جمعہ 16 اکتوبر 2026 - 14:46
فتنوں کے دور میں حق کی پہچان کے لیے بصیرت ضروری ہے: مولانا سید مہدی عباس زیدی

حوزہ/ حجۃ الاسلام مولانا سید مہدی عباس زیدی نے کہا ہے کہ فتنوں کے دور میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے کے لیے بصیرت، تقویٰ اور دلیل کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ مشہور شخصیات کی شہرت اور ماضی کی خدمات سے متاثر ہوکر ان کے ہر موقف کو درست سمجھنا مناسب نہیں، بلکہ ہر بات کو حق کے معیار پر پرکھنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا سید مہدی عباس زیدی نے 16 اکتوبر 2026 کو اتر پردیش کے بجنور ضلع کے چھجپورہ سادات میں نماز جمعہ کے خطبے میں جنگ جمل کے تاریخی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے حق کی پہچان، پروپیگنڈے سے بچنے اور حالات کا درست جائزہ لینے کے اہم اسباق ملتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق، فتنہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حق اور باطل کو اس طرح ملا دیا جائے کہ دونوں کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوجائے۔ ایسے حالات میں انسان کو جذبات، تعصب اور شخصیات کے اثر سے نکل کر حقائق اور دلائل کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیے۔

مولانا نے جنگ جمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ 36 ہجری میں پیش آیا، جس میں ایک طرف امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام تھے، جبکہ دوسری طرف عائشہ اور معروف شخصیات طلحہ و زبیر موجود تھے۔ اس صورت حال میں عام مسلمانوں کے لیے حق کی پہچان ایک مشکل مرحلہ تھا، کیونکہ دونوں طرف معروف شخصیات اور مختلف دلائل پیش کیے جارہے تھے۔

انہوں نے نہج البلاغہ میں مذکور حارث بن حوط کے سوال کا حوالہ بھی دیا، جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا وہ اصحاب جمل کو گمراہی پر سمجھتے ہیں؟ اس سوال سے اس وقت کے لوگوں کی ذہنی الجھن کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ حق کو پہچاننے کے لیے شخصیات کو معیار بنانے کے بجائے حق کو معیار بنانا چاہیے۔

فتنوں کے دور میں حق کی پہچان کے لیے بصیرت ضروری ہے: مولانا سید مہدی عباس زیدی

انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی پروپیگنڈے کے ذریعے لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی کسی مشہور شخصیت کا نام استعمال کرکے کسی بات کو درست ثابت کیا جاتا ہے اور کبھی کسی کے خلاف منفی ماحول بناکر لوگوں کو اس کی بات سننے سے بھی روکا جاتا ہے۔ اس لیے کسی کی شہرت کو اس کے موقف کی درستگی کی دلیل نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی کسی کے خلاف پروپیگنڈے کو اس کے غلط ہونے کا ثبوت قرار دینا چاہیے۔

مولانا سید مہدی عباس زیدی نے سوشل میڈیا کے حوالے سے کہا کہ کسی ویڈیو، بیان یا خبر کو مکمل سیاق و سباق سمجھے بغیر قبول کرنا یا آگے پھیلانا غلط فہمیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ کسی بھی خبر پر ردعمل ظاہر کرنے سے پہلے اس کی حقیقت معلوم کرنا اور متعلقہ دلائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل میں تحقیق، دلیل، تقویٰ اور غیر جانب دارانہ مطالعے کی عادت پیدا کی جائے۔ نوجوانوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ وہ کسی شخصیت سے محبت یا مخالفت کی بنیاد پر فیصلہ نہ کریں، بلکہ حقائق کی جانچ کے بعد اپنی رائے قائم کریں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ جمل کا بنیادی سبق یہ ہے کہ شخصیات کے بجائے حق کو معیار بنایا جائے، جذبات کے بجائے دلیل سے کام لیا جائے اور پروپیگنڈے کے بجائے تحقیق و جانچ کو اہمیت دی جائے۔ یہی بصیرت انسان کو فتنوں کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے اور اپنی دینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے ادا کرنے میں مدد دیتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha