اتوار 6 ستمبر 2026 - 21:13
کولکتہ کے دل میں منعقد ہوئی ’’رحمت للعالمین کانفرنس‘‘/ نبی کریم (ص)  کے عالمگیر امن، بھائی چارے اور انسانیت کے پیغام کو عام کرنے کی زور دار اپیل

حوزہ/ ہندوستان کے ثقافتی دارالحکومت کولکتہ میں آج ’’رحمت للعالمین کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ ’’نور الاسلام اکیڈمی‘‘ اور ’’تقریب مذاہب‘‘ کے اشتراک سے منعقد ہونے والی اس بین الاقوامی کانفرنس میں اسلامی مفکرین، علمائے کرام، ماہرینِ تعلیم، شعراء و ادباء اور مختلف مذاہب و طبقات سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے ثقافتی دارالحکومت کولکتہ میں آج ’’رحمت للعالمین کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ ’’نور الاسلام اکیڈمی‘‘ اور ’’تقریب مذاہب‘‘ کے اشتراک سے منعقد ہونے والی اس بین الاقوامی کانفرنس میں اسلامی مفکرین، علمائے کرام، ماہرینِ تعلیم، شعراء و ادباء اور مختلف مذاہب و طبقات سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

یہ پروقار تقریب مولالی کے ’’سوامی وویکانند آڈیٹوریم‘‘ میں منعقد ہوئی، جس میں نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عالمگیر انسانی اصولوں، امن، بھائی چارے، باہمی رواداری اور فلاحِ انسانیت کے پیغام کو اجاگر کیا گیا۔ کانفرنس کا بنیادی موضوع ’’انسانیت کے لیے رحمت، امن کے لیے اتحاد اور باہمی احترام پر مبنی پُرامن بقائے باہم‘‘ تھا۔

کانفرنس سے خطاب کرنے والی ممتاز شخصیات میں ’’تقریب مذاہب‘‘ کے سکریٹری حجۃ الاسلام مولانا ڈاکٹر سید محمد صادق حسینی، روزنامہ ’’پوبر قلم‘‘ کے ایڈیٹر احمد حسن عمران، پیرِ طریقت سید رشاد علی قادری، پروفیسر رام چندر چندر کرن ودھیالنکار، فادر سیموئل گھوڑوئی، سرین سنگھ، نور حسن شاہ وارثی، مولانا کامروز زمان، مولانا شاہد نظامی، مولانا تفضل حسین ملک، مولانا منیر عباس، مولانا سرور غازی، بنگالی اقلیتی تنظیم کے سکریٹری مولانا عبدالرؤوف، نور الاسلام اکیڈمی کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر محمد رضوان اسلام خان اور بنجاسی کالج کے سابق پروفیسر حیدر حسین کاظمی شامل تھے۔

کولکتہ کے دل میں منعقد ہوئی ’’رحمت للعالمین کانفرنس‘‘/ نبی کریم (ص)  کے عالمگیر امن، بھائی چارے اور انسانیت کے پیغام کو عام کرنے کی زور دار اپیل

حجه الاسلام و المسلمین سید محمد صادق حسینی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف کسی ایک قوم، خطے یا طبقے کے لیے مبعوث نہیں ہوئے تھے، بلکہ آپ کی ذاتِ گرامی، سیرت اور کردار پوری انسانیت کے لیے امن، انصاف، رحمت، ہمدردی اور انسانی وقار کی روشن مثال ہیں۔

انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات انسانوں کے درمیان تفریق کے بجائے بھائی چارے، نفرت کی جگہ محبت اور کشیدگی و تصادم کے مقابلے میں امن کا راستہ دکھاتی ہیں۔ انہوں نے موجودہ دور میں مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ تقسیم، تشدد اور عدم رواداری کے ماحول کے پیش نظر سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

