حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سرپاک/ مرکزی امام بارگاہ سرپاک میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے خطیبِ جمعہ مولانا علی رضا نجفی نے شیعہ معاشرے میں باہمی اختلافات، عزاداری و نماز کے حوالے سے پیدا ہونے والی تقسیم، شخصیات پر غیرضروری انحصار اور سوشل میڈیا پر غیرمصدقہ معلومات کے پھیلاؤ پر گفتگو کی۔
مولانا علی رضا نجفی نے کہا کہ اختلافِ رائے انسانی اور معاشرتی زندگی کا حصہ ہے، تاہم اختلاف کو باہمی جھگڑے، تضحیک، بے عزتی یا ایک دوسرے سے دوری کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق فکری، مذہبی، علمی، سیاسی اور تنظیمی معاملات میں اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن اس اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور تعلق برقرار رہنا چاہیے۔
انہوں نے شیعہ معاشرے میں نماز اور عزاداری کے حوالے سے موجود تقسیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا درست نہیں۔ نماز اور عزاداری مذہبی زندگی کے اہم پہلو ہیں اور انہیں باہمی اختلاف کا سبب بنانے کے بجائے ان کی اپنی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
خطیبِ جمعہ نے کہا کہ معاشرے میں ایک مسئلہ یہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ بعض افراد نے مخصوص شخصیات کو اپنے لیے دین کا معیار بنا لیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی عالم، ذاکر یا مذہبی شخصیت سے وابستگی اپنی جگہ، لیکن شخصیات کو دین کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔
مولانا علی رضا نجفی نے علماء اور ذاکرین کے درمیان اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں طبقات کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے اصلاح، تعاون اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ذاکر یا مقرر سے کوئی علمی یا مذہبی غلطی سرزد ہو تو اس کی اصلاح لڑائی یا تضحیک کے بجائے حکمت اور محبت سے کی جانی چاہیے۔
انہوں نے سوشل میڈیا کو موجودہ دور کا ایک اہم ترین ابلاغی ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی معاملات میں اس کا استعمال خاص احتیاط کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے قرآن کریم کی ہدایت "فَتَبَیَّنُوا" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی خبر یا دعوے کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تحقیق ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر معمولی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے مذہبی اور مسلکی اختلافات میں شدت پیدا ہوسکتی ہے، اس لیے خصوصاً نوجوانوں کو غیرمصدقہ مواد پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔
مولانا علی رضا نجفی نے نوجوانوں میں مختلف گروہوں اور شناختوں کی بنیاد پر تقسیم پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کے نمازی، عزادار یا کسی مخصوص فکری و تنظیمی حلقے سے وابستہ ہونے کی بنیاد پر اس سے قطع تعلق نہیں کرنا چاہیے۔ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو سلام کرنا، احترام سے پیش آنا اور باہمی تعلق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ شیعہ معاشرے میں اتحاد کے لیے اختلافات کو بڑھانے کے بجائے مشترکات کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ، قرآن کریم، رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور ائمہ اہل بیتؑ سے وابستگی سمیت متعدد بنیادی امور شیعہ معاشرے کو باہم جوڑتے ہیں، تاہم محدود اختلافات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے کر باہمی فاصلے پیدا کیے جا رہے ہیں۔
مولانا علی رضا نجفی نے مجالس، محافل اور تنظیمی سرگرمیوں میں "میں" کے بجائے "ہم" کی سوچ اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی مذہبی سرگرمیوں کو ذاتی یا گروہی ملکیت کے بجائے مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
خطبۂ جمعہ کے اختتام پر انہوں نے اہل بیتؑ کی تعلیمات کو اپنے کردار اور طرزِ عمل کا معیار بنانے پر زور دیا اور کہا کہ ہر فرد کو اپنے رویے، گفتگو اور مذہبی کردار کا جائزہ لینا چاہیے کہ آیا اس کا طرزِ عمل اہل بیتؑ کی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔










آپ کا تبصرہ