حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ محمد مہدی شب زندہ دار، سیکرٹری سپریم کونسل برائے حوزہ علمیہ اور فقہائے شورای نگہبان کے رکن نے طلاب کو نصیحت کی کہ وہ حوزہ علمیہ میں داخلے کے اپنے بنیادی مقصد، یعنی تزکیۂ نفس، قربِ الٰہی اور حقیقی معنوی ترقی کو فراموش نہ کریں۔
انہوں نے کہا: درس و تدریس، مباحثے اور حتیٰ کہ انقلابی سرگرمیوں میں مصروفیت بھی انسان کو اپنے اصل مقصد سے غافل نہ کرے کیونکہ اگر علمِ توحید بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے بجائے شہرت اور احترام کے لیے حاصل کیا جائے تو وہ انسان کی روحانی ترقی کی راہ میں حجاب بن سکتا ہے۔
ایامِ فاطمیہ؛ امتِ مسلمہ کے لیے ایامِ حزن
آیت اللہ شب زندہ دار نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ایام کی تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا: جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوطالب علیہ السلام اور حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی وفات کے سال کو عام الحزن قرار دیا تھا، اسی طرح رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (رہ) اور ان کے اہلِ خانہ، دیگر شہداء، کمانڈروں، دانشوروں، عوام اور میناب کے معصوم بچوں کی شہادتوں کے بعد یہ ایام اہلِ تشیع، مسلمانوں اور دنیا بھر کے مستضعفین کے لیے ایامِ حزن ہیں۔
انہوں نے اس مقام کے بارے میں بھی بتایا جہاں یہ درس منعقد ہوا۔ ان کے مطابق، اس مدرسے کی بنیاد رہبرِ شہید (رہ) کی خالصانہ نیت سے رکھی گئی تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ یہاں اپنی قیمتی ذاتی لائبریری قائم کریں تاکہ علما، طلاب اور طلبہ اس سے استفادہ کرسکیں، لیکن اسلام کے دشمنوں نے اس آرزو کی تکمیل نہ ہونے دی۔
فلاح و کامیابی تزکیۂ نفس سے وابستہ ہے
آیت اللہ شب زندہ دار نے سورۂ شمس کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے کہا: قرآن کریم نے گیارہ قسموں کے ذریعے تزکیۂ نفس کی اہمیت پر غیرمعمولی تاکید کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا» یعنی یقیناً وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاکیزہ بنایا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ نفس کو برائیوں سے پاک کرنا اور اسے اخلاقی فضائل سے آراستہ کرنا ہی فلاح کا راستہ ہے، جبکہ گناہوں، نافرمانی اور ناشکری کے ذریعے الٰہی نعمتوں اور صلاحیتوں کو ضائع کرنا خسارے کا باعث بنتا ہے۔ انسان کی بلند روحانی صلاحیتیں محض معمول کی زندگی گزارنے سے بروئے کار نہیں آتیں بلکہ اس کے لیے سنجیدہ عزم، منصوبہ بندی اور مسلسل مجاہدے کی ضرورت ہے۔
آیت اللہ شب زندہ دار نے کہا: علم اور تزکیہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ تزکیہ کے لیے علم ضروری ہے اور پاکیزہ نفس انسان کو علم کی گہری حقیقتوں کے ادراک کے قابل بناتا ہے۔
علم اور انقلابی سرگرمیاں اصل مقصد کا متبادل نہیں
آیت اللہ شب زندہ دار نے امام خمینی قدس سرہ کے حوالے سے کہا: کبھی علمِ توحید بھی انسان کے لیے حجاب بن جاتا ہے، اگر اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے بجائے فخر، شہرت یا لوگوں سے احترام حاصل کرنے کے لیے پڑھا جائے۔
انہوں نے طلاب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا: کہیں ایسا نہ ہو کہ راستے میں آپ اپنے ابتدائی اور بنیادی مقصد کو بھول جائیں۔درس، مباحثہ، روزمرہ مصروفیات اور حتیٰ کہ انقلابی سرگرمیاں بھی اس وقت روحانی ترقی کی راہ میں حجاب بن سکتی ہیں جب انسان اپنے اصل مقصد، یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا اور تزکیۂ نفس سے غافل ہوجائے۔
کامیابی کے لیے چار بنیادی معرفتیں
آیت اللہ شب زندہ دار نے امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منقول روایت کی روشنی میں چار بنیادی معرفتوں کی وضاحت کی: ۱۔ خداشناسی: اللہ تعالیٰ، اس کی صفات اور آخرت کے بارے میں اپنے عقائد کو مضبوط بنانا۔ ۲۔ انسانی صلاحیتوں کی شناخت: یہ جاننا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود میں کتنی استعدادیں اور بلند مرتبے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھی ہے۔ ۳۔ فرائضِ الٰہی کی معرفت: یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ انسان سے کیا چاہتا ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کے احکام کیا ہیں۔ ۴۔ دین سے دور کرنے والے عوامل کی شناخت: ان دوستوں، نظریات، خواہشات اور دیگر عوامل سے آگاہ رہنا جو انسان کو دین سے دور کرسکتے ہیں۔
رسالتِ حوزہ علمیہ؛ انسان سازی اور اصلاحِ معاشرہ
آیت اللہ شب زندہ دار نے کہا: حوزاتِ علمیہ میں آنے والے طلاب کا مقصد خود کو سنوارنا، علم و تقویٰ سے آراستہ ہونا، اسلام کی خدمت کرنا اور لوگوں کی ہدایت میں کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے فرمان «أَعِينُونِي» یعنی میری مدد کرو، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی مدد سے مراد ان کے انسان ساز اور ہدایت بخش مقاصد کو آگے بڑھانا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دوسروں کی اصلاح اور رہنمائی سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے۔ ایسا عالم جو متقی، مہذب، علم و معرفت سے آراستہ اور اخلاقی برائیوں سے پاک ہو، معاشرے کی ہدایت میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔










آپ کا تبصرہ