والد کی طرح دینِ اسلام کی حفاظت کے لیے کسی بھی چیز کی پروا نہیں کی۔

بچپن کی سخاوت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے زندگی بھر غریبوں اور مسکینوں کی مدد کی۔ جب حضرت زینبؑ چھوٹی تھیں تو ایک دن ایک مسکین نے امام علی علیہ السلام سے مدد کی درخواست کی۔ امام علی علیہ السلام گھر گئے اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے پوچھا: "کیا ہمارے گھر میں اس غریب کو دینے کے لیے کچھ کھانا ہے؟" حضرت زہراؑ نے فرمایا: "تھوڑی سی روٹی کے سوا کچھ نہیں، جو ہمارے پاس زینبؑ کا حصہ ہے۔" اس وقت حضرت زینبؑ نے اپنی والدہ سے فرمایا: "روٹی غریبوں کو دے دیں، میں بھوک برداشت کر لوں گی۔"

شادی، اولاد اور درسِ قرآن

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شادی ان کے چچازاد بھائی عبداللہ بن جعفر سے ہوئی، جس سے ان کے پانچ بچے تھے۔ ان کے بچوں کے نام یہ ہیں: علی، عون، عباس، محمد اور ام کلثوم۔ جن میں سے عون اور محمد واقعۂ کربلا میں شہید ہوئے۔ حضرت زینبؑ کوفہ میں خواتین کو تفسیرِ قرآن کا درس دیا کرتی تھیں اور انہیں دین کے مسائل بھی بیان کیا کرتی تھیں۔

بھائی کے ساتھ سفر

حضرت زینبؑ کو امام حسین علیہ السلام سے خاص محبت تھی۔ اگرچہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں سے بھی محبت کرتی تھیں، لیکن امام حسین علیہ السلام سے ان کی محبت بہت شدید تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب امام حسینؑ دین کی حفاظت کی خاطر ۲۸ رجب کو مدینہ سے روانہ ہوئے تو حضرت زینبؑ بھی اپنے شوہر سے اجازت لے کر دینِ خدا کی مدد کے لیے اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ روانہ ہوئیں۔

کربلا میں صبر

تحریکِ کربلا کے دوران حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ عاشورہ کے روز انہیں اپنے عزیز ترین لوگوں، یعنی بھائیوں اور بچوں کی شہادت کا شدید صدمہ برداشت کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ان تمام مصیبتوں کو اللہ کی خاطر برداشت کیا، صبر کا مظاہرہ کیا اور کبھی بھی اللہ سے شکوہ نہیں کیا۔

بیٹوں کی قربانی

روایت میں ہے کہ انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں (عون اور محمد) کو اپنے ہاتھوں سے جنگی لباس پہنا کر امام حسین علیہ السلام کے قدموں میں شہادت کے لیے روانہ کیا۔ ان کے دونوں بیٹوں نے بہادری سے جنگ کی اور بہت سے دشمنوں کو واصلِ جہنم کیا۔ حضرت زینبؑ نے اپنے دونوں بیٹوں کی شہادت پر فخر کیا، کیونکہ انہیں امام حسین علیہ السلام کی راہ میں قربان کیا تھا۔

عصرِ عاشور

عصرِ عاشور امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد خیموں کو آگ لگا دی گئی اور تمام خواتین کے سر سے چادریں بھی چھین لی گئیں۔ اب جنابِ زینب سلام اللہ علیہا کے پاس بھی چادر نہ تھی۔ مجبوراً آگ لگنے کے بعد انہیں اور تمام بیبیوں کو بغیر چادر کے ہی خیموں سے باہر آنا پڑا۔ امام حسین علیہ السلام کے بعد حضرت زینبؑ بچوں اور خواتین کی قافلہ سالار بن گئیں۔

نمازِ شب

حضرت زینب سلام اللہ علیہا بے حد عبادت گزار تھیں، یہاں تک کہ نمازِ شب بھی پابندی سے ادا کرتی تھیں۔ عصرِ عاشور کے بعد جب خیموں کو آگ لگا دی گئی اور بیبیوں کے سروں سے چادریں چھین لی گئیں، اس رات بھی حضرت زینبؑ نے تمام بیبیوں اور امام سجادؑ کی حفاظت کی، اور جب آدھی رات گزر گئی تو نمازِ شب ادا کی۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا جب زندان میں قید تھیں، تب بھی نمازِ شب ادا کرتی تھیں۔

اسیری اور خطبے

حضرت زینب سلام اللہ علیہا، امام زین العابدین علیہ السلام کی محافظ اور اہلِ بیتؑ کے اسیران کے قافلے کی رہنما تھیں۔ عاشورہ کے بعد انہیں اور دیگر خواتین کو اسیر بنا کر کوفہ اور شام کے بازاروں اور درباروں میں لے جایا گیا، لیکن ان سب مصیبتوں کے باوجود بھی انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے ہدف کو آگے بڑھایا، اور بازاروں اور درباروں میں خطبے پیش کیے، جن سے سب کو یزید اور اس کے ساتھیوں کی اصل حقیقت کا پتا چلا۔

دربارِ یزید میں خطبہ

حالانکہ جنابِ زینبؑ کے ہاتھوں میں رسیاں تھیں، وہ بھوک، پیاس اور سفر کی مشکلات کی وجہ سے تھکی ہوئی بھی تھیں، اور ان کے سامنے ان کے عزیزوں کے سر نوکِ نیزہ پر بھی لگے ہوئے تھے، مگر ان سب کے باوجود انہوں نے اتنی شجاعت سے خطبہ دیا کہ دربار میں موجود تمام افراد یزید اور اس کے ساتھیوں کو برا بھلا کہنے لگے۔ اس طرح حضرت زینبؑ نے اپنی الٰہی ذمہ داری کو بہترین طریقے سے انجام دیا۔

۳۔ اقوال اور احادیث

"فاسق کے علاوہ کسی کی رسوائی نہیں ہوتی۔" (از خطبۂ بی بی زینب سلام اللہ علیہا)

مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا

"میں نے (کربلا میں) خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔" (از کلامِ بی بی زینب سلام اللہ علیہا)

"بدکار کے علاوہ کوئی جھوٹ نہیں بولتا۔" (از خطبۂ بی بی زینب سلام اللہ علیہا)

"ہمیں صرف اور صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ ہے۔" (از خطبۂ بی بی زینب سلام اللہ علیہا)

"جان لو کہ آلِ محمدؐ کی دوستی کی خاطر جو بھی مرے، وہ شہید ہے۔" (بی بی زینب سلام اللہ علیہا)

"اللہ سے بہتر کوئی سہارا نہیں ہے۔" (از خطبۂ بی بی زینب سلام اللہ علیہا)

"جو شخص خلوصِ نیت سے خدا کے لیے کام کرتا ہے، خدا اس کو بہترین فوائد اور برکتیں عطا کرتا ہے۔" (بی بی زینب سلام اللہ علیہا)

"تمہاری مثال اس عورت جیسی ہے جس نے بڑی محنت سے مضبوط ڈوری بانٹی اور پھر خود ہی اسے کھول دیا اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیا۔" (از خطبۂ بی بی زینب سلام اللہ علیہا)

يَا أُخْتَاهُ، لَا تَنْسَيْنِي فِي نَافِلَةِ اللَّيْلِ

"اے بہن زینب! مجھے نمازِ شب میں نہ بھولنا۔" (امام حسین علیہ السلام)

"(اے یزید!) تیری بدکلامی اور بدسلوکی میرے عزم و استقامت پر اثرانداز نہیں ہو سکتی۔" (از خطبۂ بی بی زینب سلام اللہ علیہا)

"حضرت زینبِ کبریٰؑ کی شخصیت ہمارے لیے اسوہ ہے۔" (رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha