اتوار 4 اکتوبر 2026 - 16:48
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں سیدہ معصومہ شیرازی کی کتاب ’’صدائے ابابیل‘‘ کی تقریب رونمائی

حوزہ/آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں سیدہ معصومہ شیرازی کی کتاب ’’صدائے ابابیل‘‘ کی تقریب رونمائی ہوئی؛ جس کی صدارت ممتاز دانشور اور شاعر ڈاکٹر رضا کاظمی نے کی، جبکہ مہمان خصوصی خانۂ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کے ڈائریکٹر قاسم مرادی تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں سیدہ معصومہ شیرازی کی کتاب ’’صدائے ابابیل‘‘ کی تقریب رونمائی ہوئی؛ جس کی صدارت ممتاز دانشور اور شاعر ڈاکٹر رضا کاظمی نے کی، جبکہ مہمان خصوصی خانۂ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کے ڈائریکٹر قاسم مرادی تھے۔

صاحب کتاب محترمہ معصومہ شیرازی کے فن اور شخصیت پر گفتگو کرنیوالوں میں ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی، ڈاکٹر فاطمہ حسن اور پروفیسر سحر انصاری کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں سیدہ معصومہ شیرازی کی کتاب ’’صدائے ابابیل‘‘ کی تقریب رونمائی

نظامت کے فرائض سید سچل عباس شیرازی نے انجام دیئے۔

موصول رپورٹ کے مطابق، محترمہ سیدہ معصومہ شیرازی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بطورِ پروفیسر ایجوکیشن اور اسلامیات خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ ایک عالمہ، محققہ، شاعرہ اور مقررہ ہیں۔ انہوں نے جامعہ باب العلوم ملتان میں اپنے والد علامہ سید امداد حسین شیرازی سے علمی استفادہ کیا اور وفاق المدارس الشیعہ سے سلطان الافاضل کی سند کے علاوہ ایم اے فارسی، ایم اے ایجوکیشن اور بی ایڈ کی اسناد حاصل کیں جبکہ وہ ملکی اور بین الاقوامی ادبی، مذہبی اور تحقیقی پروگراموں میں فعال کردار ادا کرتی ہیں۔

تقریب کے دوران صدائے ابابیل پر ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی نے سیر حاصل گفتگو کی، ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کتاب میں شامل شاعری کا بھرپور جائزہ پیش کیا اور ان کے متعدد اشعار پیش کئے۔

پروفیسر سحر انصاری نے ان کے بیانیہ کی ستائش کی اور ان کی شاعری کو انقلابی اور مزاحمتی قرار دیا۔

محترمہ معصومہ شیرازی نے تمام شرکاء، حاضرین اور آرٹس کونسل کا شکریہ ادا کیا، اپنے کلام کے ساتھ اور مسجد سے محبت و عقیدت کے حوالے سے اپنی تین نظمیں پیش کیں۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں سیدہ معصومہ شیرازی کی کتاب ’’صدائے ابابیل‘‘ کی تقریب رونمائی

تقریب کے صدر ڈاکٹر رضا کاظمی نے محترمہ معصومہ شیرازی کی شاعری اور شخصیت پر لکھی ہوئی تحریر پیش کی۔

اس تقریب میں خواتین و حضرات نے بڑی تعداد نے شرکت کی؛ شرکاء میں ڈاکٹر رخسانہ صبا، ڈاکٹر ثروت عسکری، ظہیر عباس، ہدایت سائر، اکادمی ادبیات کے سابق ریذیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش، ڈاکٹر ندیم نقوی، یاسمین یاس، ضیاء زیدی، انور انصاری اور عون شیرازی شامل تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل خانۂ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران ڈاکٹر قاسم مرادی نے کہا کہ اردو کے افق پر سیدہ معصومہ شیرازی ایک ایسے روشن نام کے طور پر جلوہ کررہی ہیں جن کی شاعری نہ صرف فنی حسن سے آراستہ ہے بلکہ روحانی تاثیر اور فکری گہرائی سے مزین ہے، کراچی کی دھرتی سے تعلق رکھنے والی یہ ممتاز شاعرہ اپنے قلم کے ذریعے وابستگان حیدر کرار کے جذبات، اہل بیتؑ سے عقیدت اور اسلامی فکر کی تازگی کو دلوں تک پہنچاتی ہیں۔ ’’صدائے ابابیل‘‘ میں شامل ہر شعر نہ صرف عقیدت کے جذبے سے سر شار ہے، بلکہ قاری کو ایمان کی حرارت، امید کی کرن اور ظلم کے خلاف قیام کا حوصلہ بھی دیتا ہے، قرآن مجید میں ’’ابابیل‘‘ صاحب ایمان کا تعداد میں کم ہونے کے باوجود باطل کے طاقتور لشکر پر غالب آنے کا مظہر ہے، یہی استعاراتی قوت اس مجموعے کا مرکز ہے۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں سیدہ معصومہ شیرازی کی کتاب ’’صدائے ابابیل‘‘ کی تقریب رونمائی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha