حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی نے کہا ہے کہ علم کی قدر و منزلت اس کے موضوع کی اہمیت سے وابستہ ہے اور خدا شناسی، معارفِ الٰہی اور عقائد کے بنیادی مسائل سے متعلق علوم کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ انہوں نے علمِ کلام اور فلسفۂ الٰہی کی تعلیم کو قرآن کریم کو بہتر سمجھنے اور عقائد کے جدید شبہات کا علمی جواب دینے کے لیے ضروری قرار دیا۔
آیت اللہ سبحانی نے یہ بات مؤسسہ امام صادق علیہ السلام قم میں نئے تعلیمی سال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ علم جو انسانیت کے لیے مفید ہو اور معاشرے کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہو، قابل قدر ہے۔ تاہم کسی علم کی فضیلت اس کے موضوع کی شرافت کے مطابق ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے خداوند متعال، وجود، صفاتِ الٰہی اور بنیادی اعتقادی مسائل سے متعلق علوم کو بلند مقام حاصل ہے۔
انہوں نے علمِ کلام کو ’’فقہ اکبر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کسی عمارت کے لیے مضبوط بنیاد ضروری ہے، اسی طرح دینی معارف کے لیے بھی مضبوط اعتقادی بنیاد ناگزیر ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ علمِ کلام، فقہ، اصول اور ادبیات سمیت تمام علوم کو سنجیدگی سے حاصل کریں، تاہم اعتقادی مباحث کی بنیاد کو خصوصی اہمیت دیں۔
آیت اللہ سبحانی نے قرآن فہمی میں علمِ کلام اور فلسفے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی انسان سے قربت اور معیت کا ذکر ملتا ہے، جبکہ علمِ کلام میں یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ خداوند متعال جسم، مکان، جہت اور زمانے سے پاک ہے۔ ان دونوں مباحث کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے کلامی اور فلسفی اصولوں سے واقفیت ضروری ہے
انہوں نے الحادی اور اعتقادی شبہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دینی مبانی پر فکری حملے ختم نہیں ہوئے بلکہ مختلف ادوار میں نئے سوالات اور شبہات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان کا مقابلہ محض جذبات سے نہیں بلکہ مضبوط علمی استدلال کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے حوزات علمیہ کو ایسے ماہرین تیار کرنے چاہئیں جو جدید شبہات کا منطقی اور علمی جواب دے سکیں۔
آیت اللہ سبحانی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امام نے مختلف فکری اور اعتقادی مکاتب کے مقابلے کے لیے ایسے شاگردوں کی تربیت کی جو مناظروں اور علمی مباحث میں اسلام کے اعتقادات کا دفاع کرسکیں۔ ہشام بن حکم اور دیگر شاگرد اسی علمی تربیت کی نمایاں مثال تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی عقائد، احکام اور دینی معارف کے حوالے سے مختلف سوالات اور شبہات موجود ہیں، لہٰذا حوزہ علمیہ کو مختلف علمی تخصصات کے ذریعے ان کا جواب دینا چاہیے۔ بغیر تخصص اور مضبوط علمی بنیاد کے جدید شبہات کا مؤثر جواب دینا ممکن نہیں۔
آیت اللہ سبحانی نے حوزه علمیہ قم کی تقریباً 105 سالہ علمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حوزہ نے دین، اخلاق اور معاشرے کی دینی تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تاکید کی کہ وہ اپنی علمی تعلیم کو سنجیدگی سے جاری رکھیں، باقاعدگی سے کلاسوں میں شرکت کریں اور اعلیٰ مراحل تک تحصیل کا سلسلہ جاری رکھیں۔
تقریب کے اختتام پر مؤسسہ امام صادق علیہ السلام کے متعدد طلبہ کی عمامہ گزاری بھی آیت اللہ العظمیٰ سبحانی کے دست مبارک سے انجام پائی۔










آپ کا تبصرہ