حجۃ الاسلام مولانا سید محمد صادق حسینی نے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت پوری انسانیت کے لیے رحمت کا پیغام لے کر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانوں کو رنگ، نسل، زبان اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بجائے عدل، اخلاق، بھائی چارے اور انسانی احترام کی تعلیم دی۔ آج دنیا کو درپیش نفرت، تشدد اور تنازعات کے خاتمے کے لیے سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان اصولوں کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان باہمی احترام اور مکالمے کو فروغ دینا موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔ کولکتہ جیسے کثیرالثقافتی شہر میں ’’رحمت للعالمین کانفرنس‘‘ کا انعقاد اس بات کا مظہر ہے کہ اختلافات کے باوجود انسانیت کے مشترکہ مسائل پر ایک ساتھ کھڑا ہوا جا سکتا ہے۔ ہمیں نفرت کے بجائے محبت، تصادم کے بجائے گفت و شنید اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دینا چاہیے۔

مذہبی ہم آہنگی کا انوکھا پیغام

اس کانفرنس کا ایک قابلِ ذکر پہلو مختلف مذہبی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت تھی۔ مسلم علما اور مفکرین کے ساتھ ہندو، عیسائی اور سکھ برادری کے نمائندوں کی موجودگی نے تقریب میں بین المذاہب ہم آہنگی کا خوبصورت پیغام دیا۔

مقررین نے کہا کہ کولکتہ جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں ایسے اجتماعات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ مذہب انسانوں کے درمیان دیواریں کھڑی کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اخلاق، انسانیت اور سچائی کے راستے پر آگے بڑھنے کی قوت فراہم کرتا ہے۔ باہمی احترام اور گفت و شنید کے ذریعے ہی ایک پُرامن معاشرے کی تعمیر ممکن ہے۔

شاعری اور ادب میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

تقریب کا ایک دلکش حصہ شعر و شاعری کی نشست تھی۔ آغا سجاد وارثی، مشتاق احمد اور آغا فیروز حسین سمیت متعدد شعرا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقِ کریمہ اور انسانیت کے لیے آپ کی بے پناہ شفقت کو اپنی شاعری اور خوبصورت اندازِ بیان کے ذریعے پیش کیا۔

شعرا کے کلام کی پیشکش سے ہال کا ماحول انتہائی پُرکیف اور روحانی ہوگیا۔ شرکا نے پوری توجہ اور عقیدت کے ساتھ اشعار اور مناقب سے لطف اندوز ہوئے۔

کولکتہ کے دل میں منعقد ہوئی ’’رحمت للعالمین کانفرنس‘‘/ نبی کریم (ص)  کے عالمگیر امن، بھائی چارے اور انسانیت کے پیغام کو عام کرنے کی زور دار اپیل

کولکتہ سے عالمِ انسانیت کے نام پیغام

نور الاسلام اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے ذریعے کولکتہ کی سرزمین سے یہ اہم پیغام دیا گیا کہ مذہبی شناختیں الگ الگ ہوسکتی ہیں، لیکن انسانی وقار اور عزت ہر انسان کے لیے یکساں ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس محض ایک مذہبی تقریب تک محدود نہیں رہی، بلکہ امن، بھائی چارے، انسانیت اور باہمی احترام کے وسیع تر سماجی پیغام کا ذریعہ بن گئی۔

نور الاسلام اکیڈمی کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر محمد رضوان اسلام خان نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی یاد تازہ کرنے کا عمل اس وقت تک بامعنی نہیں ہوسکتا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات ہمارے انفرادی اور اجتماعی کردار میں نمایاں نہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا حقیقی اظہار محض جذباتی نعروں میں نہیں، بلکہ عدل و انصاف کے قیام، کمزوروں اور محتاجوں کی مدد، پڑوسیوں کے حقوق کی پاسداری، مخلوقِ خدا پر شفقت اور معاشرے میں امن کے قیام میں ہے۔

انہوں نے کہ: کولکتہ کی سرزمین سے ’’رحمت للعالمین کانفرنس‘‘ کا پیغام یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت اور انسانی اقدار کو دل میں بساتے ہوئے تفریق نہیں بلکہ اتحاد کو فروغ دیا جائے، نفرت نہیں بلکہ محبت عام کی جائے اور تصادم و جنگ کے بجائے امن کا پرچم بلند کیا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha