منگل 27 جنوری 2026 - 07:00
صحیفہ سجادیہ امام سجاد (ع) کے تربیتی مکتب کا پائیدار معجزہ ہے

حوزہ / ادارۂ علمی و ثقافتی جبل الصبر کے مدیر نے تاریخِ امامت میں امام سجاد علیہ السلام کے بے مثال مقام پر زور دیتے ہوئے کہا: صحیفہ سجادیہ ایک معجزہ نما ورثہ اور انسان کی اخلاقی روحانی اور سماجی تربیت کا جامع مدرسہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق حجت الاسلام والمسلمین طباطبائی اشکذری ادارۂ علمی و ثقافتی جبل الصبر کے مدیر نے مشہد میں حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: امام سجاد علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے بعد منصبِ امامت پر فائز ہوئے اور اپنی پوری زندگی میں منفرد خصوصیات کے حامل رہے۔ ان کے اہم ترین القابات میں سے ایک زین العابدین ہے جو رسولِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے عطا کیا گیا۔

انہوں نے کہا: زین العابدین کا لقب صرف دنیا تک محدود نہیں بلکہ قیامت کے دن بھی امام سجاد علیہ السلام کو اسی لقب سے پکارا جائے گا۔ روایات میں آیا ہے کہ قیامت کے دن جب ندا دی جائے گی کہ زین العابدین کہاں ہیں تو امام سجاد علیہ السلام صفوفِ قیامت کے درمیان چلتے ہوئے آئیں گے اور اپنے رب سے اپنا تعارف کرائیں گے۔ یہ روایت اس عظیم معنوی اور عبادی مقام کی عکاسی کرتی ہے جو اس ہستی کو حاصل ہے۔

ادارۂ علمی و ثقافتی جبل الصبر کے مدیر نے صحیفہ سجادیہ کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام سجاد علیہ السلام کا انسانیت کے لیے سب سے عظیم ورثہ صحیفہ سجادیہ ہے۔ صحیفہ سجادیہ درحقیقت دعا پر مبنی ایک مکمل تربیتی مدرسہ ہے جو اخلاقی انفرادی سماجی اور خداوند سے رابطے کے مختلف پہلوؤں میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ مقدس کتاب ایک الٰہی معجزہ ہے جو امام سجاد علیہ السلام کی زبان سے خداوند کے ساتھ مناجات کی صورت میں جاری ہوئی۔

حجت الاسلام والمسلمین طباطبائی اشکذری نے ابن شہر آشوب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: عظیم محدث اور محقق ابن شہر آشوب اپنی کتاب مناقب آل ابی طالب میں نقل کرتے ہیں کہ بصرہ کے بعض ادباء نے جب صحیفہ سجادیہ کو دیکھا تو ابتدا میں اسے اہمیت نہ دی لیکن جب ان میں سے ایک نے اس جیسا متن لکھنے کی کوشش کی تو وہ اسے مکمل نہ کر سکا اور اسی کوشش کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ یہ واقعہ صحیفہ سجادیہ کی روحانی اور الٰہی طاقت کی دلیل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha