حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید احمد خاتمی نے تہران میں نماز جمعہ کے خطبوں میں کہا کہ قرآن کریم اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ علیہم السلام کی سیرت میں فوجیوں، جانبازوں، ایثار کرنے والوں اور ان کے اہل خانہ کے احترام پر خاص زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ سالہ جنگ، بارہ روزہ جنگ اور جنگ رمضان میں خدمات انجام دینے والے تمام فوجیوں اور اپنی جان کو نثار کرنے والے احترام کے مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی کرنے والے تین جہازوں کے خلاف کارروائی کرنے والے فوجیوں نے ملک کی سلامتی کے لیے کام کیا۔ اگر ان کے میزائل امریکہ اور اسرائیل کو روکنے میں مؤثر نہ ہوتے تو کیا آج بعض لوگوں کو اطمینان کے ساتھ بات کرنے کا موقع ملتا؟ فوجیوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
حضرت زینبؑ اور نرسوں کی خدمات کو خراج تحسین
آیت اللہ خاتمی نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت اور نرسنگ ڈے کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت زینبؑ نے کربلا کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے نرسوں کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ مشکل حالات میں مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے طبی کارکن احترام اور قدردانی کے مستحق ہیں۔
امریکہ کی دھمکیوں پر ردعمل
انہوں نے امریکی حکام کے ان دعوؤں پر تنقید کی کہ ایران کی معیشت جلد تباہ ہو جائے گی۔ ان کے مطابق، مقررہ دو ہفتے گزرنے کے باوجود ایران کی معیشت نے حالات کا مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایران کے قریب آنے والے چار امریکی بحری بیڑے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
آذربائیجان میں حجاب کی پابندی پر تنقید
آیت اللہ خاتمی نے آذربائیجان کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے معاملے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حجاب اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اور اس پر پابندی مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔
انہوں نے ایرانی پولیس اور مسلح افواج کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی میں ان اداروں کا اہم کردار ہے۔ آخر میں انہوں نے عالمی سطح پر ایرانی سائنس دانوں اور کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو قومی فخر قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ وہ دینی اور اخلاقی میدانوں میں بھی نمایاں کردار ادا کریں گے۔










آپ کا تبصرہ