حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں ہفتۂ وحدت کے موقع پر مدرسہ امام جعفر صادق علیہ السلام، بیگم گنج جَونپور میں بین المذاہب مکالمے اور مذہبی ہم آہنگی کے موضوع پر ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں، علماء، دانشوروں، طلبہ اور شہریوں نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا۔ مدرسے کے مدیر حجۃالاسلام مولانا سید صفدر حسین زیدی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے امن، انسانیت اور اتحاد کا پیغام عام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ ہمیشہ علم کے ساتھ ساتھ گَنگا جمُنی تہذیب اور باہمی ہم آہنگی کا مرکز بھی رہا ہے۔
دہلی سے آئے حجۃالاسلام مولانا ڈاکٹر سید کلب رشید نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمۃ للعالمین بن کر پوری کائنات کے لیے تشریف لائے۔ ہفتۂ وحدت کا پیغام یہی ہے کہ 12 سے 17 ربیع الاول کے دوران تمام اختلافات کو فراموش کرکے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دشمنوں کو بھی معاف کرکے دنیا کو اتحاد اور عفو و درگزر کا درس دیا۔ آج امت مسلمہ اور پورے ملک کو اسی اتحاد کی ضرورت ہے۔ ہمیں شیعہ سنی کے ساتھ ساتھ ہندو مسلم سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، کیونکہ وحدت کا مطلب دلوں کو جوڑنا ہے۔
دہلی سے آئے پنڈت وجے کمار شرما نے کہا کہ مدرسے کے اس مقدس پلیٹ فارم پر آکر انہیں خوشی ہوئی ہے۔ بھارت رشیوں اور پیغمبروں کی سرزمین ہے۔ ہمارے وید اور قرآن دونوں انسانیت اور محبت کا درس دیتے ہیں۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو سچائی، امانت داری اور بھائی چارے کا راستہ دکھایا۔ ایسے مکالموں کے ذریعے ہی نفرت کی دیواریں گرائی جاسکتی ہیں۔
میڈیکل کالج جَونپور کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اے۔ اے۔ جعفری نے کہا کہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ مریض میں مذہب نہیں بلکہ انسان دیکھتے ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی انسانیت کو سب سے بلند مقام دیا۔ معاشرے میں پھیلی نفرت اور فرقہ واریت ایک بیماری کی مانند ہے، جس کا علاج محبت، مکالمے اور باہمی ہم آہنگی سے ہی ممکن ہے۔ یہ کانفرنس اسی بیماری کے علاج کی ایک کوشش ہے۔
ایرانی کلچر ہاؤس دہلی کے نمائندے مولانا سید تقی تقوی نے کہا کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عام معافی کا اعلان کرکے واضح کردیا کہ اسلام انتقام نہیں بلکہ رحمت کا دین ہے۔ ہمیں نئی نسل کو بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی سیرت سے روشناس کرانا ہوگا۔ اتحاد ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
مولانا ڈاکٹر سید کاظم مہدی عروج جونپوری نے کہا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ہمیں سکھایا کہ علمی اختلاف باعثِ رحمت ہے۔ ہفتۂ وحدت کا فلسفہ یہی ہے کہ فقہی و فروعی اختلافات کے باوجود توحید، رسالت اور قرآن پر ہم سب متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شیعہ سنی ہی نہیں بلکہ ہندو مسلم سمیت معاشرے کے تمام طبقات ایک ساتھ نہیں آئیں گے، ملک حقیقی ترقی نہیں کرسکتا۔
کانفرنس کے دوران مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے دس افراد کو یادگاری شیلڈز پیش کرکے اعزاز سے نوازا گیا۔ پروگرام کے اختتام پر ملک میں امن و سلامتی، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کے لیے دعا کی گئی۔ مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے تمام مہمانوں کو یادگاری تحائف بھی پیش کیے گئے۔
پروگرام کے اختتام پر عدنان زیدی نے تمام مہمانوں اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مولانا حسن مہدی، مولانا آصف عباس، مولانا سید احمد عباس، مولانا عنبر عباس خان، مولانا شاذان زیدی، سید محمد مصطفیٰ، عارف حسینی، قمر حسنین دیپو، محرم علی، فیضی فرحان، دانش کاظمی، ابوذَر اور دیگر علما، دانشور، طلبہ اور بڑی تعداد میں مقامی شہری موجود تھے۔









آپ کا تبصرہ