حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یانگون/ میانمار کے شہر یانگون میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی 1501ویں سالگرہ کے موقع پر ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں میانمار کے اعلیٰ حکومتی عہدیداران، سفارتی نمائندوں، علمائے کرام، مذہبی شخصیات اور مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو ہزار افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے سیرتِ نبویؐ، وحدتِ امت، شیعہ و سنی اخوت، بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کی اہمیت پر زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ عظیم الشان کانفرنس یانگون کے اسکائی اسٹار ہوٹل میں منعقد ہوا۔ پروگرام کا اہتمام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی 1501ویں سالگرہ کی مرکزی کمیٹی نے کیا، جبکہ اس کا انعقاد آل میانمار اسلامی مذہبی تنظیم کی نگرانی میں ہوا۔
کانفرنس میں میانمار کے نائب وزیرِ وفاق برائے مذہبی امور، یانگون کے علاقائی وزیر برائے اطلاعات، امداد اور مذہبی امور سمیت حکومتِ میانمار کے متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ انڈونیشیا اور مصر کے سفارت خانوں کے نمائندوں کے علاوہ علمائے کرام، مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیات اور مسلم کمیونٹی کے عمائدین بھی تقریب میں شریک تھے۔

کانفرنس کے مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی یاد محض ایک رسمی تقریب تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ میلاد النبیؐ کا حقیقی پیغام اسی وقت عملی شکل اختیار کرتا ہے جب مسلمان آپؐ کی سیرت و اخلاق کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اس موقع پر ایمان، علم، صداقت، عدل، رحمت، صبر، عفو و درگزر، دوسروں کے احترام اور امن و سلامتی جیسی نبوی تعلیمات کو اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ موجودہ دور میں ان اقدار کو معاشرے میں فروغ دینا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
کانفرنس میں بالخصوص بین المذاہب مفاہمت، رواداری، باہمی احترام اور میانمار میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

شیعہ و سنی اختلافات کو دشمنی اور تفرقے کا سبب نہیں بننا چاہیے
کانفرنس میں شیعہ مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے خطاب کیا۔ انہوں نے میلاد النبیؐ کی اہمیت، رسول اکرمؐ کی سیرت و اخلاق، امت مسلمہ کے اتحاد، شیعہ و سنی اخوت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت محض ایک عظیم تاریخی شخصیت کی پیدائش نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے نورِ ہدایت اور رحمت کے طلوع ہونے کا دن ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیت «وَما أَرْسَلْناکَ إِلّا رَحْمَةً لِلْعالَمینَ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمؐ کو دونوں جہاں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اکرمؐ دنیا میں رحمت، محبت اور اخوت کا پیغام لے کر آئے۔ لہٰذا رسول اللہؐ سے محبت محض زبانی دعووں اور نعروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کا عملی اظہار حسنِ اخلاق، سچائی، عدل، ضرورت مندوں کی مدد اور تمام انسانوں کے احترام کی صورت میں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شیعہ اور اہلِ سنت دونوں قرآن کریم پر ایمان اور رسول اکرمؐ سے محبت اور اہل بیتِ اطہار علیہم السلام سے عقیدت رکھتے ہیں؛ ہمارے عقائد اور فقہی اختلافات کو مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور تفرقے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

انہوں نے موجودہ دور کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے کہ شیعہ اور سنی مسلمان دشمنی، انتہاپسندی، تشدد اور نفرت کے مقابلے میں وحدت، اخوت اور پُرامن بقائے باہمی کا پیغام عام کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے ایک فطری امر ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے کہا کہ رسول اکرمؐ پوری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے، اس لیے مسلمانوں کو بھی اپنے معاشرے میں رحمت، حسنِ سلوک اور عدل کا مظہر بننا چاہیے۔
انہوں نے میانمار کے مختلف مذہبی طبقات کے درمیان باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو دیگر مذاہب کے پیروکاروں، بالخصوص بدھ مت کے پیروکار جو ہمارے بھائی اور بہن کی طرح ہیں ان کے ساتھ بھی احترام، حسنِ سلوک، انصاف اور امن کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ میلاد النبیؐ کے پیغام کو معاشرے میں عملی طور پر نافذ کیا جائے اور رسول اکرمؐ کے اخلاق و رحمت کو فرد سے لے کر پورے معاشرے تک عام کیا جائے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے کہا کہ میلاد النبیؐ کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے دلوں میں نورِ محمدیؐ کو روشن کریں، غرور، تعصب اور نفرت کے بتوں کو توڑیں اور شیعہ و سنی مسلمانوں کے درمیان اخوت و برادری کا رشتہ مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت منانے کا بہترین طریقہ آپؐ کے اخلاق، رحمت، عدل اور سیرتِ طیبہ کی پیروی کرنا ہے۔









آپ کا تبصرہ