حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید محمد سعیدی نے آج بتاریخ 16 اکتوبر 2026 کو قم کے مصلیٰ قدس میں نماز جمعہ کے خطبے میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مبارک موقع پر آپؑ کی سیرت سے اعتقادی، دینی، انقلابی، سماجی اور سیاسی اسباق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے حضرت زینبؑ کی سیرت سے سات اہم سبق بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلا سبق اولاد، خصوصاً بیٹیوں کی قدر کرنا اور ان کی اچھی تربیت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی پرورش اور تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔
دوسرے سبق کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؑ کی تربیت ایک پاکیزہ اور علمی گھرانے میں ہوئی۔ خاندان بچوں کی پہلی درس گاہ ہے، اس لیے والدین اپنی ذمہ داری صرف اسکول اور معاشرے پر نہ چھوڑیں۔
تیسرے سبق کے طور پر انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؑ نے اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراؑ کے خطبے کو روایت کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نئی نسل کو اسلام کی صحیح تعلیمات سے آگاہ کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ غلط پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہو۔
چوتھے سبق میں آیت اللہ سعیدی نے حضرت زینبؑ کے اس عزم کا ذکر کیا کہ آپؑ نے شادی کے وقت یہ شرط رکھی تھی کہ امام حسین علیہ السلام سے جدا نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق یہ صرف جذباتی وابستگی نہیں تھی، بلکہ تحریک کربلا کی ذمہ داریوں سے وابستہ ایک اہم فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی لوگوں کو حق اور انصاف کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
پانچویں سبق میں انہوں نے واقعۂ کربلا اور اسیری کے دوران حضرت زینبؑ کی استقامت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپؑ نے سخت حالات کے باوجود دشمن کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کیا اور اپنے مضبوط استدلال سے واقعۂ عاشورا کا حقیقی پیغام دنیا تک پہنچایا۔ آپؑ کا یہ کردار آج بھی باطل پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے نمونہ ہے۔
چھٹے سبق میں انہوں نے مظلوموں کی حمایت پر زور دیتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان «کونا للظالم خصماً وللمظلوم عوناً» کا حوالہ دیا، جس کا مفہوم ہے کہ ظالم کے مخالف اور مظلوم کے مددگار بنو۔ انہوں نے کہا کہ لبنان، حزب اللہ، فلسطین، غزہ اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کرنا ضروری ہے۔
ساتویں سبق میں انہوں نے عفت و حیا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے آذربائیجان کے صدر کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں حجاب پر پابندی اور باحجاب طالبات کو اسکولوں سے نکالنے جیسے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق خاندانوں اور ذمہ داروں کو معاشرے میں دینی و اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
آیت اللہ سعیدی نے اپنی گفتگو میں نرسنگ ڈے کے موقع پر نرسوں کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ صحت کے شعبے میں ان کی مخلصانہ خدمت، قربانی اور ایثار قابل قدر ہیں۔ انہوں نے قومی کشتی ٹیم کی کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے اسے ملک کی کھیلوں سے متعلق سفارت کاری کی ایک مثال قرار دیا۔
نماز جمعہ کے پہلے خطبے میں انہوں نے قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عہد کی پابندی، تقویٰ اور مسلمانوں کے درمیان رحمت و ہمدردی کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط ایمانی معاشرے میں بیرونی دباؤ کے مقابلے میں استقامت کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر محبت، اعتماد اور باہمی تعاون بھی ضروری ہے۔










آپ کا تبصرہ