بدھ 28 جنوری 2026 - 14:49
صحیفۂ سجادیہ زندگی کا مکمل آئینہ ہے: استادِ حوزۂ علمیہ قم

حوزہ/ استادِ حوزۂ علمیہ قم نے صحیفۂ سجادیہ کی ہمہ گیر حیثیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نورانی کتاب زندگی کے تمام پہلوؤں کی عکاس ہے اور انسانی حیات کے ہر شعبے کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌الاسلام‌ والمسلمین محمدرضا فوادیان نے مسجدِ مقدس جمکران کے اجلاس ہال میں صحیفہ، کتابِ ایمان و مقاومت کے موضوع پر منعقد ہونے والی آٹھویں علمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق و باطل کا نظام آغازِ آفرینش سے قائم ہے۔ اسی تناظر میں امام زین‌العابدین حضرت امام سجاد علیہ السلام نے دعائے پنجم میں اس حقیقت کی جانب اشارہ فرمایا ہے اور مستکبرین کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امام سجاد علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، اللہ اسے نجات عطا فرماتا ہے، اور یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔

استادِ حوزۂ علمیہ قم نے امام سجاد علیہ السلام کے دورِ امامت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہلِ بیت علیہم السلام کی امامت کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک تھا۔ چنانچہ امام علیہ السلام نے اپنی دعاؤں—خصوصاً دعائے دوم، چہارم اور ستائیسویں—میں اس سخت دور کے حالات کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

انہوں نے صحیفۂ سجادیہ کی دعاؤں کی توضیح کرتے ہوئے کہا کہ دعائے ہشتم میں سماجی آفات و خرابیوں کا ذکر ملتا ہے، جبکہ سب سے زیادہ سیاسی مفہوم رکھنے والی دعا، دعائے بیستم ہے، جس کی طرف رہبرِ معظم انقلاب متعدد بار توجہ دلا چکے ہیں۔

حجت‌الاسلام‌والمسلمین فوادیان نے کہا کہ اس دعا میں استقامت اور مقاومت کے ایسے مضامین پائے جاتے ہیں جو بذاتِ خود ایک مکمل درس اور مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha