ہفتہ 10 اکتوبر 2026 - 09:47
تزکیہ نفس؛ ہدف حیات انسانی

حوزہ/ روز اول سے انسان ایسے راستے کی تلاش میں ہے جس سے وہ اپنی روح و ذہن کو پاک کر سکے اور اخلاقی بلندی ، روحانی ترقی کو حاصل کر سکے۔ اسی تلاش کا نام تزکیۂ نفس ہے ۔ تزکیۂ نفس ایک ایسا روحانی سفر ہے جو ہمیں تاریکیوں اور منفی صفات سے بھری دنیا سے نکال کر نور اور روحانی ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔

تحریر:سیدہ علیا شیرازی جامعہ الزہراء قم ایران

حوزہ نیوز ایجنسی|

روز اول سے انسان ایسے راستے کی تلاش میں ہے جس سے وہ اپنی روح و ذہن کو پاک کر سکے اور اخلاقی بلندی ، روحانی ترقی کو حاصل کر سکے۔ اسی تلاش کا نام تزکیۂ نفس ہے ۔ تزکیۂ نفس ایک ایسا روحانی سفر ہے جو ہمیں تاریکیوں اور منفی صفات سے بھری دنیا سے نکال کر نور اور روحانی ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔

یہ تصور نہ صرف مختلف مذاہب میں خدا تک پہنچنے اور اس کی رضا حاصل کرنے کی ایک حکمتِ عملی کے طور پر جانا جاتا ہے، بلکہ فلسفے اور نفسیات میں بھی انسان کی نشوونما اور تکامل کے لیے ایک بنیادی مرحلے کے طور پر شمار ہوتا ہے۔

تزکیۂ نفس کا مطلب ہے ذہن کو منفی افکار سے پاک کرنا اور جذبات پر قابو رکھنا اور عمل میں سنجیدگی اختیار کرنا۔ یہ سفر بالترتیب ہمیں مدد دیتا ہے تاکہ ہم ایک پُرسکون روح اور نورِ ایمان سے لبریز فکر وذہن پا سکیں اور اپنی زندگی میں حیرت انگیز نتائج حاصل کرسکیں، عملی طور پر روحانی نشوونما اور شگفتگی کو محسوس کر سکیں۔

اس مضمون میں جو قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر لکھا گیا ہے، اس میں تزکیۂ نفس کے معنی، انسانی ترقی کے راستے میں اس کی اہمیت، انسان کی تخلیق کی ساخت، تزکیۂ نفس کے لیے عملی طریقے، قرآن کا نقطۂ نظر اور ہدایت کے مراحل پر بات کی جائے گی۔ پس اس دلچسپ سفر میں ہمارے ساتھ رہیے تاکہ تزکیۂ نفس کی مدد سے نورانیت تک پہنچیں۔

تزکیہ نفس کے معنی

تزکیۂ نفس قرآن کی اصطلاح ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے نفس کو نشوونما دینا چاہتے ہیں اور بلند معنوی مقامات تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ جسے عام لوگوں میں تربیتِ نفس، تربیتِ توحیدی اور تربیتِ اخلاق نفسی، خدا پرستی کی تربیت یا اس جیسے دوسرے ناموں سے جانا جاتا ہے، قرآن اسے ایک ہی نام دیتا ہے اور وہ ہے "تزکیۂ نفس"۔ یہ قرآن کی اصطلاح ہے۔ تزکیہ کا معنی نشوونما اور رشد کےہیں؛ یعنی ہم اپنے نفس کو رشد و ترقی دیں، اسے بلندی کی جانب لے جائیں تاکہ جس مقام تک ہمیں پہنچنا چاہیے، خدا کی مدد سے وہاں پہنچ جائیں۔

قرآن فرماتا ہے: «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَا»

بے شک وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔ اور بے شک وہ نامراد ہو گیا جس نے اسے خاک میں دبا دیا۔

یعنی جو اپنے نفس کا تزکیہ کرے وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں اسے پہنچنا چاہیے، یعنی فلاح اور نجات۔ اور جو نفس کھلا چھوڑ دے وہ پستی کی طرف چلا جاتا ہے اور ناامید اور محروم ہو جاتا ہے۔ فلاح اور نجات کا راستہ، تربیت اور تزکیۂ نفس کا ہی راستہ ہے۔

