حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی نے دعائے مکارم الاخلاق کو انسانِ کامل کی تربیت، معرفتِ الٰہی کے فروغ اور ایمان و یقین کے درجات بلند کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’جس شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت راسخ ہو جائے، وہ دشمن کی دھمکیوں اور ظاہری طاقت سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔‘‘
آیت اللہ سبحانی نے کہا: ’’دعائے مکارم الاخلاق صحیفۂ سجادیہ کی بیسویں دعا ہے اور اس کا بنیادی مقصد عارف انسان اور انسانِ کامل کی تربیت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: امام سجاد علیہ السلام نے دعاؤں کے ذریعہ دینی معارف کو معاشرے میں عام کیا اور ضرورت مندوں کی مدد سمیت مختلف سماجی خدمات بھی انجام دیں۔

انہوں نے امام سجاد علیہ السلام کو کمزور شخصیت کے طور پر پیش کرنے کے تاثر کی اصلاح کرتے ہوئے کہا: ’’امام سجاد علیہ السلام ایک توانا، باہمت اور صاحبِ استقامت شخصیت تھے۔‘‘ آپ رات کے وقت اپنے کندھوں پر کھانا اٹھا کر ضرورت مندوں کے گھروں تک پہنچاتے تھے۔
آیت اللہ سبحانی نے دعائے مکارم الاخلاق کے ابتدائی فقرے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہلِ بیت علیہم السلام پر صلوات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: امام سجاد علیہ السلام اپنی دعاؤں کا آغاز صلوات سے کرتے ہیں۔ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کردہ صلوات کا حوالہ دیتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آلِ محمد کا ذکر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے دعائے مکارم الاخلاق کے اس فقرے ’’وَبَلِّغْ بِإِيمَانِي أَكْمَلَ الْإِيمَانِ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ایمان صرف زبانی اقرار کا نام نہیں، بلکہ قلبی معرفت، دینی تعلیمات پر عمل اور عملِ صالح کے ذریعہ اسے کمال تک پہنچانا ضروری ہے۔

آیت اللہ سبحانی نے یقین کے تین درجات، علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ان بلند مراتب کے حصول کے لیے تزکیۂ نفس، شب بیداری، مشکلات برداشت کرنے اور نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے خطبۂ متقین کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’عَظُمَ الْخَالِقُ فِي أَنْفُسِهِمْ، فَصَغُرَ مَا دُونَهُ فِي أَعْيُنِهِمْ‘‘ یعنی ان کے دلوں میں خالق کی عظمت اس طرح راسخ ہو گئی کہ اس کے سوا ہر چیز ان کی نگاہوں میں چھوٹی ہو گئی۔
اس مرجع تقلید نے اہلِ تقویٰ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا: ان کا ایمان اور یقین اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ گویا وہ جنت اور دوزخ کو دیکھ رہے ہوں۔ ایسے افراد کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت راسخ ہوتی ہے اور وہ دنیا کی دولت اور ظاہری طاقت سے مرعوب نہیں ہوتے۔
درسِ اخلاق کے اختتام پر آیت اللہ سبحانی نے کہا: انسان کو اپنے موجودہ درجۂ ایمان پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ معرفتِ الٰہی، عملِ صالح، تقویٰ اور یقین کی بلند منزلوں کی جانب مسلسل پیش قدمی کرنی چاہیے۔











آپ کا تبصرہ