مقصد حیات

اس بحث میں داخل ہونے سے پہلے لازم ہے کہ ہم خود سے ایک سوال پوچھیں۔ ہماری زندگی کے کیا مقاصد ہیں؟ ہم کیا کام کرنا چاہتے ہیں؟ ہم کن اھداف تک پہنچنا چاہتے ہیں؟ اور اس سے بھی بڑھ کر،ہماری زندگی کا سب سے بڑا اور اہم مقصد کیا ہے؟

کچھ مقاصد میانی مقاصد ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنے کام کی جگہ پر جانا چاہتا ہے وہ گھر کے دروازے سے باہر نکلتا ہے اور ٹیکسی لینے جاتا ہے؛ اس کا پہلا مقصد ٹیکسی لینا ہے۔ لیکن ٹیکسی کس لیے لینی ہے؟ کسی دوسرے مقصد کو پورا کرنےکے لیے، وہ اپنے کام کی جگہ پر پہنچنا چاہتا ہے، اسے میانی مقصد کہتے ہیں۔ کام کی جگہ پر پہنچے تو کیا ہو؟ تاکہ اس سے بڑا کوئی کام انجام دے؛ لیکن انسان کا کاموں میں ایک ھدف۔ غایی یعنی آخری مقصد بھی ہوتا ہے۔

اب ہمارا سوال یہ ہے،ہماری پوری زندگی میں ہمارا سب سے بڑا مقصد کیا ہے؟ اس کو مشخص کریں۔ اس کا نام زندگی کا مقصد رکھیں۔ جو کام ہم زندگی میں انجام دیتے ہیں وہ عارضی مقاصد ہیں۔ ہمارا بڑا مقصد، آخری مقصد یا دوسرے لفظوں میں ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اس کو مشخص کریں کہ ہم کہاں جانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم نے آج تک سنجیدگی سے خود سے یہ سوال پوچھا ہے؟ واقعی ایک بار یہ سوال خود سے پوچھیں اور اس پر غور کریں۔ میں کہاں سے آیا ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے؟

تاکہ ہم اپنے روحانی مستقبل کے لیے ایک مکمل اور مفید منصوبہ بنا سکیں، سب سے پہلے ہمیں انسان کے وجود سے آشنا ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ہم قرآنِ کریم کی طرف رجوع کرتے ۔ہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۂ تین میں پہلے کئی قسمیں کھاتا ہے۔ انجیر اور زیتون کی قسم، طورِ سینا کی قسم، امن والے شہر مکہ کی قسم۔ اس کے بعد قسم کے جواب میں فرماتا ہے: «لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ»بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔

انسان کی ساخت سب سے بہترین ہے۔ اگر آپ زمینی زندگی میں دیکھیں اور جانوروں سے موازنہ کریں، تو جسمانی لحاظ سے بھی اسے برتری حاصل ہے۔ انسان سیدھا کھڑا ہو کر چلتا ہے، اس کا سر اوپر کی طرف ہے، کھانے کو منہ تک لاتا ہے، جبکہ جانور منہ کو کھانے کی طرف لے جاتے ہیں وغیرہ۔ عقلی لحاظ سے تو انسان کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ ہوشمندی کے لحاظ سے، سوچ اور عقل کی قوت کے لحاظ سے تمام مخلوقات سے بلند تر ہے۔

تزکیہ نفس کی اہمیت

لیکن اس بہترین ساخت میں ایک دو بعد، دو رُخ،دو پہلو موجود ہیں۔ ہم کبھی خواہشات اور تاریکیوں کی طرف چلے جاتے ہیں، کبھی نورانیت اور روحانیت کی طرف۔ دونوں چیزیں ہمارے وجود میں موجود ہیں، اس لیے ہمیں زیادہ ہوشیار رہنا چاہیے۔

سورۂ دہر (انسان) کی دوسری آیت میں دنیا کی زندگی کے دور کا آغاز بیان ہوا ہے، اللہ فرماتا ہے:«اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا»

بے شک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا تاکہ ہم اسے آزمائیں، پھر ہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنایا۔

نطفے کا بننا ہمارے وجود کے دوسرے دور میں داخل ہونے کے لیے ہے، یعنی دنیا کی زندگی میں داخل ہونا۔

امشاج، مشیج یا مشج کی جمع ہے جس کا معنی ہے ملا جلا۔ سوال یہ ہے کہ نطفہ کس چیز سے ملا جلا ہے؟ یا کن چیزوں سے مل کر بنا ہے؟

بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کے نطفے میں دو طرح کی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ نورانی صلاحیتیں اور ظلمانی صلاحیتیں۔ نورانی صلاحیتیں جیسے اللہ کی معرفت، اللہ سے محبت، خدا پرستی، ترقی اور بلندی کی خواہش۔ اور ظلمانی صلاحیتیں جیسے منفی صفات: حسد، کینہ، تکبر وغیرہ۔

اللہ نے ایسا کیوں کیا؟ فرماتا ہے "نَبْتَلِیْهِ" یعنی "لِنَبْتَلِیَهُ" تاکہ ہم انسان کو آزمائش میں ڈالیں۔ انتخاب کی آزمائش میں کہ ہم خدا کو چنتے ہیں یا خواہشِ نفس کو؟ اور یہ بہت بڑی قوت ہے کہ ہم اپنی مرضی سے اللہ کی طرف جائیں۔ قرآن کی آیات سے ہم نے سمجھا کہ اللہ نے دنیا کو اسی لیے پیدا کیا ہے۔ عالم کی تمام مخلوقات اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتی ہیں لیکن جو کام انسان کرتا ہے اور دوسرے نہیں کرتے، وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی خاطر نفس کی مخالفت کرتا ہے اور یہی بے حد قیمتی اور بڑی قوت ہے۔

خواہشِ نفس؛ انسان کی پستی کا سبب

پس اس کے باوجود کہ ہم بہترین ساخت میں ہیں، اللہ نے ہمارے لیے ایک ایسی قوت رکھی ہے کہ ہمارے اندر اللہ کی خاطر نفس کی مخالفت کا میدان موجود ہے۔ گناہ کی خواہش پیدا ہوتی ہے، لیکن ہم اللہ کی خاطر اپنے آپ کو روک لیتے ہیں۔

دوسری طرف یہی انسان جو بہترین ساخت میں ہے اگر اپنے آپ کو چھوڑ دے تو خواہشاتِ نفس کی وجہ سے گر جاتا ہے پستی کی طرف چلا جاتا ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ اَسْفَلَ سَافِلِیْنَ»پھر ہم نے اسے پستیوں میں سب سے نیچے لوٹا دیا۔ آپ نے دیکھا ہے کہ بعض انسان واقعی جانوروں سے بھی بدتر ہوتے ہیں؟ یہ جرائم جو بعض لوگ کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض وہ لوگ جو بظاہر تہذیب و تمدن کی باتیں کرتے ہیں۔ کیا جانور ایسے جرائم کر سکتے ہیں؟ اتنے پست ہو سکتے ہیں؟ اب اس کی ایک مثال صدام تھا۔ اس کی ایک مثال یہ صہیونی مجرم اور ان جیسے لوگ ہیں۔

«اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ»

مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، تو ان کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔

«قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَا»

یقیناً کامیاب ہو گیا وہ جس نے نفس کو پاک کر لیا۔ اور یقیناً نامراد ہو گیا جس نے اسے دبا دیا۔

تو اس طرح سے، ہماری تربیتِ نفس کا راستہ اعلیٰ علیین کی طرف ایک مسلسل سفر ہے۔

اعلیٰ علیین کا مقام کیسے حاصل ہوتا ہے؟ خدائی تربیت سے، تمام الٰہی انبیاء آئے تاکہ ہمیں خدا کی بندگی کی طرف بلائیں۔ اگرچہ آج کی دنیا میں بہت سے لوگ نفس کی بندگی کی طرف بلاتے ہیں۔ لیکن نفس کی بندگی انسان کو گرا دیتی ہے۔ اللہ کی بندگی ہمیں اعلیٰ علیین تک پہنچاتی ہے اور ہمارے نفس کا تزکیہ کرتی ہے۔

تزکیہ نفس کا ایک آسان طریقہ

اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ انسان دو رُخی ہے، ہمیشہ کشمکش میں رہتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن کہتا ہے: «لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍ» بے شک ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا۔ نہج البلاغہ میں متقی لوگوں کے بارے میں فرمایا: صَبَرُوْا اَیَّامًا قَصِیْرَةً انہوں نے تھوڑے دنوں صبر کیا، اَعْقَبَتْهُمْ رَاحَةً طَوِیْلَةً تو اللہ نے اس کے بعد ان کے لیے لمبی راحت مقرر کر دی، تِجَارَةٌ مُّرْبِحَةٌ یَسَّرَهَا لَهُمْ رَبُّهُمْ کتنی نفع بخش تجارت ہے جو ان کے رب نے ان کے لیے آسان کر دی۔

پس عزیز دوستو، تزکیۂ نفس کی فکر میں رہو، تاریکیوں کو چھوڑ دو، اپنے اندر نورانی صلاحیتوں کو بیدار کرو۔ اس کام کے لیے ہمیں اپنے اندر مثبت اور منفی قوتوں کو پہچاننا ہوگا اور انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنا ہوگا اور نفس کے خلاف جہاد کرنا ہوگا۔

ہماری تجویز ہے کہ ایک ڈائری لیں اور اس میں ایک جدول(table) بنائیں۔ اس جدول میں انسان کے اندر موجود اچھی اور بری صلاحیتوں کو لکھیں تاکہ آپ ان کی نگرانی کر سکیں۔ مختصر یہ کہ ہمیں نورانی صلاحیتوں کو رشد دینا ہے اور منفی صلاحیتوں کو اپنے اندر قابو میں رکھنا ہے تاکہ وہ بڑھنے نہ پائیں اور صحیح راستے پر رہیں۔ آگے چل کر اس جدول کے بارے میں مزید وضاحت کریں گے۔

جدول کے ایک حصے میں نورانی صلاحیتوں کو لکھیں: جیسے فطرتِ توحیدی، انسانی جذبات، بلندی اور ترقی کی خواہش۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ان صلاحیتوں کو اپنے اندر مضبوط کریں۔ دوسرے حصے میں ظلمانی صلاحیتوں کو نوٹ کریں۔ ظلمانی صلاحیتیں دو حصوں پر مشتمل ہیں: ایک نفسانی قوتیں جیسے شہوت اور غضب، اور دوسری منفی صفات جیسے حسد، کینہ، بخل، تکبر۔

نفسانی قوتوں یعنی شہوت اور غضب کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ نفسانی قوتیں بذاتِ خود منفی نہیں ہیں لیکن اگر انہیں کنٹرول نہ کیا جائے تو وہ غلط راستے پر جا سکتی ہیں۔ لیکن منفی صفات وہ چیزیں ہیں جنہیں بالکل ترک کردینا چاہیے۔

ہمارے ذمے تزکیۂ نفس کی ذمہ داری ہے۔ مثبت صفات کو اپنے اندر مضبوط کرنا چاہیے۔ منفی صفات کو اپنے وجود سے الگ کرنا چاہیے اور اپنے وجود کو ان سے پاک کرنا چاہیے اور یہ مشق اور مسلسل کوشش اور صبر کے بغیر ممکن نہیں۔

قرآن کی نظر میں تزکیۂ نفس

نفس کے ساتھ عادلانہ سلوک کا معیار کیا ہے؟ اگر انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے، کیا وہ صحیح اور عادلانہ معیار تلاش کر سکتا ہے؟

آج کے انسان کو دیکھیں، مغربی دنیا انسان کے نفس کو مرکز و محور قرار دیتی ہے، کہتی ہے جو تمہارا دل چاہے کرو؛ بس دوسروں کے حقوق پر زیادتی نہ کرو۔ کہاں تک جائیں؟ یہ بات جنس پرستی تک جاتی ہے۔ یہی آج کی دنیا ہے، یہی آج کا مہذب انسان ہے۔ تہذیب و ٹیکنالوجی اور انسانی فکر کی انتہا یہاں تک پہنچتی ہے۔

دوسری طرف دیکھیں تو کچھ لوگ بلند روح حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں، کہتے ہیں جو تمہارا دل چاہے اس کی مخالفت کرو، ریاضت والے مکاتب ایسے ہی ہیں۔ یا حتیٰ آسمانی مذاہب میں بھی کبھی یہ عقیدہ شامل کیا گیا ہے، عیسائیت میں رہبانیت یہی کہتی ہے،عیسائی تعلیمات کہتی ہیں اگر تم روحانی طور پر بلندی چاہتے ہو تو آؤ چرچ اور عبادت گاہ میں، وہاں وقف ہو جاؤ، عبادت کرو، ازدواج نہ کرو اور دنیا کی نعمتوں اور فطرت کی چیزوں کو چھوڑ دو۔

یہ بھی باطل ہے۔ یہ ساری نعمتیں اللہ نے کس کے لیے پیدا کی ہیں؟ زوجیت کو اس نے رکھا ہے، تم اللہ کی خلقت اور فطرت کے خلاف جاکر سیر و سلوک کا راستہ تلاش کرنا چاہتے ہو، قرآن فرماتا ہے: «وَ رَهْبَانِیَّةَ نِ ابْتَدَعُوْهَا» یہ رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کی، ہم نے اس طرح نہیں کہا تھا۔

سوال یہ ہے کہ

کیا انسان اکیلا تزکیہ کا راستہ پا سکتا ہے اور اپنے نفس کو بلند کر سکتا ہے؟ دوسرا سوال یہ کہ معیار کہاں سے حاصل کریں؟

قرآنِ کریم فرماتا ہے: «وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰی مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا»اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت اور اس کا کرم نہ ہوتا، تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوتا، تم میں سے کوئی بھی روحانی ترقی نہ پاتا، تم گمراہی میں پڑ جاتے، کبھی کبھی روحانیت کے نام پر انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔

اب یہ الٰہی ہدایت کیسے حاصل ہوتی ہے؟ قرآن فرماتا ہے: «هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ» اللہ نے لوگوں کے درمیان انہی میں سے ایک رسول کو بھیجا، عالم کی حقیقتیں اس کے اختیار میں دیں کہ وہ کیا کام کرے؟ یہ نبی تین کام کرتا ہے: «یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ» اللہ کی آیات لوگوں کے لیے تلاوت کرتا ہے، نبی نے قرآن ہمارے اختیار میں دیا۔ «وَ یُزَكِّیْهِمْ» اور لوگوں کو اور مومنوں کو پاک کرتا ہے، ان کی نشوونما کرتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے «وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ» کتاب و حکمت کو، یعنی اللہ کی شریعت کے احکامات کو انہیں سکھاتا ہے۔

اگرچہ یہ لوگ پہلے گمراہی میں تھے، مشرکین کے اپنے کچھ آداب تھے یا مثلاً تزکیۂ نفس کا کوئی اپنا طریقہ تھا، قرآن کہتا ہے: یہ لوگ گمراہی میں تھے «وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ» اللہ کے نبی آئے اور انہیں تزکیۂ نفس اور بلندی کے صحیح راستے کی طرف ہدایت دی۔

تزکیہ نفس کے مرحلے تک پہنچنے کی شرائط

تزکیہ تک پہنچنے کی دو بنیادی شرائط ہیں۔ سورۂ نازعات میں خدا فرماتا ہے:«وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰی فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَأْوٰی»جنت ان لوگوں کا ٹھکانہ ہے جو تزکیہ یافتہ ہیں، جنہوں نے ترقی کی ہے، جو متقی بن گئے ہیں۔ اس مرحلے تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟

اس کے لیے دو شرطیں ضروری ہیں:

1۔ خوفِ خدا: یعنی اللہ کی طرف توجہ، ہم اس کے بندے ہیں، اس کے محضر میں ہیں۔

2۔ نفس پر قابو: نفس کو خواہشاتِ نفسانی سے روکنا، ان چیزوں سے جو اللہ نے منع کی ہیں۔ یعنی برائیوں سے دور رہیں۔ «وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ» پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور بری اور خبیث چیزیں حرام ہیں۔

ہدایت اور نفس کی ترقی کے مراحل

آئیے قرآن کی ایک آیت کو مل کر دیکھیں اس پر غور و فکر کریں۔ کیا اللہ اس آیت میں ہمیں سیر و سلوک کا راستہ دکھاتا ہے یا نہیں۔ اس آیت میں اللہ ہمارے لیے ہدایت کے تین مراحل بیان کرتا ہے۔ مل کر غور کرتے ہیں:

«اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌ»

بے شک اللہ کی طرف سے تمہارے پاس ایک نور اور روشن کرنے والی کتاب آئی ہے۔

«یَهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ»

اللہ اس کتاب کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کی پیروی کرتے ہیں، سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے۔

«وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ» اور وہ انہیں اپنے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔

«وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ» اور انہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

پس ہدایت کے تین مراحل ہیں:

1۔ سلامتی کے راستوں کی طرف ہدایت

2۔ تاریکیوں سے نکل کر نورانیت میں داخل ہونا

3۔ صراطِ مستقیم اور خالص بندگی کی طرف ہدایت

پس انسان کے کمال کی انتہا وہی خالص بندگی ہے اور اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے ہمیں تزکیۂ نفس کرنا ہوگا۔اور یاد رکھیے کہ انسان کی معراج بندگی تزکیہ نفس میں پوشیدہ ہے اللہ نے انسان کو مجازی انسان پیدا کیا اور اس کی زندگی حقیقی انسان بننے کا سفر ہے۔۔دعا ہے کہ خدا ہمیں تزکیہ نفس کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم خدا کے خاص بندوں میں شمار ہو سکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha